ام اہرت وجار
مصولانا سی رجلال الری نگم ری
ارت اوراس کے احکام
رت اورچاد
ارت :شا یطاورا<کام( موجودوحالات کے میں منفظرمیں )
چہادادراں کے احکام
چماداورا سک اقسام
محان ین سے باد
چمادکا اق اس گار یت سے ے
چہادکی تیاریی اورا سکی خرن وغایت
مقاصر چار
فتخم ہو( زا یآنزادی بای رے)
اظہاید یی
چہادے امام
وپ چھاوفش کئیں ہے
جہاد سے ای کت الا ضروری ے
خی را سلائیر یاست شی ایل ے
رت مضاشن
ٹیل لفظ
ارت اوراس کے احکام
رت اور چباد
ارت ۔ہ را کی اورا<کام (موجودوحالات کے ہیں منظرمیں )
امسلائیر بیاس تکا قیام اورانجمر تکاوجب
چہاداورائں کے احکام
چہاداورا سک اقام
چا رامخ ہوم
چہادہاللمان
چادہامال
تن چجہاداداکیاجاۓے
ای
تا ل ار ضرم
ریف طاق ںکاقابلہ
محانرین سے اد
ادن سے جنگ کے فی میں
چہادکی فخیلت اعاد یٹ ٹل
چہاد( جنگ ) کامق اسلائیر یاست سے ے
چادکافیلہر یاست کر ےگ
جمادامام ےںت ہوگا
ریاست کے لے فوع امت
جہادکی تیارکی اور ا لکی خر وغایت
سرعد لی قاظت
اف راد طات
ریاست کے لے یفو کی اہمیت
مقاصر چھار
۱
چہادثی جُل الله
اعلا وگ ند ال
جنگ ال شی رضا کے سے
مقصدِ چھادکی وضاحت
فت تم ہو( ذز یآ زادی بای رے)
۹
کیا چپاوکفرک مانے کے لیے سہے؟
سخضعفی نی رر
اظ ہار نکاوعرہ
اتہایدین ےك
ھی اورسیاسی غلبہ
اظمایدین سط رخ ہوا؟
دورآخ میں اظ ارد نک بثارت
چادے امام
جہاوذت لکنایرے
چہاؤکب فر مین ہوتاے؟
خرن مین فر شيکغابہ پرمقدم ے
چہاد کے لیے والدی نکی اجازت
یم روالد سن کا 1
نم یدوضاتٹیں
حوق ال ہار امیت
شبادت سے تر موا کیل ہوتا
تر کےعم می دوس رےتقوق الربادیھی ہیں
۳١
۳
معیذور پر چہاوفنل یں سے
منافقن کےکھونے وژزات
نیقی معذورین
عدم استطامعت سے مہداری سا تا ہو جال ی ے
مذور گنکون ڈیں؟
اعدم استطاعت
صلایت
میرور بین کے یی ش رک تکاجواز
عد م شرکت پراضسوں
وروی
ہادے پیل دگوت اسلا مضروربی ے
ربرابا نل تکورسول اللہ کے مرکا تی بک نوعیت
را سا ہیر یاست میں جچماد
اٹ تتھا لی کےرسولوںکانموییٹگل
خر تم و کی یرت سے راونمائی
رسول لمکا اسو) سنہ
یہ :چہادکے م ضوع پردوا بھمنصائیف
١ اجہادلٰ الاسلام
٢ بج اجہاد
کنابیات
اےا
اءا
۳ےا
ےا
مس مایڈداایشنالرتم
اسلام اللتعا ٰ کانازلگروہد نا ہے۔ایلطرف ہردورشل ان اصداقت
پرایمان شی نکااظہارہوتار ہاو دوس ری مطرف اس تقیقت سے الگا رج کیا ا تار ہا
ے ےوہ اتا یکاد بن ےا سک مخالپفتجھی ہوٹی رہی ےاورا اں پر وج
اتزاضات گا کیے جات رہ یں ۔اا لکی تار مصد یں پ ری ہولئی ہے۔اس میں
ایک بڑااختزائشش اس کے سور ججہاد پر ہے۔ ایک طو یگل عصہ سے یہ ہف تقید
بناہواے۔ دورجد ید مم لف دوہ سے اس شل اضافہ ×اے۔اے ۸ بر یت اور
7 کی علام ت مھا جا جا سے اورمسلمانو ںکویک ای ہیل جواوروہشتگردقو مکی
حیشیت سے درکھاجا جا سے کس کا وہودیخون1آغا ا پارتت دترم
کہاجاتاے کہ ال عرب کے ہیک جھ قپالی نے اپنے افلال اورخرب تکودورکر نے کے
لیخ حا ل تو موں پر یور شک اورلوٹ ماد مچائی اود اسے چہادکا نام دیاگیا۔ ىہ با تل
اہلا بیتلممات ےس سا مرا واقفیتلحصب اورنگ ہن یکا نت ہیں۔ا نکا جواب گید ٤۹
جا تار اہے۔ بیس بکوششیں قائل قدرہیں۔ان سے استفادہ ہونا چایے۔ ٹل نے ارادہ
کیاکہ چہاد ۓتلق ق رآآن وحد بی ٹک یتحلیعما تکو ال ططر ھت بکردیاجائ ۓےکہان ا
کے الفاظ بیس چما دا مغ ہوم مء ا سکیا متقمدہ اس کےش را ئاء اصول وآ داب او رو اعد وضوابہا
تفصیل نے سیا ننۓ؟ جا میں اورکوئی پچواوڑ یرپ نے سے شیدہجائے ان کے پاوجود
امکان ےک رین کا الد ءگیا ہو ۔آ مندا ںکی لاٹ یک یش ہ وی ان شاءالڈر
بغرافظ ۹
نض اوقات با تگال لیے ردکرد یاجا تا ےکہ بدو رح اض کے توب
ذی نکی پیدادار ہے۔سل فکی اسے ای حاص٥ لکیں ہے۔ اس لیے جہاں ضرورت
میں ہوئیء بی ن کاب وسنت کےأھص ٦ا کیج میں مستن ای لعلم کے جوا ل بھی
فراہم ہے ہیں۔
ہمارےتقائل قدرقریم مفس رین :مین عظام او فتتہائے کرام سی مل 7
اظہارخیا لک تے ہیں تو ال راع کے ماحو لکااثر ہوتا ہے۔ می ہا ال فطربی ہے۔اب
حالات می رمعم و خی رواٹ ہو ڑکا ہےء اس ےت اوقات ا نک یی لا طائل اور
دور کاو ہوئی ہیں۔ ادا موو بھی اس سے سی نیس ہے بیشن اھوں نے
.7رآ رعدیث اوران ٤اا را تک وضاحت*کلڑرفنثاق ےک ے
ال ےالن کے تین ٹیسنق ے اور موجودہعالات را نکا انبا یآسان ہوتا
ہے ال نی ےک تاب یس ان ما ثکاکای اجمال سے اور نیل سے دک رآ اہے۔
ایک اہم بات ہہ ےکا تام جہااین طرح کے ہیں :ین کی نوعی تمموگی
ے۔یجف س کال اسلائی ریاصت سے ہے او نع فی راسلائی ر یاست ےعلق رت
ژیں۔احکا مکا بف رق ٹیل نظررہنا چایے, ور ایا :کٹ ہوگا او رتوکیت چا وکا سر
پر کات ان اسان نان
ارت اور ہا می پاٹ مضا شی نکی شحل یں سہ ماپ یحقیقات
اسلائیل یڑ می شال ہو گے تھے ان پرسترہاھار ہما لکاع صیگزر کا تھا ئن ان
کی تیب وروی نکی طر فتوجہ نہک تھی اب اللدتعالی نے ا ںکا موق عطافرمایا
سے۔ میس نے ان پرنظ ال ی گی ےاودان سا حرف واضافدکیاے۔ب٢ئح نت ےکنوانات
کحت 272 ہے۔ ال طر ئن لکنا بک صورت نپ کرت کی مات
حا ا4 لہوری سے
0ت چاو ےتحلقپض ایم سال پراغی رسلموں ےتعلقات اوران
کےتقوق یس شک سے۔الن می چجہاداورال کے اجکامء جنک کے1 داب جنگ میں
می رسلمو ںی جشرّت.ذمیوں کےتقوق ءر یاستی اموربیش ذمیو ںکی خدماتذمیو ںکی
حباد تگال اسلا گید یاست اور ٹن ا(الّوا بی نعاقات یی ضوعاتشا ر5 یبارت
من بین کرو سے عد علق کے اکا مکا پیںمظر بین ہواے۔ا کا کا
اگ ریز یت جیا ہو چکا کت
جہاد کے ذیل میس دارالاسلام اود داراھر کا سوا بھی اٹھایاجا تا ہے۔ ال
عاجز نے حقریقات اسلا کا یماح شی موجودہ جن الاقوا ئیاحالات کے میں مظر
22 بس نگل ے_
ٹین نظ تاب میں انم دضوعات پر اوت رر سے دنن ال ےکیکشش کی
گے یاان کے ھانے پراکنفاکیاگیاے۔
ماد پرگنشگوکر تج وت اسلا مک یپتت موب یتحلی ا تکو ٹیل نظ ررکنا ہوگا۔
تن حیات انسا نکا فطری اود جذیادکی تن ہے جو انسان اتال کی اس ز مین پر جا سے
ا لکاىظ ےک ہج بتک ال لک مشیت ہے وہزندور ہے۔اسسلام اس کے اق عکوسلب
7۲ 7 ار ا
ے۔ (الانعام: ۱۵۱ء:٣۳) عرل والصاف 7ے کر معاشرہ 1
اس اس ے۔اس کے لی فو تی پردوست درا زی ہو نے 2 اورا'ی دامان بن نہ
رو سکگا۔(ملا ہو :اسلام۔انسانی تقو کا پابان۔ل۵٥۔٦٣)
اعلام فسادفی الائش کے مخت خلاف ہے۔اس لےکوگی ایال بس سے
زین میں فاد ےہ زا یکر ل تم ہہ انسان اقی صواب دید سے راہن لت
کر کے؛اسلام نے ا کی اجازت کیل دئی ے۔
پیشلفظ 1
نف لوک یغاب ت۸ رن ےک یکو .2 الام نے یش اپتے دفاں
ٹس جن ککی ہے۔ ا کی جنگ اقدائی می ھی مان یا ددستننیس ہے۔اسلا مکی
تقلیمات می دفاگی او اقدائی دوٹوں رح کے جچہادکا شوت پاباجا تاہے۔ ال نے
ریاس تکواپنے دفا ]جس جن گککانعم دیاہے اود بین بای ےکا قدائی جہادکن عالات
یس ہہوگا۔
ایک می م وضو پرمتعددنصائیف ہوںلو قاری اکومعلوما تک یگگرا رکا اضاں
ہوتاے۔ می معاطہ جہاد کے م وضو ں کا بھی وا برج ب بھ یکو ہوکی ال ١ے
متفلق ا بات واحادیٹ اور بسااوقات مل فک یتش رجحات زیر بحم ٹآئیں 72
مر کی مجروری ہے۔البتران سے ججوتتا اذ سیے عائیں ا نکیا ایت ہے۔ ان شش
رای ںکااختلاف ہ وکا ے۔اس یل مید یھن ہوگا کیو نکی را دی نکی وگ تی ات
ادورال کی رو ےگ مآ ہگ ے۔
و نیرگ بھچارے پیل اجرتکا ذکر ے اور ا بھی نثرت کے بعددی
چہادہوا۔ای باظا سے میں نے موجودہ حالات کے یں منظرمیں پیل افثرت ے اور
اس کے بعد چہادے ب شک ے۔ الد تعالی قبول فرماۓ اورخاطیوں او رکوتا بیو ںکو
۵٢٣0ك02/17۳
لال الد ری
٭ ارو ی۲۰۱۹
کربت اورائس کے احکام
ارت اور چماد
چہاداسلائی ریا تکاکل ہے۔ مد ین یش جب اسلائی ر یاست تائم ہو او
چہاد کےا ام دیے گے ۔ق رن مجیر ن ملف مناسلتوں سے جہاد سے پیل پر تکا
ذکرکیاے۔ایک ئل ارشادے:
ان الَيَْْ امَٹُوا لت اڑا ب ےکک جو لوک ایمان لاۓ اور جنہوں نے
5لوا فی صبزلِ الطأوليِك توق _جر تک اوراللد کے راست مشش چہادکیا وہ
رختت الووَالهُكَمُوژرحیرہ اشیا رم تک تا کرت ہیں اور اللہ بڑا
(البقر:۲۱۸) تشئے دالا اورک فرماۓ والاے۔
اس می ایمالنع ء ارت اور چہہادکا ایک ت تیب سے کر ہے۔ ای ت جیب سے
اس پل ہواسور ہل می رت کا کردا اے :ایک کان اصحا بک ستائ کی
گئی سۓےءاجنوں نے الشر کے دی نکی ما رنزک دن نکیا اورال راہ کی خْرائر اور
لیف داش تکیان :ان کی انی مت کی آودن کے از شر ت تو ان
ےن زوں تر ے:
َال هَاججڑوا پی اللہ می بش تما جن لوگوں نے ا ںاھلم کے بعد جوان پرکیاگیا
موا لَيبَو نمی ایا کڈ ٭ الشگراہ ٹس بجر تک ہم ا نکود نیا ئ۲ چی
ولآز الي رق ا فبَزلو کانُوا يَغلمْ نہ مہ خمکاناد یں کے اوراج رآ خر تتو بہت بڑا
ھ ھجرتاورجھاد
ال صَبڑذا عم رین یوقن ہے کا وہ سے کت ران کے لیے سے
(افل:ٴ )۴٣۰۳۴ جضوں ےی برکیااو جوا یا ل کرت ہیں یل
سوریال یل دوس رکی میگ ارشیادے:
0 تو إِترَبّكَلِلَنْكَْ مَاجَڑوا ِغ بَعْدِمَا ال کے بعد ہے یک ذو الک نون ۓ
فَثوَا تم یلوا 3023211130" ایمان لان ےکی وجہ سکیف اٹھائی ہے ال
بَعْيِمَالْعَفُوْرُرَحِیْم کے در کی ء پھر چہادکیا اور رک یتو قرنا
(افل:٠) تمہارارب ال کے بعد فوراوررتم ے-
ال بی ججرت عو ش کی طرف اشظارہ ہے۔ ال کے بلرمہاججرین عشہ نے
ین اٗر تک اور جہادشش حص ابق بانیاںد اورکر وا ستقام تکا توتدیا۔
سو تو شی ارشاد ےک یٹر میٹ مات کی خدیمت :ا ک7 بادکارکی٤ھاتیوں
کے لیے پائی کے انا مکو بہت بڑیی خ رم ت او رکرتے ہیں اودراس جفیاد یےکعبت الدکی
تولی تکا سب ےز یاد وب دارلحسو رک تے ہیں٤ عالما لکہالل تی اور خرت پرایمان
اتکی راٹل چھادے اق :يك کک یکوکی یت ان ہے دفو ںکو ایک درچرد ینا
ای ہے۔اں کے بحدفرمای:
الَزْنَ اڑا ےا جوا -َے تلالع ے یت وو لوا جو لان لے جمموں نے
یل اون الوۂ وَأَقهِم”أَعكَم پر تکی اورائد کے راتۓ بی اپ اموال اور
كرَحَة جن الو وَأولببتَ ہش نٹیں سے جہاوکیاءالل کےزد یک ا نکاددجراں
الْقَاِزُوْقہ یں رہم بت پھ سو یی ہے
تن قِئُهُ وَرِضُوَانِ ٤ ومن و2 فمنا تح ہیں۔ا ن کارب ا نکوابقی رت ادرخول نوری
ٹویصفلیثت 0 ارم للةِنٹَة کی بثارت دیتا ہے اود ای جنتو ںکی ج نکی
ےت اللو(لاقامة دینه) ِی بَا - 1۴ --0-ھ+0؟ 7
أععابہ) ۳۵۱حر ٹل جب" بی سر حکیجرت ہوک د وگ۱ کٹا بک ات دارقرار پا گی۔
فہرذاوںعپاذ ےا
از عَظیژہ یی ابدکی ہو گی ان ٹس دہ یش رہیں
(الت ۃ:ہ ۲۲-۲) گے بےے کک ال دی کے پائس اجنیم ہے۔
پبہا بھی ایمان کے بحعد رت اور چہادکا ذکر ہے ببھرائصل ای ترتیب
سے یآ ے۔ بیتا رت ھی سے او رآ تد ہ کے لیے انم لبھی ۔
سور ٹیل راوغدائٹں ارت اور چہادکےا جر وا بکامیان ے:
وَالَنَ مَاکڑؤا ؿ سَبٍیلِ الله ثُمٌ جن وو نے الک رہش پر تک پر ول
لا آؤ مالڑا لَبرَزْكََيۂُ الله ر 3 یا کردیے گے پا( شی موت) م رگ ےو اللتعالی
عَسنًا + ای اللة لو مَاژ الروق سح النکوردراچھا رزقی د ےگا - بے نک الشدہی
کی کی رق جع ساب وا 2
دحل مُنمَلَاترمَوْت“ وَاى الله دق ليکر ےگا سے وہ یہن دکرسں گے بے نک
لعَلِیْۂُ عَلِيْمّہ الد جاۓ والا (و کا عال) اور بردہار (ورلزر
(۵۹۱۰۸۸۱) کرنےوالا)ے۔
ارت کے وجوب اورعدم وجوب اوران کے احکام ویش ریا پرموجودہعُی اور
ٹن الاقوائی حالات کےوں متظ میں1 7 ندب فات می کنگوکی جا گی ۔الئشاءالد۔
ب چا
رت -جھ یا اورا<کا (
( موجوددحالات کے یں منظرمیں )
ال وشتدیا کےکشغع پردوس” سز یادہآزادلک ہیں۔ ان شی ساحشھھ کے
ثریب سم اک ہیں۔ملمانو ںکی ناصی بڑکی تعدادغی م مل مکش بت دا لے مالک
می رنتی سے ممسلمانو ںک یآ بادئی اوران کے ایق اراو حدم ات ارکی ایک تار ہے۔ان
پہلووں سے وجوونگا 01) یم اںظر 9 یق ے:
وہ ما لیک جچہاں ممسلمان بہت بڑکی اکشریت میس یں اور ا نکی عکومت
ے۔ ان ٹیس انڈونیشیاہ پاکتتانء کروی ہت کی ءایران اورمھ جیسے ڑآ بادی دانے
عم نک بھی ہیں اورپ ر من قط مہرب امارات کی 21 ایل اور الدیپگی
وی رات بھی ہیں سحودیی عر بکوآبادکی کے لحاظ سے اوسط درج ہکی ر یاس تھا
جاسکتا ےبیا نب ووسرے پہاونوں سےا کا اامہت بہت زیادہ ے۱۹۹۱ 7ف
آخ می رروں کے یش سےہآذر بایان ازجستان تا سان ہت رکمانتتان تزاقعان
ےآ زادییعا کے ٦ ہوں میں اپنے نل تو ء دب رتئےےقدرکی وسائل اور
مل بادی کےلحاط سے خائصی ابی تکیا حائل یی
-٢ و ما کرک چہاں مس لاو ںکا اقترا ا بن ہوگیا ےاورو ایک ول
سی افلیت بی نکر رہ گے ہیں۔ جیسے اکاین۔ این بیس امموکی نانداان کے ایک فرد
ھجرت-شرائط اوراحکام ۹
عھپدالرشکن الد اشحل نے ۴۸ ب ٹیس مسسلرانو ںکیعلوم تا م کی اوردوصمد بیو ںکک اسائی
علوم وفنون اورتہز یہب وت نکا مرک نار ہا پگ رآہتیآہت خانچگ یکا شکارہوگیا الا
عیمائیو ںکی سلطت تام ہوئی اوس )۳٣( کس مان وہاں سے کال دی گے۔
خزالہاب دوقین فی صریسلمان دہاں رہ گے ہیں۔دداپنے نی سر زان مزب
پائیر کنکیو شش شکررے ہیں۔
-و ہما تک بجن کےساتھومسلرمانو ںکی ق دم مار واب نیش سے ب ایک
دک یاال سے یز یادہ حرصہ سےالنمما لن ککیسلرافوں نے اپناوشن بنالیا ہے جیسے
اھ رب برطات ٹر اس او تی درد ان ممالک میں مسلان تو لنعلیم کی غاطریا
طلازمت اورروزگارکی خاش مشش ین ا نکی خی حالی.آزادی اوران شر پیںرے
لیے فان مکردہآسمانیوں او نول کے یی نظ روا نکی شی ریت اختیارک کی اور ہیں
رون گے نووا ضا لک کے پاشندو ںکارجا بھی اسلا مکی طرف ہو ہا اوراے
ووقبو لج یک رد ہے ہیں۔ ال طط رع رسب لکر ایک قائ اط اقلیت بن جار ہیں-
ا ںکاانداز وا سے وسکتا ےک ام کہ می مسلمانو ںکی تداوساٹھ (۷۰) کے ای
(۸۰)لا کوک ای جالی ہے۔اسل وقت دہ ببودیوں کے بحعردفسریی بڑیی اقلیت ہیں۔
مخ لی رپ میں فرانس می مسلمانو ںک یآ بادکی سب سے یادہخیا لکی جائی ے۔ا کا
انداز ہیس ٣( ۳) لاک سے پپچاس (۵۰) لاھک ککیا جاتا ہے۔ ہج فی یں مسلرافو ںکی
آہاوئی میس (۲۳) کس ٹھ(۰٦) ہار ہے۔ا نین ٹیش مسلمان یں (۰ ۲) کے
زیادہ یں اوراسلام دہا لکا سب سے بڑانذہب ہے۔آ سٹریایاجیے دوروراز تک میں چار
لاک یریب مسلمان ہُں۔
۴۳ ہندوستا نکی نوکیت ان سب ےتخفلف ہے۔ یہاں مسلمان کش ریت
ین ےہ کے گے اور نہ اب ہیں۔ اوسروں صاحب ازار رے إں- موجودہ
۲٢ عزت اط اَرَاَعَكاْ
ہندوستان بی سل مآ بادکی سرکاریی اعدادوشار کے مطاا پنددہکروڑ کےقریب سے خود
مصلراوں کااندازو ال ےزیاد ہکا ے۔ ہندوتتا نکی صورت حال اور ال یش ری
عیشت تتصیل ےآمو نو مدکی الع شاءالثد
ا لف النور ما نک کے الا ت ایک شی ےئاس ہیں :اس لان کےاحکام
ومسمائ لگا نک الک می بہوں گے ن,مما کک میں مسلمافو ںکی اکثریت سے اوروہ
صاحب اققرار ہیں ا نکا فرش ےکہ ا نکا امام یا خلیضہہھ۔ ان شش پوریی رب اسلائی
شریعت نافز ہو۔ر یاس تک طرف ےد یلیم وتز بی تکااتظام ہو ملک یس عدل د
انصاف ائم ہو ہش ریو ںکی محاش یکغال تکایٹم وہ عدود وتحزیبرات نافز ہوں اور
امربالمعروف ون یگن اگنگ رکانظامقائم ہو۔د یاست کےک برا ہکی بجی ذمردارگی ےکہ
وور اس کی تفاظ تکرے اورا ے مخ وط سے مھ مات بنانے دی ٹل ےرے دی او
اسلاممکیطر. ف گت ہےہاں ینغ واشاءعت اورا سس لنرک رن ےکا جدوچجمداو رظ یر
کرے۔ ان خام امو رر بیاست کےگوا مکافرن کہا سے اپنا ناو نف را پح مک بی
جن ممما رک میں مسلران افلیت میں ہیں النع سب کے الات جسما یں
ہیں ۔ٹج مارک می ھی شی اورعائگی زندگی میس اسلائی تلیمات پک لک آزادی
اطع سے۔ وہدگوت ان 11 ڈےداری اداک۷ر کت یں۔-ان ےس میسںکوئی
الو رکاورٹگیں سےکرنکری او نیج پراسلا مکی ایت اب تر ےک سی وجہد
کریں۔الن کے لیے اجثرتکاجوایل ہے۔ا نکی راہیش دو دشوار ا لیٹس ہیں ج نکی
وج ے رک نک نابٹاے۔
ااں کے برخلاف نل دفسر ےہما لک خائص طور پرکیونس ٹ حماتک میں
تو6 بننشول اورمشکرا تکاشیکار ہیں _ ا نگگوں می لان لکراپے
وین پل سکم پارے ہیںء وت ھن کےاقن سےحردم ہیںہ چنداحکام دن پراکیکل
کر پاتے یتو اپنے د بتی اودگی ننس اوراپتی انفرادی تکو ہائی رکھمناان کے لیے شوار
ہے ات اسلام کے اظہار لم تم 1 نشانہبن رے ہیں ءا لکی ایک نما یاں ال جن
یں الیفورسلمافو ںکی حاات زار ہے۔ ای ا ہقی ان ء مال اورزت ون مؤ کی طفاظت
کے لیے خت جدوچج کرک پڑری ے۔ وہ اپتا کک جھوڑ سکت ہیں اور سی درے
لککارں اکر سکتے یںءجالد٭آزاری اکافضا ہیں سا نے گییں_ لک
اسللائیار یا ستکا شیام اور نر تکا وجب
کے کے مسملران ای طر یصورے عال ے 33 رجہ لم :و
اسلائیر یاست کے تیام کے بعد ائیں اگ دیاگیا الردہد ینار تکرجا “ ہیں .ارت انا
کے ےی ذف ق ارد یگئی :جن لوگوں نے استعداداورامکان کے باوجودائس یی نی کیا
یں ضت چییدسنائیگئی:
اق ال توف مم الگ الب بے ئک دہ لیک جخھوںنے اپنے الک مکیاےہ
چ0 ال ویر وی یئ شی فرش جب ا نکی جان نال ہیں چتے ہیں
تن آزض لوا يسکَة اج ز اف سای زین وع یتیک اس می پجرت
فَاوليكک تماؤشخ جک ٭ وماحوث کے بے جاے؟ بی لوک ہیں ش نک انا جم
مَمیڑاہ (الاء:ے۹) ہے اوردہ کی کے ) کی ےکی بری کر ے۔
آیت یس ان لوگ و ںکا کر ے جودا اگنر یی کے میں اسلام لا ے اوروٹیں
رہ لئے دارالاسلام فی مد بین اتی سکی۔دارایفر یس قیا مکی وجرے وود ین پنل
1 مھ پارے تھے رسول ال ایی نکی نر بت اماءت اورد من کے خل کی جدوجہد
اس ےکوارانئی لک سکتے ۔ اب الن یس سےبنخ مم لن ککی صورت حال بی تبد ٹیل آردی ہے اورشھی اور
غم یآ زادیی کت نکولی مک اجار ا ے۔
میں شرکت یرم تھے و روک ستحقی ن قراررینے تھے لح ن ق آآن مجیرنے اسے
سملی و سکیا۔ اس لیک دہججر تکر نے کے موقف میں تتے۔ان کے لے ار تکی
راہ لکوئی ای رکاوٹ زیھیاجس پروہ قابونہپاسکتے ہوں۔ و اتی مشی اورد نیدی
مصماغ کے جج تک جچھوڑ نی چادرسے تے۔
ںیت سے فو راہ نیقی فی کا زکرے, جوجسمانی طور پرکم زور یا
معذورتےء با ما ی لیاظ سے سف کے انخراغباتف بزداش تک ر نے کےنفائل ہز جم یا یں
ببرأ عجگرت سے دوکداگیاتھا۔اان کے بارے میں فرمایا:
الا الْمْمَْضعفشیق می الال سوا ان جبورادر بے ہس مردوں رتوں
ژانْشاز وَالولدَانِ ا یَتطيْعوَ اور بچوں کے جوکوکی تم کی ںکر سے اورکوئی
جِیْلهً ولا کل َلْكَنُوْتَ مَبیْلاہ قَأولّيكَ راست یں پاتے۔ امیر ہے اللہ تالیٰ ان
می اللہ آن یق عَنُ* وکا الله لوگو ںکومعاف فرما دےگا۔ اللہ بڑا معاف
عَقَا عقُوران(ااضاء:۹۰۹۸٥) کر ے والا اور والا ے۔
اس یل اس با تک طر بھی اشمارد ےکر جب عالمات ٹیک ہوجا کل اور
ہر تکیصور گل یتوان سفن یھی رت واجب ہہوجا ۓگیا-
ار تک راہ ٹل ایل رکاوٹ معا 01 خر یشیی ہکا ہے کہ اگیا الہاں
کے لے بہت بادوگرمتداور پرایشان ہونے ۲یب و ہے جولوک انی خاطر
اپناؤلن اورگھ با یچھوڑسسں گے ءال تھالی ان کے لیے ماش کی صورٹی بھی پیدافرمارے
گا۔ وہ1 اس وی یرلیٹش دنیائیش الم کے نل وزعت کےکر سے دنکھھیں گے .گرا راہ
ران نغ بی جات تو الڈ انی ںاجثرت کےاج رواب سےواز ےگا:
ھن اجز ا سیل اللہ تپ پی ج اشک راہ یش ہجثر تکرے وہ زین ش
رش مر عَنا کیا سک ومن ڑج (ڈھنوں کے الم رہ ےکی بڑی جکناودجطرح
بی ماجڑا ال اللوۃَ رس لم تقر کک وسعت اورکشادی پا ےگاء جنس ال ری
هھجرت۔شرائطاوراحکام ۳۴
یُذْوِقٌه المَوْثُ فَقَد وَكَع آ زط عتی وید رف بجر تکر کے لے اود بل ر(راستہرجی میں )
22ص0808 9ۃ موت ا تن پکگڑ ےآ ا ںکااجر وو اب ال کے
" پاںثابت ہوگیا۔ اید بڑ امش والااورفبریان ے۔
یک ططرفتو وا رکف کے سلمافو ںکودارااسلا مجر تکا اھ دیاگیااورضری
رف ا سلائی ر یاس تک یذ مدار تر ارد لکن ردوااع ہف ادنوںکی بدوکرے ہیں
ان علاقول سےکانے جیہاں ان لم ہور اہ اور جہاں دہآزادیی سے اسلام کے مطا بی
لیو کر پارہے ہیں اورالل تھالی سے دعا می سکررے ہیں نانغ کے لی ا لک سے
جا تک ینیل پ 7 بت
وَمَا لگ لػ تُقَاتِلُونَ قْ سَبئْلِ الله نی کیا ہکا ےکہالل کرات ٹیل اور نمور
7٦ َشْکَفڈی مت ال َال وَالیعاءِ اور بے یس مردوں عورتول اود چو لکو انے کے
راب الَرذة َقوؤت5 رتا رتا لیے جن کن کرت جودھا می ںکرر ہے ہی کہ
ا ہس اےمارےب! میں یں مق ےنال دے
ِنْهُیْدا لرَةِ لالم َهلمَ وَاجْعَل یس کے ہاشھد چم پھ پلک روڈ رہے ہیں اوران
کا ِن لَدُنْكَ وَلِگا 'وَاجْعَل لَکَا ِنْ اس ے جماراکوئی ماق ف راپ مکردے اور ہمارے
َُنْكَنَمزان(شء:٥ء) لیے اپنے اس سےکوئی مددگارکھ ٹاک رورے۔
انس بکؤششوا ں کے بعرکھی جومسلران وارلفر اداد ارب میں رہ جامیں
ان 040-2 اداد الاسلام کےمسلمانوں کے درمیان اسلائی ات موگی:
لات اق نز ہوک ۔ ال سلسلے کےا کا سور ہ٤ انال شیل بیان ہیوئے ہیں۔ارشادے:
ان الَيَِ أُمَکُؤا وَكَاجَڑُوا وَجھَنُوا بے ئک ودولوک جوایمان لا ۓ کجضنھوں نے ارت
07 اي ق سیل الله گیا ادراپ مال او جان سے ال کے راستے میں
چہادکیااورووجخوں نے (ان مہا جربینکو) ہد
َال وا َنَمَرُوا أوَِك َعْظُهُمْ اوران اکا مدکی (انصار) ایک دفسرے کے ولی
لآ بَغوں ٭ وَالَيمَْ اذا لن ہیں۔رہے دولوگ جھایمان لاے کن ججرینش
یَاجڑؤا الگ شن وَلَائاخشن شی کتوان ےتہارارشتولایت نہوگاجبک کہ
2 ھجرت۔شرائط اوراحکام
خی بیھاجڑوا * ان اشکنظےز وخ پی ہججرت تکریں۔ہاںاگرووقم سے دین کے معالے
الشن فلکم الئغز ال کی قو بر مم مطب/ربرآوقجارے لے لازم ہےلمانکی
بینگر و7 وَبَيِليُمْ بِیعَائٰ+ وَالله چا موکرد۔ الہت کی الوم کے متقاٹ لے یس ا نکی مدد
تَعْمَوْدَہُمِڑڑن ھی سکرو ےجس کےاوہارے دریمیان معاب اکن
(الانقال:٢ع) ہویم جھ کرت ہہواللداسے دید ےل
انو نات کہا جم بن اود الصارہ جوا لائی در یاست کے شہرکی ہیں ءان
کےدرمیان موالا تکارشن: مان لان وارلکفر ک ےکی یں ان سے والا تکا
رش نہ وگا۔ولایت کے عفن انصصرت دہمایت کے ہیں۔ا اک مہو ون ہے۔ا سک ایک
دہھیگ ے ےہا اس میں ب بات شا ر1 سے کردا رالاسلام ان کےجذ نا او رن داش تکا
زسم دا رنہ ھگا۔اس میں ای افشواد ال ہیں۔دطولر یاستول کےدرمیان وراش تک این
بھی شہ ہوگا۔ الہ اگ روہ دی تام کےحت مدوطل بک یی ںتوضرور ا نکی مدکا
عایخے گی .0 وم کےخلاف نہہوگی ش سکادارالا لام سے مھاہد ان سے ت٠
یڈ الجثرت کے اکا ماورا نکا یل منظر 0 الورسول اش یز
نے اعلا نٹ رمادیا:
لَ مِجْرۃ َحْد القٹحت مکہ کے بعدججر تی ے۔
کک ے بعداثرتکاوجوبأخ ہونے کےتتلف وچوہ تھے :ایک یکا ب کہ
وارلکفر: مد با بلکردارالاسلا مکاحصےہ٘ن گیا۔دہاں ےرت کاکوئی سوال بی یں تھا۔ مگ
کہ اںکی مز یٹیل ا یکتاب می ںآ گےآری ہے۔
الک مز یڈیل ا یناب می آ ےا ری ہے۔
کہ بفار کاب الجہادہ باب وجوب النفیر ومابجب من ا جھادوالدیة سم م>تاب الامارةء
باب الس بات بعد کیل الاسلام دا جہادىٌ
یہ ووبی بشرں سکم : جلدے ؛جز ء۶٣ بء۸
ھجرت۔شرائطاوراحکام 2
1 7ک دس یو یگ 7ھ اس وت دارالاسلام مد کو اخ ااطانتی ات
ضردرتگگی جوا با تکا تقاضاکمردد یگ کہ باہ رک سل مان دہا ںپچنچیں ءال سی طاقت
ُل اضافےہٴواورد نگ : پلنری ۲1 جوجروچرہوری ےا ال اض او نے
ا کی سرک دجہ پگ گکہکہ کے مسلمان ال لک رکے در میا نکچ رے ہو ے
اوران کےلم تما نشاند بن ہو ئے کت .ایس دی نکوک اون پل کےموائح
جا اسکیئیں تے۔ا نک ید ناضررت گی ؟ء0..: 2 ائیںء جوع رز اسلا تھااوروہاں
روکردی نکوائچھ یر بھی اورآزادئی سے اس ین لک بس اوران ماب وش داد ے
بھی فو ظارہیں جن می دددارایفر من اج
کہ کے بحدبصورتحال بد لگفیء اس لی ججرت بای یٹس دی ۔کیااا کا
مطلب بی ےکہاجرتکا وجوب پھیشہ کے لیخ ہگیاہ اج بچھی اور جہا ںی بھی
اط وس ا 0 میں کے :ارت ازم ہوگی؟
ذف یگیاردے اب دارال رب سےوارالاسلا مجر تکرنا واج ب یں سے
وك این تمرح البارگی:۹ء ۱٢۲
می نی لصوم :ا ر٦ نتقل۷ تی س٣ت جھانیا 47 سےدارالاسلام جور تی یں ىہ
راکرد ۶گ سان ره گر شگگتو۔ سفنااا عل خرس الم ختان
ذَلِكَ الوَقتِ لَوْلَا ذَلِكَ ا ذَمَھُمْ عَلی تركا۔ا ما اقرآن:٣/ ۳ ای میس اس با تکی یل ےک اثرت
اس وتہف شی ءاگرفرنش نون تواس کےت رک پراوڈ تا یک عل رف سے مذیصت نہہوتی ای سلس لام می سآ کے
گت ہوں:وَهذا یدن عَلی الّيٍ عَن الّقام بین أَظہر الشرکین لِقولِهِ تغال الم تکُن أَرْضْ
للّهِ واسِحَةً فُٹھاچڑوا فِہا وَمَذًا يَدُ عَلَی الْخْزوج مِن أززضِ الشَكِ إِلی أَيَ اض کَانَٹْ مِنْ
اوض اْضلایم خضل ۳۱۳۔(رردضاحت اس بات پرد لال تک گی کش رین کے درمیان سا ن٤ انح ے-
ا ل کہا توالی نے صاف مایا ےک :”کیاالل رکز ین دن نپ ٹج یی ا سک طر فججر تکرجاتے ا ںکا
مطلب بی ےکیش رکین کےاق ار ےئگ لک یبھی اسلائیملکت می تل ہو جانا ضروری ہے ) جضائ نےبج”ں
تموئی اندازش نکی سے ان ےخیل بتاے ےدارا فھِ ب سے دارالاسلام پر تکووہ شابد چردور یل ضروری
بت ہیں۔اگراے ڈ7 نی نیک رات ۓےکیاجا کو مو رلا ٦ راے ہے ہمآ نک ہے۔واللام۔
۲۲ ھجرت-شرائط اوراحکام
دن راہب فللہ کے علاء نے اکن سالفا کین کیا ہے۔النع کے تزد یک
دارالھر ب سے دارالاسلام ار تکوئی وی ابھ میس ہے 7. ,0)0( 27 ہے۔اں 71
ایپ دی خودف تن ید کےالفاظ ہیں۔ ان سے یں معلوم بہوتا اکراںگ کا کسی اض
ہت گان ین اس کے بعد بای کیل رگا۔
حاففظائی نکشنور )نس ءک یآ یت ے۹ کےذ مل می ںککت ہیں :
”کرت ت کےگ مال کہ سے م ید ارت تی سےییں ہے۔اس کے الفاظ
عام ہیں 0+ - ,0
اور ے۔ ۵9ء جثرتتک/ر نے کے وقف میں ہونے کے پاوہوداگ ارت شکر ےق
اپنے اون مر ےگا اورترا کا ھرنکب ہہوگا۔ ای پر اتا سے۔آ یت صا خآال پ
ولا تگرتی ے“ اس
اںک دی کل سیت سے۔محعفرت معاوی روابی کرت ہی ںکہ مین
نے رسول ال الم وا شاظرماتے سنا ے:
لا تنقطغ البزڈ حقی تنقطع القونَڈ ججرتکاسلملہ ین واج بک فک توب کاصطد
وا تقيلعغ النَْیةُ حَقى تَطع الشُنسْ ”فحت+وچاے اورآوپکا دروازہ بندن ہوا جب
روط ۶ سرواصلارب عظروور
اس کا مطلب بی ےک اہر تکا ما دک ے۔اس کے بحدسوال پیراہتتاے
کچ لا حجرة بعد الفت کا مب کیا ے؟
۴ ملدوقیءلماء کے جوا نے سے کت 0 پکددار اھر - سے وارالاسلا م رت
کرن قاصتکگ باتی ہے۔اس حدی ٹکا ایک مطلب ہہیا نکیاگیا ےک ہک رن ہونے
کے دوہ خویی دارالاسلام ہگ یاہے(اب وہاں سے اثرت نہہ وی ان 20 کہ ارت
کے ای نکش رکف ال رن اجلی :ار ۵۴۲۔
مہ اہو داد کاب الجہادہ بابث الھجر 8 ھل انقطحت؟ ٦٦/۵:
ھجرت-شرائط اوراحکام فی
دارارب ےہول یہہ یس بیمیا نگی ا لیاے 07 +]/ ہوخا لت
وہاب کیں رتی_
اہ گر لک ککتے ہیں :دا اھر رب سےدارالاسلام وارت رسول اسم
کے عپریس فرش +وئی دہ قیام تک باقی سے اورغل ے۔ الیت کہ کے بعدوہ
انھثرت ن٥م ہوئی ورسول اش پیم کے ئل قام سےقصد نک جالپتی اب جن
دارالھرب میں اسلام لا اس کے لیے دارالاسلام پر تکرناواجب ہے۔ دا اھ رب
یں ودقام یز بر ےکا الو محصی تکاا رکا بک۷ر ےگا تہ
این قدا لی نے پت ججر تک یت رر لیف الن الفاظا می۲ کی ے:
الْخْرْوخ مِن دار الْگفر إلی دارِ -مجہرت۔دارا رلکفر سے وار الاسلا مکی طرف
الإسْلام. پل جانکانام ے۔
ال کے دق ران وعد بی کی ری یل فصیل سے اس م وضو پر ب شک
ہے۔ا لکاخلاصہ یر ےک ہر تکا 00000
عام تلع کی بی راۓ سے ںینس وکیں 0202 ةبعدںالفت حکا یاد رکہاے )اب
حثرت ُم ہیی نان ہماری دی لآ ات کا اطلاتی ے۔ا یں سےمعلوم ہودنا ےکہ میم سی
دور کے ساتھ فص سکیس ہے۔اس پر ولا تر نے والی حدتشیی بھی ہیں ا سکیا ہر
بات 00ھ وت کم ا تن ے۔لا ہجرقۃ بیع الف کا ہوم بے ,2
ہوکر اسسلائیمملک تکا حصہ ین جاۓ دہالں سے ہجھرت نہ ہوگی نضرتعفوان* نے
رسول الثم اٹہ نے ف با اک راب بجر تچ ہوگئی ہے۔ ا سکاصطل ب بھی بی ےک ہبہ
ےار تکا سمل نتم وکیا ےار تکغا رک للملل تکوکچھوڑ در ہے ٤٥ع جب
ککوئی شک انز ٹین شال کنا تو کناکی کرت نر انان
لا فووئی شر مسلم تاب امج ہز ۹ہ ۱۰۵۰۱۰۳
گے ایک نگ ری اج کام ارآ ن :ا۸ ٣۸۳
۲۸ فجرہ شراتطاوراءگل
اثرت ہہ وگیء برا ا ںکیطرف ٤رت ہوگی۔ لے
اس سےات بات ان ےلچ بورعلماء کے ند پیک اجکرت يہدیرسالت کے
وا یں تھے ےت جا تک شی وی ین ڈمازنے این نآ شکن اہین
2 میس دن پرقائم رہنااوراں لان کے ہے جن شی گی سان ان
عالات ےدو ارہواورکوئی ار یںمللت موجودہو جہاں ووججثر تکس تا بہولواےا رت
کرجا چا ہے۔
اس پودیی خی لکوساتنے کوک بید یکنا چا ےک کیا رج کے دوس جوم سلمان
می ود راف ر 22 کےسینے یں اورد دنچ یآ زادگ گرم ہیںءان پہدہال ے
رت ازم قرار پا ۓےگی پان ؟ موجودہ عالات یل بظاہران کے ےار تکولانم
تراردینادرست نہہوگا۔ال لی ےک ارت اس دقت لا زمقراردی 7“ 3:4
ی اس گی رما منف نے وار اف کےمرانوں 3 نے ررفاڑےکول دیے
تے۔ چال 7ی ووضل ںان ہیس عفیں ٹراردے رے ے اور
رت کی ںکررسے تھے قرآن یر نے ان کے اس عرلو وی سکیااورکہا:
الخ گن َزض اذ وَا يسک فَعقَاجڑ وا کیا الک زشن وین نیش یکیتم دہاں ججرت
فیا (الناء:ے٥) کرات
اں6 مطلب بج سے ےکھلا الما ملیک مو جودتھاء چہال ووظرت کر کے سے اور
شس کادان ان کے استتتبال کے ےکھلا ہواتھا۔ ا نکا جم تھا اراں کے پاوچودتھوں
نے ارت اخقیارکی سکی۔
آج صورت عال بی ےمُردوۓ زشن رن اخ می سکوئی دا الالاع یں
ہے۔اس میں شی نمی سک بت سے سل ما لیک ہیں با نس یسل کک میں برطاقت
1 اہن ق راب خی:, ۱۵٣-۱۴۹
فجرت شراتظاورَحکام ۲
میں ہے کہ صسلادں م وزیادلی کی چھی ٹس ہیں رہ ہیں اود ین 7ا آزادی
سےپحرہم ٹیں ہیں ان جات دلا گے ۔کوگی وطض را مک گئی اس کے ےکک رمیدر
نے
دذسری بات کی وجودہ جن الاقوائ یتو این کک تی کااپنا مک ککھوڑنا اور
دوسرے مل ککاشہکی بنا خاصا یل مک گیا سے۔اگرکوی خر 0 9
پر توم کا نرک ؤ نکر :کن نظ ٦ا ہے۔ ری کل یہکموں سے یکھا جار ا ےکنلم
وزارت ےکر نے الف ےپ کی جن پٹالی ادا نات با
ترک وش نکوغیرقانو نی مھا جانا ہے ۔جس ملک می ال نے پناہ لی ہے اس نے اسے
قاودی طد پراپناشم لی لکیاہے۔
ان حالات یں مظلوممسلمانوں پراہثرت لازمس تر اردگی پک روہے
کہاجا کا الد جیب اورک زم وجصت ےکا لیس اورا تن قاص تک خبوت ریں۔الشقالی
انکی مددکر ےگا۔ان کے ون دسول ال خی او ساب ےک راع سے
دو رحاض رکا یی ک خوش لآتندپپلو ےک دنائیش انسالی تقو کا ا ساس بڑھدہا
سے۔ا نکیا تفاخظ تک یکو شی یھی ہو دی ہیں لم وب ےخلا یی یآوازبلندہوتی
یت ان اتک 0 622 تک میں بھی مزب یآز اد یکا تر ا پھر باتنے
صورت حا لی ای اورخو لگوارتبد ٹیک یی تی بھی ورک ہے۔ پچھدبعی زی سکسجن
مما نک یش مسلمان پذ یآزادکی روم ہیں ایس ا یک یآ ایل جائے اود پل
گراسلام نکر گن
موی ملکوں میں 'مسلمان نول کے عالات ال لف ہیں ام کل
می اور ورپ کےمما کک برطاتب فرا اس اور ھی فیرش آزادگی مر ین کو انبا نکا
نیادک انت ئ۴ کیا جاتا ہے۔ یہاں کم سلما نو لکو نیج یآزادگی عائعل سے۔ملمان
سھ ھجرت۔شرائطاوراحکام
اپنےمسلمان ہو ےکا برا اعلاا نکر کت ہیں ال پیل کا 21 یں صل ہے۔ الف
مالک میں اسلائی عبادات علاشی انجام انی یں۔ !مسا جدرموجودیں اور مساچر
تو دی یی ےالن "ا اذالت الادفنا زاظم ہے جودد ری ن کا بہت بڑاشعار ہے بیمساجھ
وت اسلام کے را کی یں راو ںکوادکام شر اعت کے طال ایق یی اورغاندائی
زندگی/ 72 نی ہے و ا گی خدمات انام دے وانے ادارے اور
یں موجورہیں ہلان د یی کا اضر کت ژیں الام پدد یراو نین خی
ابی ہے نئاوج ور ہے کےکن ا کال میس اس میں 08 .ھ7 آن یراور
57 اشاعت ہوری سے۔کوکی فیس اسلا مکوان کا دمین باو رتا تنا سے این
یں کے نی کے ا ا نک ےکی آزاالے۔
الہ ٹمالک مس اسلا مآ ہتہآ ہت پیل را ہے اوریلڑوں اق اذاالن کے امنۓے
می سآ تے جار ہے ہیں۔انمما نک کے سلمانوں کے لیے اپنا ئل یھو نا اور رر تک ر جانا
موجوروحالات شس درست نہ ھگا۔ یدکوت ون کےپڈھایظر۔ سے ایک ملطاقدم ہوگا كِ
علامسائن رب الگ نے مر تک یودن با نکی ہیں :
(۱پدارا رب سےدارالاسلا مکی ططرف ٤چثرت-
(۴) آ وٹ جہاں رتا دہاں بدعات مھا انی اوروہآئیں برل ش رسک ہو
اچم وذکردفسری بل نی انان ۱
(۳) آ دی یکااپنے اس علا کور ککرد ناجہاں ڈرال معاشش پمترا م کاخلبہو-
( )ایک کوڑد ینا جہاں انسا نکوابتی جا نکا خطرہہواورا ےنت جسا ی
اذ تی اٹھای پر ی ہوں۔
(۵)ارسی "وو وڑکر ہا ل ححت وتندرقی شددرنقی ہ وکیا برفضا اوریکحت مندر
مقام پرچلاجانا۔
فجرٹ -شرائطاوراعکام 2
)٦( اےےعاا ۓ مکوکچھوڑد یناچہاں ا نا نکاما لتفونا ہو ل
اجرر کی ان شکلوں می مہ یشکل کے عددوہ باقیشکیس دہ ہیں ج نکا اطلاق
اسلائی ملک میس ایک ججلہ سے دفسری جل شی نی ہوتا ےتا اک وقتزی رٹ
ےت جہاںملدا رافھ رر 2 واراللخر سےدارالا لام ار تکا اضق سے ہے مہا ن قد امہ
تی نان نی سے بم کی ےک بجر تکب واجب ہولی سے اورک ا ںکا
بب نل ءجتااورآب يا ا با رك ے؟
رما ہی ںک ارتا ںدقت:اجب:وعِالی ے ج بک ۔آ دی ٦رت نے
کے وقف میں ہواو بجر تک رسک ہو ۔ چجہاں دہ رہر ہا وہال دی نکااظہارداعلان نہ
کک پاے یاہکھاجائ ۓےکواج بات دی کا قیام اس کے لیکن نہرہوہ ا صورت میں
کفار کے درمیان رت کی اس اازت نہ وگ 09ھ آن ئید یامت ے:
الع توف خ الک( ال کا الیضھون کےآغاز مل موجودے )۔
ات لکدداجبا تد یکا تام واجب ہے اور جب ارت ان کی کے
واجب ہوجاۓتودونحی واجب ہوجا ۓےگی۔ف ےکا اصول ے :ما لایتۂ الواجب الاب
نیررا ےت(“ ور کےاخیرواج بک کیل ضہود وی واجب ے )۔
جثرت الن لوگوں پرواجب یں سے جواسی من یا ضف جسا یکی وجے
ارت کےموقف میں نہہوںء تیم لیس یا خواٹیان اورچے وی رہ ای رہ ران لوگویں پر
بھی اہرتواجبے؟ یں سے ہہودارا از میس ام رود وں اوردہاں ےلنل نہ سکت ہویں-
الک یلق رآ نکی برا یت ے :و 1 ستَضْعَهْهُیَ مِنَالإجَ وَالِتمَاءِ (الناء:۵ے)-
ا لیے کےافر 9ت ائی ںکاجا سکس اک یریت اع کے لیے
لک این ۶ری اگیء اضکام لن رآآن: ام ۴۸۹-۴۸۳ این عع ری نے اس کے ساتھد دی اوردیوی
مقاصد کے لیے اسفارکی وی تپی بیا نکی ے۔
اک ,20 کاجخر ت کا من کے یہی ے۔
19 مان قدا لم ار بات ہی ںکیچرت ان لوگوں سال اجب کان
سے تن جھیں پور تکی قدرت ہواور ود اہر ت۷ر سکتے ہیں بین دارایٹر نیس ا
درین کے اظہاراود ا لکی انقام تک احجازت ہو ایت ججرت ان کے لیے جب سے
اک دای ز یا نت شی رکاش ےگ ےتا ادا کاب ھپ نال کی
افرادکی طائت ٹل اضاذہ دہا نکی وک فی سلمون کے ین
اورنس گرا تکود بمنانہ پڑے۔ ارت الع کے لیے داجب نہ ہو ےکا دجہیہ ےکہ
وو وارئفم میس رج ہو دن را م رہ کت اورواجبا تید نا پل ار سکت ناس
سے میں اکھوں نے حر تعاس زشی الد ع راو ری تیم انخامکا عالددیا ےک ے
صخرات اسلام لا نے کے بجدیھی کے میں رر ہاور یل ار تکی۔ح
رسوگ اکر ٹا کے چا حفرت ع اس" بن عبد الطل بکا شا رق می کے
رداروں یل ہوتاتھادو رجا ہلیت شی سح ترا مک یآ بادکارگیااورعا جو کو پا پانے کے
ذمدارٹے-۔ جن بدرٹ ہف رین ئے کر ہے۔ تھے اورک رفرارہوگے۔فدیدرے
کرد بائی پاگی۔ نگ سے پیل رسول الل ہاب نے رما تھاک ہاگ رس یکا عباس سے
موا ما نا ا لی یک ےق ہیدہ امو رک کا سے کون رواییت
ے 222 پان کلک إجروواسلام ےآ تے۔ اک ردایت ہے لت ضات تر کس
اسلام لا حاذالت اوررواىت ے ےک دہ ارت کلت اسلام لا گے ےکر اپنے
الام کاانھازکی سکیا تھا ۔کہاجاتا ےک د ہمہ سےسش کین کے عالات رسول اہم
الو ریا اکر تے۔آپ کانقعا تک ر یو مروروشادہاؤں ہو تے۔ بک بات کہ
ا ان قدا فی ۳ا ۱۵۳۔حافظڈا نے اختقمار کے ساشح ہہ ٹف لک ہے۔ سے لباری:
۴۰۰۸۸٦
ھجرت۔شرائط اوراحکام ٣۳
ان ھا وجرےممرے رو اسم کل 011 مین نی موجودے ےوہ
رر بتکرناچادرے چھےتگر نیسای نے ان کیک 7 ہت
ایک ددایت شی ےک ہآ پ نف رما یاکہپچاجان ! آپ جہاں ہیں دڈیں ر ہے التعاٰ
آپ کے ذر یی نر ت کا سلملڑخم فرما تۓےگگاء ضس طرح اس نے خبو تا سلسلہ
می مطرلا مکیا۔ححقرت عپاں لی یس مر رے او 7801 9 پیل ارت
کی
تیم نپ ہداڈ انا قد الاسلام ہیں کی و یں کے بحدتی اسلام لے
آے۔ ایک دودایت کے مطاب ق1 پ اسلام لانے والنےاتالیسویں (۳۹ شس تے_
ایک اورددایت می سکم ایا ےک۔معخر تگھ رر کےاسلا ملا نے ےل اسلام لن ےآ جے
ان اپنے اسلامکوخفیرکھا۔دداپے تی ہو عدیی کے جیوں او بیو او لک یق گی یکرتے
اوران کے اخراجات ہرداشتکرتے تھے۔ اس وج سے النا 7ے میس ا نک بڑااترام
تھا۔ اکتھوں نے ار تکا ارادگیا و رین کہا آ پ ارت نر یلق ٹیل رہیں اور
اپے دن پر٣ لک میں ۔کوئ یآ پکؤنلیف پابانا چا ےگات9 ہ مآ پک تفاظت ٹیل ایق
انیل اڑادیل گے۔چناں چوہملہی ٹل رہے۔ ن٦ تھ یی اکر تکی۔ ایک ددایہت
سے علوم ہوا ےک کے ھپ کک د+مکہتی شل رہے جب د یداثرتڑتوان
وم کے چا یس افرادان کےساتھ تھے رسول الڈر پٹ پیم نے ا نکو کے لیا اور
اوس یا
ان داقعات سے بب استرلا لگیاگیا ے ردارالامسلام موجودہواورجرت فرٹل
لاہ ای ندال ہر الا ستراب ڈ مترفنۃ الاصحاب :۳ ۵۸ ۳۵۹۰۳۔ ان ای اسدالقاب:
۵۱۱۸۳ ۳ء ۱۹۳۔اءک نل الاصابۃ: ٣
گے ای ععبرالبر الاستعاب :۸ ۹۹-* مان ایر اسدالفا یت :۵ ۸ ۲۷ ۲-۳ ۳۔اء نتر
ا(اصا ۳+٣۲ ٦۷۱/۷٦:
۴٣ ھجرت۔شرائط اوراحکام
+وجا ۓےوچھی اگ ری مسلرا کا وارلکفریاداراٹھرب ٹیل قیامء اسلام اورمسلراوں کے
مفاویل وقواس یراجثرتہفرنش نہ ہووگی ۔ ای طر کیپ کے لیے دارالھرب نی وین
پل اورکیت ہق کے موا مرو برلگُ نظررین اں ے۔ ایل زم ضہہ وی سظاہہر
ہے ججہاں دارالاسلام موجودتی نہ وقداس کے وجو بکاکوئی سوالجیس پیدراہوتا-
مور ما ئک یں سلمانوں کے یراول بھی ہ ےک جآ زادی نہیں
می ےاو رج ٹیس اور موائح حا قد سو ا ایک فلت
اورکاتاھی ضا کی گنیس اسلام کین می اتا لکمریں۔ اسلا یش لیعت
کےمطابتن زندکیگمزاربیی۔ اٹل سے اسلا مکی برترئ یکا شوتف راپ مکریں۔ ا تھالی
کے کا ظفحت نوز انف ہك تی
سےالن شاءانڈ شوقن کے امکانات پبیداہہوں کے اور اد کےد نکوفروُعا ال ہوگا۔
۱ ا وت پرایک بات پیک جا سکم اورک ی عاتی ]الام می نظام کے
شح کوک یکی زندک یکوپن یش سکرتا کہا کی خطاکردہ تل اورموا نم ولیک کن اپتے
لین خی سوا جھے اوران ارگ زار بنارے۔ ووغلبراور ربلندی چابتا ے اورالل
کے لیے چہادکا اھ دتاے۔ ۱
.---:. یت ےکا سام فلب اور ۰ پلنری چاہتا ےکا نٛ س خی راسلا نات
بک ا ف2 نین ہو اور دہا یکا رفگات جار بو اور ا راہ مل
نا قائل برداشت رکاو ٹگگی نہ ہوتو وہاں سرت و وم نٹ مس چاد
بہوگا۔ رسول الد ٹپل کے ذر بے سے جو القلاب یم رما ہوا ا ںکا آغا زی تی
اوراشا گی قوت سے ہوا ۔آپ نے فرأفردا بھی الش کا پنام ایارک ہکیگیوں اور
کوچوں ےھ یآ پکی صدا ےب بلنعد ہوٹی رہی۔ ج بکک ایل مہ نے وحو تکی
0017 ارد ےآپ کے اتراع ال کا ات کے 000
ھجرت۔شرائط اوراحکام ۳۵
اہر کیا اورنہمکہ ٹیل رتے ہہوے الن سے جن گکیا۔ مد ینریس اسلاگی ریاست کے
قیام کے بحعد جنگ کے اکا ماوراس سلسل کی ہدایات نال ہوٗیں-
رن یر ےک ہمی بھی" جا اعم د یاتھامیکن بی چہاد سیف نیہ بلہ
نجہاد پا تھا دوس مےمفففوں یش پیگھزنوار کے ذر بیج 0 یں تھاء بل داایل کے
ذر بے چہادکا اھ تھا۔ارشادے:
۲ طع الْکْفِرِْكَ وَجَاهِلْہُم یه یں تم کافرو ںکی بات تہ ماد اور ا ت رآن
جھَاڈا گبیژاںن(افرقان:۵) کے ریت ان سے چہادکرد۔ بڑ اچہاد-
اس میں صراحت کے ساتج ھک امیا نے 8 یں وح اوغا ّ راہ
سے میرک نشرک اریت پت کی ططرف نے جانا جات ہیں ما نکی بات نہمانواورق رآن
کےذر لیے ا نکا متقابلہکرو۔ ال سکا مطلب بی ےک ایک مسلماا نکفر ورک کے ماحول
یں راوئنی نات دش زج ےکا ادیڈرآن اوران کی لمات کے ذر یت جہادکیزجاری
رکا .دن ود ماع کڈ لن دی نی ولوت ول کا عم ہے کف نشرک کے حول
یس پیایکنشکل اوصبرآز امام ہے۔ اس کے ا سے ماد کہ ایا ے۔
امام این جج یف مات ہیں:
نی ددرکا چہاد یلم اور بیان کے ذر یق تھا۔ اور مرن جچبادگی لب اد کے
ساتجھ طافت اور ب مار کے استتعال ےکی انور 070 ہی کا بی
رسول ال سپٹ نے ول دبر پان سے چجہادکیا تھا۔ اس کے سات آ پکو پل سے
7 سے
خلا رسود وف رقا نکی ا لآیت کے ذ یگ بی کے ہیں :
”نع با“ کاقول ےلہ یہا ق رن کے ذر یی چہادکاعھم ہے۔ این زی
کے ہی ںکہ پباسلام کے ذر یت جہادکا عم ہے۔ ایک بات بی یب گی ےکہاسں یں
ا فادگی ان تی کاب الفقہ ۲۸۰/ ۳۸
۳ عجرت غرائط اوراحکام
جاد ای فکاذکر ے_ ٤ بیدودگ بات ہے۔ال لیےکیسورتکی ہے بیقال کے
حم سے پل نازل ہوکای ےل
تقیقت یہ کش نعما لک میس دقوت کے موا ہیں اد رما کو تکا کام
جاگی ےالن:ما نک کے سلرانوں کا لی نود اھ اسگت:
لال گے 7ہظر تآرہا ران :اواظا تک بی رت ہو ان کےغلاف چہادکا
رسویرم نع نل اق کی دیشت اسان سے الق جاڈڈ
نے الک سےایک تع لنممون میں بج شکی ہے ا کا خرکی حصہ یہاں دیاجا ا
ہے۔اس می ںای کع رب سے مو ن کا خلاصآ گیاے )-
تنم وجودہ دور کے جم ور عما تک میں آُلیوں کو شنل ز للتام7 وم خی
حاصل ہیں٠ جوا نما تک یں قیاماورآنھیں ؤشن 07 7 بس اپھمکر کت
بللہ لازم قرارد نے ہیں۔ ہندوستا نکا شارجھی ان بی عماکک یں بہوتا ہے۔ یہاں
ازروۓے دضستورتھا شہ یں کے تقو جمساں ہیں جو توق 1ری تکوحاصسل ہیں ددی
توق اآپیتوں کےبھی ہیں, بللہ ائلیوں کےتتوق کےتھزن کی دستور میس اص طود پر
ضٗی نت د گی ے۔
ہندوستان کے دستور نے بیہاں کے ہرش ہیی را سس
می سکقیدہ رہ بکیآزاد بھی ہے۔ا کا مطلب بر ےک مل ککا ہنس جوعقیدرہ
چا رک وکنا اورجھ ےجب چاے اختیارک کا ہے ۔ کیک وی رہب اورقیدءکا پاینریں
نا گیا ہے۔اسے اپنے نہب کے مطاعبادت اور لکرنے اود می الیم اورڈڈی
ادارے چلان کان ہے۔دہ مہ بک کان رکتا ہے ہرخنب یکر ووکواپنے نل لا
کے تی ایا مم لا حکام القرآن:۱ ۹ء یبا تامائرازیا ےگپی ہے ۔انیرا گے : ۲٢ ے۸ وہ
مل ملاظ و یقت اسلائی ک ےی مربادت ؛ضمونہندوستا نکی شرگی وقا نول حیثیت .ض ۵۲-۳۹
مرک قزاظاوراکام 7
پلک اجازتدے۔
اان دستوریعو نی روسے ہندوستان کے م ےلان اش ری تاس لات نے
اسلائی عبادات بھھالا سے ہیں _نماز ءروز ہاور سیف لن ادا مرن کان رت ہیں۔
۶رر 1 نز ینیع ستناخ کاشی زا نکی آناکارکیت ان پا زنن ھا
جاسکتا۔ حدارل کے قیام اورد یلیم کاانظام ا نکا لن سے۔ یں اپے پر١لل
پن لکرنے میں جوان کی خاندالی :ماگ اورمحاشر انل کے ببہت بڑ ےحص کا احاطہ
تکرح ےکوی چزالگیں سے۔ ود امسلامکوالڈتعالیٰ کے دی نکی یت سے ےملافت کے
سالت ٹین کر سکت ہیں اود با سکتے ہی ںکراس کے اندد ری فور انسالی او رقودا سمل ککی
0ع ٥سد
ابی رع وسقور نے ہ شر یکو انار ضیا لکیہ جماععت ساز کک ججارت٠
طلازمصت اود ےملک میں سف رک یآزادکی دکی ہے جا داوتقولہ اور رمنقولہ رک اور
اس میں تر فک رن کات دیا ہے۔ ان تما متقوق می ایک فردادددوسرےفرد کے
دیما ن اض کاف رق واتیازکرن تانو نی صا خلا فور زی ے-_
اع وجوم ےمسلما لو ں کا اں مل ککواپنا ون بنانے اور بیہاں رئے می کا
یی اون یا سای جبودریفئیس ٹریم اوردی نکانقاضاے-
اس بیس شیک کی سکہ بیہاں دو رک خلاف ورز یگ ہو ہے اوزشکم وزیادلی
کا شکاریی ہونا پڑنا ہے ۔ یگ یامھی رہب کے :ام پرکش کش اود تسا بھی ہوتا سے ما --
سب انو نکی نظ میس جم ہے۔ اس کے خلا پآواز لٹھانے اور این تن کے لیے
جدوجہ دک رن ےکی ہرشجریکواجازت ے اوراں کے وا بھی حاصسل ہیں۔ اس پرکوئی
انندیئیل ے۔
جب ہندوستان شرعااورقا فو ییہاں کے سلمانو کان ہے۔ بیہاں دداپے
۲۸ محر شواظ رگا
مل جقوق کےس ات رہ رے ہی ںوی ں کن حدتکشرتی زندک انی لازم ہے۔ وہ
ج2 بعت کے ان تماما حکام کے ملف نہیں :ضن میں دواضجام دے سکتے یں ۔ لن احکام پر
تی ںک رسک :ان کے سل لے می سکوشت شک۷ نی ہ وگ یک اس کےیم وا حاصمل ہوں۔
کے جبورٹی؛مما تک با ہندوستائن جی ےتور مل ککییصورتحالذالباً
ابی می سی ںیہ اس لے قد فقہا کے ہاں اس پر بح ٹیش سمھقیء البتہ آھوں نے
دارالاسلام یاداراف رب کی جو سک ہیںء ان سے اس سال میس مدداورراونمائی ضرور
0-20
فننلی می سکہ گیا ےکہ جم ہکا قیام اسللائی در یاست کے امام یا اس کے ناب
(متضررکردوفرد) کے ذر بے ہہوگا لیکن امام با ںکانائب موجودنہ وومسلمان ات ور پر
ا کین بے ان لیے ار انکر وت ےب ای طر کی شک
(مسلران) حر صلانو ںکونتصان چان ا خناداود شی یس جح کے قیام سے
آیۓ ال معاعلہیل بی وی برتے )توم سلمانو ں کا این اننفای سے ےا تار
ناکرا یں کے تھے جح اداک ناجا تزراورورست ہہوگا_ لہ
ایک صودرت ب میان :ول ےک کی( اسلائی )ش رکا والی اورعا ام خی لم ود
مسلمانو ںکاا نے طور پر جم فا مکرنا ورست ےاوردہ پا یم ابا می سے فاضمی مقرر
کر کت ہیں۔البتدان کے یبضروری ےک وج کسلران حائم کےا رکا مطالکر یں
جائ افص لین کے جوال ےہ ایا ےک ہن شبروں می ںکفارکیعکومت ہو
وہل کے مسلانوں کے لیے اہن طود پر جع اورعیدی ن کا مکرن درست ہے وہاں
مسلران اتی می ے اض ی مرک ری ںتو وہ( شرحأ) قاضی ہہوگا۔ بن سلرانوں کے لیے
ضروریی ہہ کک و مم سلران حا اکا مطالبگر ر0
کہ ائن عا ہین رداکھتا ری الدداتار: حم ۱۳ مگ خالسالق
گے جوال یسا :۲۸۹/۱
ھجرت۔شرائطاوراحکام زگ
پش لسگفردی وی تک ہیں کان اہم مال تلق ہیں اوراس لیں منظر
کیاکی کہ اسلائی ر یاست کےمرانوں گی رف سے اسلائی احکام پ ری طرح
اف تہہوں یااسلائی ر یاست کے کسی حصہ پرغیسلھموںک6امعمل یا ناعمل قضہہوجاے ء
جس کے نیج میں وہاں صب سابقی مسلمان تقاضی باقی روجھی سکتے ہیں اورک بھی
رہ گت الع مباحث سے اتا بات نثابت ہوی ےک ہمجن جمبوری ما نک بین
خی ال ٹیپلویں تقائم ہیں وہاں کے سلرانوں کے درممیان ایم ضرورہونا چا بے
کرددشری زندی اگز ارک اوراپے معاملا تش رتا نین تحت سےکرمیں۔ اس
ک یکس جم بوری ملک می سکیاصورت ہو؟ اس ربیل ےتور ہونا چا یے اود ا کی
تر اہیراخختیارکی جا چا بے۔
چہاداورائں کے احکام
6۳۸۳
چہاداورا کی اقسام
دنا کے ہکم ؤن اورفسنہو نرہ بکیئفنسو اصطاحات ہولی ہیں۔ال ے
یں اودراہتر لیے ےن یس بدداقی سے ان ان اصطلا حمات کے وی او کہ
انی ن ے ضتخ دا سفن جا اب نے تونق تن" ای سے بس کزان کے ہے
دسر ےی ا نکرن فی داش مندریی ہوگی۔ال سےاند یش ےک۔الن اصطلاحات کے
مقصداورضت کوچ طور بر مھا جاےء بلکہا نکی یی ٥ش کیا جائے۔ می معاللہ
اسلامکا ہے۔ ال نے بھی اپنے مقصد وبدعا کی تر جمالی کے لصو اصطلاعات
استعا لکی ہیں ینس اوقات ان پرا ںطر ں کنشگوہوئی ہے ییے ا نکامفہوم ومدعا بجی
تک دا ہیں ہے اوراب اےوا 2 کر ن ےکی ضرورت ہے۔ ان اصطلا حا تکامش ہوم
تس زبان اوراقت کے ای کے فی نات اود گی یا ےت نکی کیا
جاسکماء برا نکامفہوم خوداسلام سے معلو مکرنا ہوگا اور و ہی مغ ہو مت رہوگاء جوائس نے
با نکیا ہے۔ ال نے ایمان ءکفرہ نفاقی لو ء زکو ءحصوممء ری او رن کی متحدد
اصطلا حا تبرت استعا لکی یں اورا نکی شر جھیکردکی ہے عقدد ہک لکی دیاش
ان کا ہام تی۲ نکرد یا ے۔ ان میں مطلوب اون مطلو بکی انی رع وضاح تکردئی
ےاوران کتا سے باتمرکر دیا ے۔ جو اتال مطلوب ہیں ا نکی انام ددی کے
طر ٹک اودرصدددوش را ئا تاد کے ہیں۔ ان سب ے واتقیت کے لیران کےمتحل یکٹگو
یں ہویتی. ای ططر کی ایک اصطا جھاڈہے۔ بہت سے لوگ اس پر اس طرح
۴۳ٴَ' راد او انی کی افنام
مننوکرتے ہیں ہی جہا و کے فی ہی این سےلڑناء بنکڑ نا فساوکرناء نان خون بہاناء
ے 4 پے جے 7 پت کر دیناہ دہش تگر دی رانا اورک بھی فردقوم اورک ککوتبادو
راکرد ینا۔یمسلمان دہ سے جوا و ا یلاب 8 بھوکرانجام
واے تا ین بھیشاں کے نا تا رن ہیں۔ ییے بی موح نے ووان پر پچڑھدوڑتا
اورخںرینیٹرو کردا ے۔ینسں لوک ا سے مقدرس جنگ کا نام دیج ہیں اور
ال علر کرت بی ںکرال سے یاددغی مقر اورن اک جنگ اورکوئی نہ وگی-
سوالل بی ےک جہاد کا چو مکہاں 0 9+
ىہ بین ہواے؟ یا رسول خدا ہل اورغلناۓ راشدبین کے سا سوہ سے ا کا شموت
مد ہاہے؟ دا تع بی ےکا ںخوف ناک اور ھت ک فور ججہاد کے پارے میں سوائے
ےس سے
220
قرن یرش چاداورا یں کے شتت ات کا ؤکیشس(ہ بارآیاہے۔ بی کر
تی سروں بھی ےاورمدلی سوروں مین پیا ۔آ ئے ءا نکی رشن یں یں اک چھاد
ک ےک یامعفی ہیں ٹکیا یقرب وضرب اود نگ بی کے لیے اولا جا تا سے یا ںکامغ ہوم اس
ےے وی سے؟
چہادکامادہجہد ے۔اس میں جدوچجہداورمشمقتکا نتصور ہے۔اکی سے چھاداور
ماہدہ ہے۔ ال کے “تفم ہیں تضتمحنت اوراغ کی حجدد جہددکرنا۔ اس میں متقاہ لکاتصو ری
ہے۔ بیجدوججہداورمتقابہھااتِ جنگ ادرمحاذ جنگ ریف کےغلا ف بھی ہوا ے اور
ای کے دض رمے مرا نگھی ہیں۔ بیز بان کے ذ ر یی ہوتا ہے۔اس کے اویھ یع ری
ہوسکت ہیں
رک لمان الحرب میں ے: الجہاد ا مبالغة و استفراغ الوسع فی الحرب واللسان اوما اطاق من
شيء ۳ر۵ مارەح ھ×د
جھاذاوزاس کی اقسام ۵
2 ول اوراصلاج یی وی ہو سے اور ال کے لیے جومشقت
رداشتکی عالی ےو دی جہاد ہے۔
حافطای نج کے ہیں:
ہا کے اندرمشنق تکا اور ہے۔ش یعت میں جہادکا مطلب سے معاند ین
سے جنک میں قوتکالگانافرباتے ہیں : چہاوکاننس شمیطان اورفساق کےساتییاہدہ
کے بھی بولا جا تا ہے جھاب یڈٹس ہے دی نکاعلم حاصس لک رناءاس کے مطاب ہم لک رنااور
را لکیاعیم دینا۔شیطان سے تیاہدد بی ہ ےک جوش جات اوروساول وودل یں ڈاتا ے
اورخواہشا تکاءجمپیں وہ بہت ہی سن او روب صورت ب نار وکھا تا ےء مقابلگیا
جائے۔معاند گن سے میاہدہ ات اور طاشت ےء مال ےء زان اور ول ے ہوتا
باون 9 تحوماہددقات سے ز باانع سے اورولی ے ہہوگا ل
چہادکی الف سورتو ں کات رآن وعد یٹ مل کر ے_
اعداے دین سے جنگ کے ذر یج چہادکا رو مد بینر می ںآ یا جہاں اسلائی
ریاست قائمحی اورمسلرانو ںکواىازت حاص لع یک دہ اپنے مان کے جود جم اور
ر است برتلو ںکا اب دی کہ می سی چہادگی تخب دی ائیء چہاں سلما نت
ناک عالات سےگز در ہے تے اوران ےا تدے پناہذیادتیاں ہوری ات
فا عکر نے کے موقف می بھی یں تھے ب جنگ سےمتاف نوعی ت کا جہادتھا۔
سیک ات روا مات بح جال پان کن یں
چہادکا ذک ران الفاط ش۲ش ۷ت ے:
[ء۳۳۳۷۳۵۵۷ئ اود هي اق اور جکوک عجاہدہکرتا اتی ہی ذات کے فاندہ
اللەلَعَِيغٌ عَن الْعلَہْقَہ کے لی ےکرتا ہے اورالڈدتو تام چان دالوں ے
(ابوت:۷) بے نازے۔
مک این تجر> رن ال پارگی :۹ے
۴٦ چھاداوزاس کی اقسام
بیردد گل خالف باحول مس دین پر احنقامت اور ا<کام - یی پاندگا یی
ہدایتیتگی۔ایکو جہاد یا میاہد کہاگ دای مج انسا نیکم ال قراردیئی-
یہاں ایک با تکی وضاحت ضروری معلوم ہوٹی ہے۔ وہ کہ چہاد کے افظ
ؤل 2ے ایک سنا اضصورے ان لیے ہمارےیم فص رر گل بیات ش ایا ال
کاذکرکرت ہیں۔ا لکامطلب نیس ےک میں جنگ یا ظا لکا عم دیامگیاتھاء امک
کے ماحول اوزخالات می بھی چہادفرٹ تھا بل دہ بتانا جات ہی ںکیزائئ لی تی
مت سے اورکن بپہلووں پرال لکااطلاق ہوا ہے؟ اس وجہ سے وہ جہاد یتر حکرتے
ہی ںول کےساتھ جہادکی دوسری صسوبتو ںکابھی ذکرکرتے ہیں۔ چناں چ علا تن
نے سور ہنکبو کی پڈکودہبالاآ ی تکیآخیرالن الطاظ می لک ے:
ون جخافة نی الرین. وصتَز خی خی جکرانے دی کے معالمرمش چہکیاادراشن
سے جنگ اور اعمالي اطاعت پر امتنقام تکا
وت دیاتواپنے بی فائنرے کے لیےکیا۔ نی
ا کا ران اب ا یکو لگا اورالرکوا کا وی
َرجغ إِل الله تَفْغ مِن ذَلِكَ. ل ہیں متتا۔
ایآ یت کےذ یگل می علام ہاو کے ہیں:
اْجہاڈ ہم الصّاز علی الد چہادشی پرصب کر ےکانام ہے۔ ا سکااظہار
ون ذِك نی الْخزت تقد نون یف ین بو دینش نکی طااخیت مل ودنا
عَلَی مُخَالَقَة التْفُسي.گ رکون
پچ یشرع خا زع نیبج یکی سے
لہ تی ءالپائع لا <کام الف رآن: جلدے جج ء٣٣ ار ٣٠٢
۲ہ وی محا لم النقز یی امش الازن ٣۱۸۵
گے ازع ۶ السا
الّْكفَارِ وَأَعمَالِ الطَاعَاتِ, فَإِنَمَا یع
لِنَفِه. أي ثَوابِ ذَلِكَ ُله لهہ وَلا
زواڈاؤوالئ کی ائسلم ے۴
27 رت 21 گی چمادی کے وک راودا 0 پرہدگیے۔ارشا دے:
و الَرق جَامَلا فینا لَتفْدِیَل اورج یاہدہکر یں ہمارے واسلے ہم ضرورا نکو
سُبْلَنَا“وَإِكَ لمع لْنْعْنْيْقہ اپٹنے رات دکھائمیں کو سال فک
(اگبوۓی:۹٦) مس۱ رنے والوں کے ساتھ سے
علامژت ری نے بیہا ںبھی چا دوشگ رین وماند بن سے جہاد کے فی یس لیا
ہے۔ان کے الفاظ ہیں:
أَيْ جَامَدوا الْكُفَارَ فِینا. أَيْ فی طَلبٍِ یھی جوکفار سے چہارکر سی ء ہمارے واسلے تی
مَرْضَاتِنًا. ہعارکی نل نو دکی حاص لک نے کے سے
اس کے بعد خودی فر مات ہی ںک سز وی رون ےکہا ےک یا یت جنگ ڑل
ہونے کل نازل ہہوگیاھی (اس لے یہاں جنگ مراویس کی )این علیہ ن کہا
ےکا لآ یت کا نزول اصطلای جہاد سے پیل ہواتھا۔ اس میں ارد کے دی نکی خاطراور
ای رضاکیطلب می سکموئی چہادکاعم ہے۔اولیمان داراث کے ہیں :ا لآیت میں
شس چادکا کر ےا ےصرف قا لکفار سے تلق نہیں مھا اسکت۔ اس میس دی نکیا
:اف ضیادات :ناوک تی کن دا ہے نشین مب
ےہمایاں پبلوڑام پل روف ونم یجن انکر سے۔ اس می نٹ سک ماہد وھ ی1ا سے
اوک ےل
ا لآیت کے یل میں علا مہ افو لت ہیں:
کہایا ےکںہبناہدہہ اللہ تال کی اطااعت اود بندگی پرصب رکے ساتھ ہے اور
خواہشا تکئقالفتکا نام ہے ۔جحخریت نیل مین عیاش نےآی تک مطلب ییبیا نکیا
ہ ےک ج لوک طلب مل می ناد ہکرت ہیں :یما نلم لکی رای ںوکھاتے ہیں کل
بن بدرائ کے ہیں ج ہمارے راتۓ میس امت سن تک کش شک یں کے ہم نہیں
کے یی لئام نعل ج۶ی ۶ |٠7۷
۴۸ جیاداووا اتا
ہنی رای وکھایس گے
ام رازگ ےد یک یہاں دہ حبدوجہدمراد ہے جوالل تا کی اطاع تک راہ
مکی جائی ہے ۔فرماتے ہیں:
جواطاعحت کے ذر لیے جدوچجہدکرے اے الد تتالی جنت کے رات دکھا ۓے
گا
تحیقت بی ےک ہیں جچہادخار نج کے ٹھنوں کے ساتھ جنگ کے فی میں
وو لہس جھائ سکی رش طاشن کے خلا ف تاب انال -ٗ“,ٗ0ف03/)
یل صبرداستنظامت کے لی تھا۔ یھ الحاظ سے اہ ےآ پکوتیارکر نے او رکردار کے پیہلو
ےخودکو مض وط بنانے کے بے تھا۔ دہ جباد سے جوزندگی جاریارجتاے اور اے
لاذمجارکءبناچاے-
27
انان کےاند رش ردشردوفول ط رع کے جف بات ادرف ریات پا جات یں۔
اگ رانا نکوا پش پرقااوزہم وو وداے برائو ںکی تیب دبا اورشحصیت پراتھارتا
ہے ال'دتھاٹ کی اطاعحت اورضرمال بردارگی سے پاز رکا او رت رکی ططرف قلیم بڑھانے
ےراتا ایا ودےارٹا دے:
اق لص لمار بای (وسف: ۵۳) بے ٹس بدی پرب رر اسان والاے۔
سک1 ںکیفیت کےخلاف جدو چم دک نااوراے اتال کی اطاعت اور
فماں بردار کی طرفموڑ نا بہت بڑامیاہرہ ہے۔ اہ د۲س شرعت میں مطلوب ہی
بین واجب اور ورگ ے۔عد ےث میں می نکی ایک ییچان ےتال گی ےکدہ
کا تھ جہاک رتا ہے ۔تحفرت فضال ہین عید کی ردایت ےل سول ال س لہ
لہ وی متا حم الت زی لی پان الیازن ۵ء ٦٦
گ٣ را زییءمفا جح القیب:۲۵/ ۸۳
جھاداوراس کی اقسام ۹"
ك1
الْجَامِد مَنْ جَامَّد نتَفْسَهُ یہد ےج نے اہنس سے چہادکیا۔
می ردایت ان الفاظط کے سا تیج یآ کی ے:
الْجَایمذ من جَائد پضضَۂ فی طَاغَاے ہابروہ سے جس نے اپنےنٹس ے ای
ال وَالہَاجز ممن مز الْخَطاا اطاعت کے لے جدوجہداورش کش کاو رما
َالُتُوبَ ٣ دہ ےم نے ننطائول او رگن ہو ںکوھوڑ دیا۔
ان کے ذیل میس ماش تمارک کت ہیں : اتا یکی 7ص.,و7
ے ہہ ہادی ادا > ہے۔ ای سے بجتماداصغ را برا سے٦
فس سے۔ اھ بی چہاو کےتحلقی حطرت نسن بصرکفرماتے ہی ںک دی
چہادک رتاے :ج بکراسے مدت الع ایک پاریگیکوائکیس چلائی یگ
رت الوسعیدخددیی گی ردایت جک کہ۲ نے رسول اہین سے
در یانتعکیا: “ای لان ای سے تر انسمانکین ہے؟ آپ نےفرمایا:
رَجْل ىيُجَامِدْ فی سَبیلِ الله بِمَالِه جن جن ند کے کل ال کان
وَتَفْسِيهِ 2ے 0)0
ہاو مل الد الد ےرا مت من ادعان اور بال دطّوں ےے ہوا ہے۔
ان ین ش متا ای ےشن ف زان یا جک ک ےنات گی اطاعت صن علیان ۓ
کش رکش بھی دال ہے۔اام ہفارک ن کاب الرقاقی ٹل ای کعنوان امیا سے: باب
من جامد نفسه فی طاعة اتی یرتا یکی اطاعت میں جس نے ات سے
0 و ا
ندرا :ےم ۵ ۷۹۲۳ ۳۔مشکو ماب الا مان کوالیتگگی
لہ ملاعی ا رکی رجا :الاپ شر مشگکو لصا :ا ء ۱۹۹
سے ای نکش لان تیم :سر ۰۴ م
تھے سلم>کتاب الامارۃء با بنل ا لجہادوالر باط
۵۰ جھاداوراس کی اقسام
جہادکیاا لک فضیل تک بیان۔ال باب ککخشت حافظظ ای نتر نے علاء کے حوالہ سے چو
ایپ ریف مایا ہے ا کا خلاصہذ یل بد یاجارہاے:
0٠" 9 ےلوہ اید تھا یکی عیادت کے
علاو سی دو ری چرکا تررنڑے۔
محرث این بطا کے ہی یٹس سے اکا تین جہاد ہے۔ یہ جہادی ہے
کی نوم ای نے انف ےا ا ان دن سے :از کنا یا کاو ار
میا خواءہشا تک گیل بل بہت زیادہ دربن سے عکیامجاے :اک بیسب چجزی
فی ین اع ہت لین نیا کا ای ہیں
ما نی ککتے ہی ںک ال اہر پ1 بی ےک اسے مالوفات سے مچٹرایا
جاۓ اورتراہشثات کےخلاف پلایاجاۓ شف سک دوتصوصیات ہیں :ایک ےشوات
ا ما اک اوردضرکی ےاطا عت وثر مال بردارکی سے بے تھی اوردوی۔یاہدداس کے
عال ہوتاے-
گن ای ےکا ک تا چا کے وم میں اس سے چہاودائل ے
اس لی ےک کن شان ہیں :ان یل سب سے بڑام نو شیطان ہے کرس ہے جو( یک
موک نکو )ان لڑوں کی وت دا سے جو سا اواقات7ام ےنا کت بای اور
اشتعا لی ےقغض بک موجب تی ہیں شیطاان ال معاملرشیں حاون اور ددگا رتا ے
الک کت اوہ یی نکر کےا ایت جونین وا شا رن کات زرے
اورا نکی مخالفت اورھزاحم کر وہ اپنے شیطا نکوز یرک رتا ہے۔مجاہۃ " ہے
آس ا اس تقالی کے اوام اور احام ۳۰٦ اچ اوران انوای سے اججتاب پرآمادہ
کرے۔ بند ارس پرڈابیا اد لے پ را نک اذ اق وان
پ ہلال تہاد اشن ےاورددساچہاوظاہ ر تم ری آدی سک تام کیفیات اورعالات
جھادلوزاس کی اعم ۵۱
یع ےکنا اور نے داررہے۔ ان سے غففلت پر ت گیا تونس اورشیطان ال پرصلط
ہوجا یں کےاوریمنوعحات پچ مات میں اس مت اکردمیسں گے ۔ل
ںہ ضوع تلق ایک روایت عام ور نشور ہے۔ بی سند کے حاظط سے
کم زورہے ین معتا ہے حخرت جابڑبیا نکرتے ہی ںک یسا برا می خ نے
وائیں ہو ےو رسول ال ص اقم نےفرمایا:
قَمثُم خر مَقد وَقَيمُم من الجہادد تہاری دائجھی مرارک سے تم چچادامرے
اأسْغر إِل الْجہاد کرٹ چہاداکبرکی طر فآ ۓ ہو۔
51 این تر الباری: ۸۳ ۱۳۹-۸ء چہادگی ان طنوں اقما مکا ذکرامام را غپ نے گھ یکیا کک
المفرداتث غریب القرآن مادہەدجھل ۱۰۸
علامہ ہتشر اس جہاد کے بارے میں کے ہژں:وبمجاھدة النفس والہوی وھو الجہاد
الأکبر۔ عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه رجع من بعض غزواته فقال رجعنا من
الجہاد اانحصغر ال الجہاد ۷أکبر نأ اورشواہشات سے جاہددی چہاداکہرہے۔ نی یز سے
ردایت ےکآ پایک فزد+ ےلوٹ ےتوفرمایا: پم چہاداصفرسے جچہاداہرکی طر فو ٹے ہیں“
ددفوں رواول مل فرقی ہے نکی روایت میں نز دو سے والل ہونے دا ثعاب سے نطاب ے۔
د سرک ردایت بای ےکآ پ نے اپنے سا خیوں کے ساتج ایک غوزدوسے دالی یف ما اکم چہاداصفر
سے چہاداکبرکی طرف لوٹے ہیں ۔ا ک شرع آپ نے ہیف ما یکہ چہاداکہربندر ےکا ای خواہشات
خلا ف ارہ ے۔
تقصیلات ےکع ط راس حد بی کنیب بفدادئی نے ابق تار نی اوردٹھی نے مسند می أق لکیا
ہے۔ علامہمناوکی کچ ہیں: اسناددہ ضعیف۔ ( امیر شرع الائع ااصیر: ٣ر ۱۹۵)۔ حافط این چجر
فرماۓ ہیں ا تیٹھی نے غیرد ےق لکیاہے لی نے ا سکیا روا یت خظرت اٹ کی سے لکن
اس مم ضف ہے۔فرماتے ہیں :اس کے تن رادکی کے بعد در ےتعیف ہیں ۔ الب ضمالی نے اہک
کزاب لکنا یس اسے ام کے ایک مالچی ابرائیم بن الوصبل ہکا قو لکہا ہے۔ (خشریء اککشافہ
سورۃ ا ءآ یتنب ر ۸ے ۳ر ۷۸ا تفصیل کے لیے طاجظہ٭البا یٰء سلسلة الأ؟حادیٹث الضعیفة و
الم وضو ة: ۸۸۵ کے ۴۸۱-۲ امام ائکن تفر ماتے ہیں :بعد یث سند اورجنی دوفو ل اط سے بے اصسل
ہے کان ہارے خیال یش اسےمعا بے اس لکہنا یں ہے۔
:7- چاد ا صا گنو
انتک لا سال اف چادلزچہادا اوران کت
خلاف چچھاولاچہا اک کہ امیا ے۔ یہ بات دو چہلووں سے منی رارکت سے :ایا کم
خر سنا سان مطلو بخواہشات کےخلاف جچہاد ہرصاحب ایا نکولا ز]
مک ات تان مخت ان سے بج پ کیا گن سے جن ک خرن فا
سے۔ اس میں پت بی افراوحصہ لیت ہیں۔عامعالات مس بک شک تکہہیں ہوئی۔
دوس اپہلوے وو .نل اوڈائزال ات اگ آل ہی اکن
٤ 9٤ کاخات چا د وقت او کس لکنا پڑت 5 ووککتھ۸
جارئا/تاے۔
علامہائن شف رماتے ہیں: انس کے چیار رجات یں :ایک برک الشتعالی
نے ججودی نان عطا اکا اور جودراہہدا یت دکھائی ےآ دی ال کاعلم ح۔ائص لککر نے اوراں
کے ملیف برداش تک ے۔ا ال لم کے ای رود دن ودنا کیا سحادت ےی روم ہوگا۔
و ےر نی می کر ان ین کے
2
تیسرے پیک جو لوک دی نان 9 9ص تن ؟""ھ۶
فرنس انام دے وت آد یکتا 0 کا مجر ادا ۓےگا۔
چو تے ےقوت لن گرا عال نت“ سو ررافہادت۔
بی اراخب پپیرے ہو لآ ویر بای کہا ۓگا۔۔ل
لٔہ زادالمعادثی مدکی خی رالعباد۔ ۱۱۸۳-٣۱۔علامہ ان ماف مات ہیں : نر ےکا کی رضا کے لے
اپنٰٹس سے چہاد ال ہے۔ غارچ می ین سے جہادا ںکا فرح ہے۔ جھاسء ار سن
ے چہاد پرمقمم ہے۔ اگرس او تھا ی کے اوامروٹوان یکا پابند نہ ہو ضا منج سے نبردآزہا
ہونے اور ے متقاہلہآرا یکا امکا ننں ے۔ یلان ےک ہد اتی سے اللہ
کو جب 172410 پرغالب ہے۔ جب ک کآدٹیٹس سے چادنکرے غارن
سا سے متا لے کے ےی ںکكل سکتا_ز ادالمعادثی مدکی خی رالعباد: ۳٣ے
جھاداوراس کی اقسام ان
چہائٹس کے لیے قآن می نھب ربالتادۃ کے الا ظائھی لے ہیں۔ ا کا
مطلب سے ال تھا ی کی عبادت اور بندگی پرثابت تم ہنا اورااں سک ا وع 1
تحلیفیں برداش تکنا۔ا سک دا ببتان الفاظ مل ے:
نا الصبٰوت وَالْزض وَمَا بَینَُھا وم آسلوں اور ڑگ نکا رب سے اور جو یجان
کے درمیان من ہے ا سکائجھی۔ لی تم ان کی
فاغنںب اتک لی ادئ ما ٤ھ 7-۰
غُبْہ وَاضْطیز لِعِبَادَیہ مَل تعْلمٌ عباد تکردہ ال کی عبادت پیر ہے رہد کیا تم
مان جات وکا کا ہم نام (ا کی صفات دالا
(مرم:۵٥) کوئی اورے؟
فمازپرعبراوراستنقامتکاحم اط رح دماگیاے:
وَأمْز الک الو قےوَاضطبزعَلیکَا اپےگھروالو ںکوما زکا عم دواورخودیھی اس پر
(۳۲۰۵) تو رو
ونس بڈڑاخش قسمت ہے جلٹس کےساتقھاس ہا سکامیا بہ وجائۓے-
چہادپاللمان
جہادز پان ےکی ہہوتا ے۔اسلا مکی دگوت دن اوراس کےف رورغ واشراععت
کے لےزبان ہے جواوشض ہو دی ہادے۔دگوت دین کے ل مین ط رت اختیار
کر کاعلم ہے۔ ایک یےکہاسلا مک حکست کے سات شی کیا جائے۔ ال لکا مطلب ىہ
ےک اسلا مکی وضاحتءولال وبران ےا اںطرب ہوا اکا انی ہونانابت ہوجاۓ
ور بھی صاف ذ ہن اورخیر تحص ب فرد کے لیے ا کی ممتقولیت اورمحنوی تکا انار
آ سان نرے۔ فلوت کے لیے دوس اع رت موحظہحستہ ے۔ا اس ٹیل انسماانع کے -
اآں ۵ اغلاث روںاوراں کے ہبی جز بے ایل ہولی ہے۔الش رسول اورآخر تکا
تضورانمان کی فطرت کےتون مطا ای ہے۔مموعوظہ صتہ ذکوت کے کے ایک مر اور
ارگ رن ہیر ہے وقو تکا قیس را طریقہ بحٹ او گنو ہے پیم روف فا میں نی
”ُ۵ چھاد ارام کنٰاقسام
مباح یا مناظریہیں سے بلیٹ رآن کےالفاظا یش ا سے مجدرال سن ہوناچابیے :کس 02
مر دو او نت نایدا و دی بنیار پرننگوہوی ےاورمخاط بکوخودا ای سیمستی ت
کےذریقاقا لک رن ےک کون کی اتی سے۔لہ
اس رح کا دکوت انام دینا جباد ہے کہ میں ا یکاعم دیاگیا اور اڑے
ہاو رک مایا ارشادے:
وَلَوْي]لَالَعغْتَا یل قَزیَِ تنا ا رہم جا ےتا ری مس ایک ڈرانے والائج
سے ۔۔
و
فِا ثطع لْکفِرَ وَجَامِنَهُم یه دیے۔ یں تم کافرو ںکی بات تہ او اور ال
چھّادا 9:21 (الفربقان:۵۲۰۵۱) تق رآن کمےذرییے ان سے چہادکرو۔ بڑاچباد-
عطاں بی کۓۓےک ہاب کات ہرآبادکی شی اد کے رسو لآ تے تعائؤان۔ مم
چا تو سلسلہجاریی دسا تاکن اب جمادراف یلیہ ےک ۔تمام فور اسالی کے لے
ایک مٹبرہو۔ چنا نآ پک بعشت سار دنا کے لیے ہے۔آپ اللدتعالی کے دی اور
ا سکیا ہدایات پا تق رہیں۔ جولوک اود تھالی کسر اود بای یں ا نکی اتا نہ
کمہمی اوران سے ہا ویر جارکی یں ۔ا سے جچہاولی را سی کہا امیا ےک مجاذ جنگ پر
کن نے نجزدآزنا ہدنچ وٹ ما نآڈزہدڈا ھگواان بر سا زا نوا کا جچلا نا اور
ہواکئی چہازوں کےذر ہی بم برا الکن کی لو شکوسبن پرروکناتنا شک یں ےہ
جتا ال ف باعل میدن پاب تقر ہنائن وصدراشتکو نےکر انا جک بردارالن با :4
کے زاغمکا مقا لک ناءان کے سا تنا اور اش کے دی نکی طرف کو دح
رہناودائسں راو یں قد قد رشن یآنے والیمزاتتو ںکیاسی خوٹی برداش کرت ررہنامننل
ہے۔ تھی روسنا کی جنگ سز یادددشوار ہے۔ ہمارےعلماء نےصصراح تک ےک بی
'جہاوکیزے اد ریس ا سکوجاری رکا کت اگ یاے۔عافظدائن نے ہیں:
اہ وت کے ال ن نیو ں طط راقو ں کا ذکرسو رکاش لآ یتر ۱٢۵ پل نع تل کی سید فی
ناپ :یل رب ت لف لا زنتا۔
جھاداوراس کی اقسام ۵۵
أمرہ الله تعالیٰ بالنجھاد من حین بعشهہ الثتھالیٰنے بہشت کے بعدجی ےآ پک جہاکاعمدیا۔
اس کے بحعدرا ںآ یت ک ےو الہ سر مات ہیں :
فَهَذِہِ سُورَه مَكِمَةٌ أَمَرَ فِجَا بجفَادِ کی سودت ہے۔ اس میں آ پکو بل
الكُفارِ بِالہُجًة وَالْیَانِ تبیغ وضاحت اورقرآ نک گن سےذر بی ےکغاررے
اقآ چہادکاممدیاگیا۔
رسوگل ای ٹیا مکاارشادے:
إِن الکومِنَ یْجَامِ بِسَیْفه وَلِسَائوگگ -سمویناقیگوارےاوراقی زباان سے چہار/اے-
برا با تک دنُل ےک چہاونگوار ہی کیل ء زبان گی ہوتا ے۔
زبائن جنگ اوران دہنول عالات میں استتعال ہو کی ے۔وجظر جب کا ذرلدشگھاءن بکق
ہےاوتیورکی خدمتکھی انجام د ےکک ہے۔ یکم نکی زبان جب بھی کک ےکی بن و
انصساف کے لے کب دگی۔ دکوت دبینء ا تق ین اود اطا لی باعل کے لیےحکت میں
آۓے یمک ن کا ای سے اشلاف ہا اتوای کے لیے ہوگا اورا کی جنگ موی
کے لیے ہوگی۔
عم ین ہیل ٢ر گن اورمنا نین سے چر ارک اعد اکاے۔ارشادے:
پیا الب جَامں الکْفَاءِ اے یا : کفار اور م ناشن دوول کا پپری
وَالمْلفْقِیُیَ وَاغْلظ ۔ عَلَيْۂ آت نے منقاب کرو اددرالنع کے سا ھت
زم جَوَکم تیئی الکیلڑت سے ٹپ ں41 ءآ خرکارا نکا انا جوم ہے اور
(الزی::ے) دہ بن بین جا ٹر ارے۔
یہ بات سورۂ ٹر( آیت۹) می پچ لک یگئی ہے۔ الفاظاجھی بھی ہیں۔ ان
آیات یش بیک وت دوطرع کے جہہادکاعم ہے۔ وولیک جواسلام کے دنن ہیں اور
لاہ زادالمعادوثی دی تی رالعباو سم ۵ مز ڈنیل کے یلاح وٹ یا رتا بک کٹ :رت اح اموٹرا ۳
۵۲۳ )۳ ۸ ۹ارے _۹۰۰۷ ۵٦/۳ : مبرات ٣
۵۲ جھاداوزاس کن افٹام
اسلائی رییاست پل ہآور ہیں ہگم سے وت سےال عکوردکا جاے الع سے جن کک
جاۓ رواپ نپا کک زا شی لکام یاب زہ یں لان مسلراوں کے درمیان جو
منافن تھےان کے لیے ریگ نس تھا۔ ان سے جبادکی نوعیت اس ےئ تھی ان کے
ساتجھ چہاد رعا (خُحتء کی ر تیاور زت و امت کے ذ ریہ ہوتا ٹھا نی منا - یی
رد نل مارگیا جات ۓےگیا ادرشہ مار یگئی۔ جوفرد ماگردہنفاقی کےمرض میں متا ہوڑے
سمچھایا جات ۓگا رشح تک جات ۓگی +اگرووکوئی ای ا٠ لککرے بش سک وج سے عدلائم
آئےتوعد ناف ہھگی۔ تی ان کےساتھ چہادے۔مفس رم نے اںفر کلف الفاظ
ٹس بیا نکیاہے۔ججلالین یس ے:
جَامِد الْکُفًار بالسّیٰفِ وَالنَافِقِینَ شر بن ۓ ا دکرونکوار ہے اور منانن ے
باليَسَانِ وَالْحْجٌةط زپانےاوررگل 0--
بیاوڈکئے ہیں: ۱
جامد الْكُقَارَ بالسیف. وَالنافقین مھ رین سے چہاوکروگوارے اورم نخان رے
بإلزام الحجة واقامة السودگ ہار جسف پرعدددقائ مک کے-
سور صثرک یزیت کے مل می س کھت ہیں :
جامِدِ الْكُقَار بالسیف وَالْافقین مرن ے چاوکرونگوارے اورمونقین رے
بالخجة واغلط لغم واستخمل دلیل کے ری اوران کےساتھذددشی نے پیٹ
الخشونة على الفریقین فیا آیانےآںحاللشچاننان شک
تجاہدھم بە إذا بلغ الوفق مدادگ استعالکروجب نر ابق علق جاۓ-
ہاں اکر نف نک کوٹ یگروہمگواراٹھانےءخھنوں سےساز با زکرے اوراسلائی
کہ سپٹ الیل لین بل ۳۵۲
گہ بماوگیء افو ارالمقز مل واصرارا اویل :ا۸ ٣۱۳
.٣ حوالءسائ ن٢٣ ے۵۰
جھاة اوزاس کی الام ے۵
ریاصت کےخلاف بفاوتتکر ٹیھیتو ال کے ساتھ ججہاد سیف ہوگا۔ ج ب کک ا سک
وف ا سر یں اس کی جا گی
امت کے پگا زم ہپ ۂەبس سصس"ٌ0۹2:]. یا
لوڑھی چہادک ایا ے۔ حر تعبدراڈ ین ہو کی ددایت ےک رسول الس اہم نے
اشاظرمایا:
غا من تی بن اللہ نی أغےٍ قبيی الا اللدتا ی نے جس نیکوگح کسی امت میں ہیا
بن وہ یت او اون اس ۴یس انس کے مددگار اود اسیےے اتساب پاے
وَأََْحَات بَأجْڈونَ شڈ گے جوا سکیس تکوپکڑ ےر سے اود اس کے
تل مکی اتجا حکرتے در ہے پچمران کے بعع ان
کے برے جاشین ہونے کے جو و کے جن پھ
خو لک سکرتے سے اور و وکا مکر تے مج نکا
ھی میں تھا۔ یں جوان سے اپنے ہاتجد سے
چہادکرے وو مین ے؛ جران ے ايک ذبان
خلوف عََوَلوَت ھا 2ا تَفْعَلوَت
َيَفْعَلُونَ مَا لا بُؤْمَرُونَ. فَمَنْ
جَامَدَهُم بِيَدِہِ فُہُوَ مُؤْمِنٌ, وَمَنْ
ج نھد ادخ اوہ 20ے ور ےون ےآ نے
جَامدھُعغ بقليه فو معن لع پنے دل سے چہادکرےوہ من ے۔ اس
َرَاءَ ظذَلِكَ مِنّ ازيمتان تب سے بعدتو رائی سے دانہ سے برا بھی ایمان
خَرْدَلِ کیںے۔
بعد صا أبالٰی ےک رام تک اصلا کال بھی جہادے۔اس چھادکی
ال ہاو سے بڑکیااہمیت سےکراکی سے اص تک دعدت برمقرارر ےکی یہ چہاداے
جوڑ ےر کا اورا سک یش بی تکابا عث ہوگا-
زان کےس اتمم سےبھی بیخدمت انام دی جالی جا ہیے۔ دوفوں خیالات
کے ان مما روز واغاع تکاز راد ژں -آ رخ کا دو کی عم رایٰک ہے۔ا کا علق
ہا مسلمکتاب الا مان +یاب بیانکون ٹین اتک رین الا ان ا
۵۸
جھاداوراس کی اقسام
زان کے متقاٹے میس زیادہدورکک ہے نلم نے زبان ےک گنا ز یاد ایت اختیار
ق ران مجید نے ای دکی راہ شی جان اور مال کے ذرججے سے جم وکوص رات
اما نکیا دی لق رارد یاے۔ارشادے:
انا الو وگ انف انتا بالل
ورشول تی مہو ینا
الوم وَاَُيِهِغ ؿ سیل الو
مو نکوجس وہ یں جو الد اوران کے رسول ھ2
ائمان لائۓء پچ شیک اورنڑ وو مج پڑے
اوراپے ام وال ونس کےذرسے ے اید کے
أولٍَِكَهُمْ الضْٰيقُوْنَہ راتنے مس چہادکیا۔ می اپے (ایمان ٹش)
(ائجرت:٥٥) پے ہیں۔
رت ا وسعیدرخددئی کی ال ددای تکاذک رآ کا ےلیک اع الی نے رسول
اش سی موا لگ کہ أيٴ التاسِ یڑ( رین انسا نکون ہے؟) آپ نےفرمایا:
اض رے سن ول سے میئ۔
ان ک پس کو اتا کی ےی ان ےکن ودنا ۰--
چجای کا ملبو ق علر وین ہے ا رح چا بالمال کے ممپوم می بھی دسحت ہے۔
اس ٹیلف ول اورٹتا ںی 77 لیم ریت کے لیخ رج 7 .02 0
کےف رو کے لیے پی صصر فکمناء دی نکی س ربلندکی کے لیے مالی ناو کر اور ای نوحیت
کے ببت سےاعما تج رآست ہیں ۔انفاقی فی یل ادل دک قرآئن وحد یٹ میں چلتی صورٹیں
بین وٹ یں ان مس سے ہرصورتکو جہاد الما لکانامد یا اسکتا سے
ماہ بفادگی ہاب الرقاقی ء باب التزلہۃ راح یمن خلا طالسوءےسلمءکتاب ال مار ء با بل الہاددالر پا
مہ ا سکیا فصیل اقم ک تاب ا نفاق فی یل نشیس دبھی چانکق ے۔
رَجُلْ جَامَّدَ بِتَفْسِهِ وَمَالِهِ لے
جھاداوراس کی اقسام ۹ھ
تن چجہاداداکیاجاۓے
سور یآ یت اک می ارشادے:
ھا فی اڈوھقی تاد اور جادکروائن کرات م حطر ہا دای ہے۔
سورٗ ر کومفس رین نےگی اود نی آ یا تکا جموعقراردیا ےق ری کے
یک بیتمپودکی راۓ ہے۔ا لک اھوں نے تائیج کی سے لے یکن سے جھبورکی
را نی سکہاجاسکا۔علامہ وق ادرخا زا کےنزد یک برگیسورت سےءالبتہ ا کی چتر
آیاتکانزولعد ینیل ہواے۔ک
بی راۓ ڑخنشری کی سے
ری ور کاےےآخرمیں نازلتول_ جرآراسملزعتں :×زل مک
انی متصدو ید عاکی وضاحت کے لے اس میں شائ لکردیا اکیاے۔ ا کی ال رق رآن
میس وجودہیں_۔اس میس چچہادکا لہا کات اداکر ن کا 7 ہے نو رطل ےکک کے
دورآشریتک یکس چچھادکانکرھا؟
آیت کےالفاظ عام ہیں-ا تن ےج کا مفپو بھی ٹا ےدیان
میس وین سے مقابل ہآ رائی اود بن گککاعھ نیس تھا۔د یقت ا لآیت بل اصلاحد
تر بی تکیطرف شدت ےو ولا یگکی ہے۔ااس لیے اس کے می ضف ابی بیالن ہو ئۓے
ہی ںک۔الل تی نے جو احکام دیے ہیں ا نکی دی ضر پان کی جا اورسنوعات
شر اتا راوتا تا کا یں ےت
کے الام لا جکام ال رآن جلد ٦ء جزء ٣ال ٣
یی فی لزنم ح کے البخو یی :مر ٣س
گل الکشافشن حاکن از بل: ٣ر ٦۸
سے الام لا کام ال رآن جلد ٦ءء ٦٦.۱٣
1۰ جھاداوراس کی اقسام
ال گی ما زیادوجج ہیں مفسرابواسو نے اب ایر شا کت ید ے۔
مفس رین نے ا ںآ ی تک جونشر حا تکی ہیں کی اف لکر نے کے بعدایام
راتا آفرماتے ین ؛
وافپگوکی آن ییضل ذيِك لی شی مر ےک اے تام محالیف شر و لکیاجاے۔-
التکایف. فگ نما مز بب وڈہ جردہ بات ج٘ کا دیاگیا ایس سے عکیاکیاے.
عنه فَالحَاقظة عَلِٰ جہاڈسلہ ل سک انی جھادے۔
ای
صھی اکر ای بھی جہاد کےعگم می ںی ہیں ۔علامہ اکر جصاص٢ کے
ہی کہ چہاد مکی فیاد ید ہوتاےءاس لیم ءال اود چہادا سک فرح ے۔ چہایکم
تجاد سیف پرمقام ہے ہاں اگرکوئی ای صورت ٹین لآ جا ےجس میس جہاوفر شعین
ہہوجا .وا ےو قیتعا اس ہی اور تصول' مد ہوا ۳ 8
قناٹ الجچاد بنا الطلم وائڈ چھادکاتیامگم کے تام پحصرے۔ چا مکی فا اور
فَرغ لَه وَمَبْیٌ عَلَبِْگ ال پرٹل٤ے۔
ای یت 4 س اتل نین عم دور ےکی ہے۔عالات
_ظروف کے لاظڑے ا کی تیارگ ہردورٹش جاری ار ےگی۔
ال کاو موم
رن پیش نی داہن ےنات یکن اکا ہیں ا
77-2 کی رن 7 27 اورقا لکووؤم۔ ے اج<کام سز یادوامیت دی ے۔
مین یتااں کے استعال اورموشح پش لکون جک ےکی وچے پیا ہوتا ےئ
کافس ای رج ۱۲ء جزء ۲۳ بل ٦۷
۳ احاماقرآن ۳/ ۱۵۲
جیااازراب رگ اتل ٦
مژالوں سے بچھا جا سکتا ے۔
نا سن ےک نک کا ال کے والین کے راز
می سکم اگیا:
-١ قُتِل الكََاصُوْنَ 880ئ0 بارے گے ئل سےعمگانے وانے۔
۳- امام راغ بے ہیں :
لف قتل دعای علع وم مت نل ان کے لیے بددھا ہے۔ ا سکااللدتعال کی طرف
اللہ تعا یل إیجاد ذلك سےالن ک ےکی میں اپچارے_۔
نشی ککتے ہیں:
دعاء, علہم واعلار النعاے پان کے لی دنا ےتا نکی ساد لاک تک
بالقتل والہلاکٹ. ثم جری مجری: دا ہے برا لکااستعال نت اورناخڑی کے معن میں
لعن وقیح۰٣ ہہوتےلگا۔
میامات بنا وگے 07
سور سکامت(ا)ے۔
كُجِل الْانْماكْمَا ا تَفَرَة اراگیاانسا نیکس قدرددنشگراے۔
70 و سا ہیں ءال دکیگحنت اور 027 ےدوریی۔مطلب کہ
جآ دی الل کا مگ راوراحمان فراموشل ے ان پرالش اعت کن برانائی بردما ے
الفاظ یں۔
اس ٹیک اك میں یب لکالفظاسرددزر یاآیات میں استما ل ہوا پت
ال فک تفر فقلی کی "ان نے مھا اود اک جات ےکنا ین برا
نہ نوخ کل نانک تہ سکرق مگ وجئکی
(المںثر:۱۸۔۲۰) بات۶ینا۔
0ت دات :ما رمقعل/ ۳۹۲ مہ زخنشرکیءاککخافیعن تا لی انت یل : مر ۳٣۳۴٣۴
ببینادکییءانوارالشزیل واس رالال:۳/ ٣۳۸
۳ جھاداو رانک اقسام
۳-ایک ول یپودونصاری یکا ذکرے خر بانا؟
فُكَلَهُم اللهآَليَؤْفَکُورَہ اتا ی ا نو ہلا گ۷ر ےہکہاں رینٹل سے پچھیرے
(التوبة:٠٤) جارے یں۔
ال عر کنا مآیات ش قصل یاقاتل کے تی اش دکیرہنت ےی رو اور
گکصعی نے نا یں نت
7رف طا شا لکاقاللہ
7ا پیش ویر خی استعال وی طاٹں سے جنک
کے لےبھی ہواہے۔ ان می ںشصیل سے بتایامگمیا ےکا جن کا متضیدکیا ے؟ -
کےنھ رلاکیابہیں؟ الد کے رسولوں اوران کےا نشینوں ےگ یملف ادوارمیں کلت گی
ےاورالدکی راہ جانلڑائی ے۔اں ک ےکی جح رات اودعوائل تے؟ رہب کے نحاط
رەکاروں ے الد کے رولول اورعرل والصاف کے کم 9., وی ے۔نا تی 7-
گناہ یم ہے۔ائل ایا نکیاداصکن اس سے پاک تا سے کی ای نات ان لی جا ئ ےو
اس کے دشا ءکوقصائصص کے مطالہہکا تی ہے۔ اس میں محاشرہ اورحلوص کی بددا سے
۳ اصسلہوگی۔ادش کی راو یں شہادتءحیات ابد یکاباعث ے-
6و9 کے شتمفكات کے یل میں جوم وضو ات ز یر بآ ہیں ىہ
ا نکی چندنالیس ہیں ان مبضوعات پرفورکرنے سے جہاداسلائ کی تقیقت وی
رام ہے۔ال پراعتراضا تکاجو ا بکچگ ال جا اے۔
ہواوک 820 ونمارت دای ہے کی .تشدداوروحتاگردا رکا ۶ می اھت
ہیں :ایس اسلام کے پ ایز اور چھاداو جھنا بے زندکی کے ایی وارع مقاصر کے
لے و سیر ارتا ا۷ہ رڈ نے ان ٹر
کے نا نے۱ اص تاوراوراست پر رک کے ےا پنی تام توانا لص فکرنےاورجان
جھاداوراس کی اقسام ٣
وما لکھپان کا نام ہے۔ جلاشبراسلام نے جنگ اورقا اعم دیا ہے۔ اسے دہ جباد
یی ال ہکہتا ہے۔ الد تھالی کے رات میس ججہاد ایک پاگیبز متقصمد ہے اس پاجزہ
مقصمد کے نی نا اک عط ری یاذ دا اختیا رک رن ےک ال نے اجازت کیل دی ے۔
۱ لس کے لیے وہ تنا کا اورعدرود ام رتا تین پران شا ءال یل ےآ منرہ
گنک وگی_
ک7
معانرین سے جچاد
تاد ا
خرن وعد یٹ می چہادکالفظ جن منول می سآ یا ہے ال کا ذک راس سے پیل
آ چکاے۔ا کا اطلاق ذای اصلا وت بیت اورخدمت دی نک یمحنلف انف ادی واجتائی
مسائگی پر ہتتاے۔اسےموٹع پل اورساق وسباقی سے سال یمچھا جاسکتا ہے۔ ا کا
استمال 7ف طاٹّں کے 92 افرعتاط کے لے بکشرت ہوا ےن نان
دغار تگ ری اود ویش کےہ معن ول گیا ہے اورا ںک فسوی را قرغ کرد یاکئی سے
ہآ کام حوب ذ ہن اس کے اتال بی سے ات ازکر نے لگاے۔
لمکم نےسراص تکی ےک جب علق چھادکہاجاتا نو ال سے م اشن
سے جنگ کے ہوتے ہیں ۔انح تکی ش جو رکاب التقامول الحیطایس جہاد کے سی القعال
0 صب-, 20و
بات ذ ان شلرأفی اہب ےک تما ء جب دن ے جنگ پاکنارے جن کا
ڑج یں نو اں ے ان 7 مرامحار ب تو میں 22ە) 0 کے مین ےرارالاسلام
حاات جنگ شی ہو ۔ججلنقو موں سےا لک جنگ نہہو یاشن سے ا لا محاہدۃ الکن و
ران کے احکام دم ے ہیں۔ا سکیا فصیل 21 کےآممدومیاحثف میں موجورے۔
شرآن رے اورریو لگ یرت چادکےاءکا ماورعدودوڈرا ای اکپھیطر ںاوضادت
کروی ہے۔جہاںان سےتیاوز وگاد: جا ٹیل الشدضہہوگاء بل غسادنی الاتلہووگا-
کے بحدالوین خر دی ام ای اڑمئے ۵ط
معاندین سے جھاد ۵
قرآن مدکی بث تآ یات میس جہادکا لفظا ال کے عق مآ یا ہے۔ ایک
تال نک آ نا زان الاظا یش ہواے:
کیب عَلَيکُ الشقائی (اب:۲۴) تتقال ذف کماگابے-
نواس یت پیم ہوئی ے:
اق اللَْْ امَموا وَالاْنَ هَاکَڑوا بے ئک وہ لوک جو ایمان لاۓے اورجنہوں نے
وَجُھُلُوا سَبِیل الو" أولَِكَ ہر کی اوراللھ کے رات میں چا دکیاوئی الڈر
يوجُونَ رخت الو * وَاللهُ ود کارعم تک امیدرکھت ہیں اورال رت والا اور
رَحِیْمٌّہ (ابقر::۲۸) ہران٤ے۔
ال یش وانح طور پر چہادٹ ی پیل ال شی اصطلائ قال اجک کے فی ش
استعال ہو ے_
ام کلپ فرش رشادے:
مر سنہ آن لوا الک ولا کیات یلت ہوکرجنت جس لے جاؤگے ج بکہ
تَغلیر الله الَزَْ جوا ینگ الگ کک الشنےانلوکو ںکااعلو نمی سکیا جم
وَیَْلّمَ الطِرققهہ وَلََذ كُنْثُم یش سےلڑنے والے ہیں اوران لوگ ں کس معلوم
تمَکنَ الّوت ین قْلِ آن تلق کیا ہابت قمۂمرے وانے ہیں تم اس سے
کڈ رایٹغئوڈوانئ کنغز وین پھ(ا شک داوم من ےکاقناکررے تھے
0 لی عمران: )۱۴۳۰۱۴۲ ا ب کم نےموتکواب ق1 کھوں سے دکوایاے۔
بات جنگ کےسیاقی می سک یکئی ےک الل تھا یتم ہارے اندرےان
جاں بازو ںکود یھنا چابتاہے جو چہاد کے انی اور میا نکارزارش مدکی کا ٹبوت
دریں۔اس سے تم لوگ اللدکی راویل ان دی ےکآ رزوکرد ہے تے اوران دیناچاہ
رے تاب جپ کال کا مو آ یااور گھوں کےساسنےموت دای دی ےگ یوقم
کم زوری وکھارے ہو
0 معاندین سےجھاد
چہادکی فضیلت
یراط رک بہتکی؟ یات یل ئن سے جنگ اودمقابلگو چھاوق راردیا
گیا اود اس سال کے اکم اور ہدایات داگئی ہیں ۔ت رن دحدیث چہادکی
کی موی فضیلت بیان ہوئی ہے اس پرگناہہوں سے ففرت اویغم ےجا تکاوعددکیا
گیاے او رآخرت میں جن کی ابدگینھمتول اوردیاش اق اراورس ین ری کی خی لن ری
دک یکئی ے۔الثتعا یکاارشادے:
0 الَيَْْ امَنُوا مل دی ٦ اے ایمان وا لوا کیا یش سی ایک ابی ارت
بتاوں جوکہمیں (1آضرت کے ) درد ناک عذ اپ
سےمجات دے۔وہ رید ےکیتم الئلد پر اودائس کے
سج کھ سٌُ أ ب کگ
جار ئنجیگۂ فن عَذّاب لبرہ
7 ۰
272 و سص2زھج کت ہے ؤد
تَوّمِمُوْتَ اللہ و رَسُوْله وَتَاهِدُوْتيٌ ۱
1 رسوگل پرایمان لا اور الد کے راستہ یں اپنے مال
ات اوراپقی جانغ سے چھادکرد۔ یق ہار ےت ل٠
لیگ لگن ان کُنکم تغلونہ ہر تم جافوق بہتر ے زس ے) اشقال
َفُفز لَگُو ذُوبَگُم ویڈیلگو کلپ کے اتا پ گکزد ےکا نی یی
رق مِن تا انل گی نقوں بیس داخ لک ےگا :نس کے ینہ ریں۱بہہ
" رجی نہوں گی اور بھیشہ کے بائمات مٹں پایٹزہ
: ۰ مکاجات دے گا۔ مہ یڑ کاککام بای ہے۔ اس کے
الینادۂ ٤ا چریئے۔ کچھ وہ ٠٦ :
لعَظِیْۂْ ؤآغری تْبْزْبَنمْزقِن علادہ ایک دہ چچ بھی لی ےکی جوقم جات ہو۔ دہ
2 ۱ 1 فو
طْيِجَة ؿ جَثّب عَنبِ* ذِِك الَفُوزً
او ؤَغخ قِیْ جا وھ الفوِ قد ای مددادرقری بک اح اورمودتو کرش
(االفعف:٭۱۔-۳٥) خرییادو۔
تق رن نے احکام جہاد کے ذیل می فر ا اناد تھالی نے ایل ائیمان کے جان
ال جنت کےگول خرید لیے ہیں۔ان پا پت مشینئیلء بلمرانڈرکی می تی ہے۔ وہ
اس کے رات میں جائن اور مال ددطوں کی لٹاتے ہیں :
معاندین سے جھاد
الله افْکری مِن الْبُْمِينِیَ
ْفُمَهُۂ وَآموَالَهُۂ ِأَيلَهُۂ اَقَةٌ٭
ُقَايلوْیَ مَبٍیلِ اللہ فَيَفْثلوْنَ
بْفکلُوي وَعتَا عَلَْهعَقًا يالکُوزىة
وَالِْنِْیلِ وَالْمُرَانٍ ومن اث يِکهُرِہ
من الوفَاسکبْوڑوا يِتَیْحگۂ الّقْ
۶ 9 رت
الْکَظإيْۂ0 (۶۱ب::۷١)
سح ہہ
ف4
بے ئنک اللدتھالی نے مومنوں سے ال نکی جانیں
اورا مال خر بد لیے ہی ںکاا نکوجنت ل ےگی۔
دو الد کے راۓ میس جن گکرتے ہیں تق بھی
کے 1وی کی ات یں .کان
چاوعدہ ےت ریت اور ائکلی وش ان یں ۔
اور الٹر رے بڑ نک رکون ے وعدرہ و اکرے
دالا۔انرائم ایق اس تق پر( جان وہای کےگوں
جنت کا تمول ) جوقم نکی ہے خوش ہوجا۔
بجی بک یکام ما اے۔
جنگ میں جان و ما لکا نقصان برداش تک نا پڑتا ہے اس ٹیل بہت سے
وشوارگزارم اع لآتے ہیں جنگ کے بح دید کک اس کے ارات بائی رتے ہیں-
اں لیے دی یمبھی ور پراں سے پچناچاتا دو لی مقاصد کے لیے بیخمارہکوئی
خسار نیہ بک یٹ کاسوداہے۔اس لیف ایا اگیا:
تَجب عَلَيِکُم اليکال وَمُر کُرڈلگُوٴ
)٢۱٥۷_(
نورض اع سر ڈور
گزرنی ہے شایقم ایک چ کو ان دکرواوروہ
تمھار ےق می ہت ہو لن ہے ایک چےزکقم
پن رکرو اور وہ تھا ر ےج میں بری ہو۔ اللہ
جباتتا ہے اور نکیل جاتے_
مطلب بہ ہ ےکہالڈدتھالی نے جن گکاعحم دیا تو اس پل میں میں
یں دی کیل ہونا جا ہے دولیعم و ؟ سک یکممارے سودوز یا لکاقم سے بترطلرسنڑے
جانی ہے۔ایں نے مجن ال متقاصد کے لیے جن کا اگ دی ہے دہ اگ رپ نظ ہو ںو
جی کی صعوتیں برداششمتتک رن تھہہارے لیے سان ہوجان گا
ا نآ یات یی چاد ضرورت وابی تکا مان ے٤ اس کےلےیے جان دما لکی
1۸ معاندین سے جھاد
انی یا مطالیہ ہےس۔راوفدایل الند ینا ال کےنزدبیک حیات ابد یکاذر یعدے:
و ولا کن تُکلی فی بل الو اورجولوک اشک راہشش مارے مائیں ال مردہ
آمُواٹٌ ٹل آغباآء 0 ٦ ہہ بل دوتو زخدہ یں مان تم انی ںبجھ
تَفْْرَوْدَہ (ابقر8:٥٥) کت ہو
کت وی فضیلت اعادیث ٹل
اعادیث یل چھاد خر مو فضیل تآلی ے۔اے بہت کا نل فرافات
سے اضل اود برتزقرارد گیا ہے ۔کسی وت ریذن قرار پا ےتولعض دوس رےف رض
سز یادداہییت اخقیارکر جا تا ہے ۔حنفخرت ابو ہر یرہ کی روایت ےک رسول السا ہہ
سے در یاف تگیاگیا اد ہکونسا امک ےج جمادی لن ال کے ہار ے1 / پے
فرمایا :تم ا ےی ںک سو گے دوبار بی سوا لک یامگیااورآپ نے بی جواب دیا۔تسریی
مرا سوال پفرایا:
مکل الجَامِد فی سبیلِ الله كَمَثَلِ ال کے راستہ یش چہادکرنے وا ل ےکی مال ایس
المّائم القایم الَْاِتِ باباتِ اللہ, لا روزے دارکی ہے جورات شی اثابت کے سساتھ
اف اللدتعا کی آ یا تکی حلاد تکرتے ہو قیام
0 جوا وس طخ ہہ روا رون رقاب
اّْجَامِدُ فی سَبیلِ الله تَعائی مارک تار ےگا ءج بک کک وولوٹ ت]آ ۓے-
فرت اسراو ہی ںکیرسول اہی نےفر ایا:
وڈ فی سبیلِ اللہ و وڈ خی اش کرات مس ایک یاایکشامگزارنادیایرںس
مِنّ الدُنْیَا وَمَا فِجَاگ پائی جانے ول ام چزدں سےبترب۔
لہ مصللم تاب الا ما7 با پل لہا دق تی یل ال
گے بخارگ ءکناب الجہادوالسیرء باب الف و7 واکزوۃ ٹ کیل ال ےلم ءکتاب الامارۃء با نل
الفر وڈوالروحد ن یع٣ ل اش
معاندین سے جھاد ۹
ماماصفر بات ہی ںک یرایل کے بعد چہاد ےز یادوفضیلت والاگ لکول دض
یں ےل
ایک حدیثٹ یی ایمان کے بعد چہاوکوسب سے اض ۲ لکہاکیا ہے اور کا
ذگر جہاد کے بعد ے۔حظرت الو ہریڈ گیا ردایت ےک رسول الس أڈای نہ سے
دد یف تک یاگیاکرسب سے أضلہ٥ لکیاہے؟ آپ نے فرمایا:اللاورای کے ول پھ
ائیمانع۔دریافت کیا گیا :اش کے بعک سڈ لک فخیلت ے؟نفرایا:چادن ایل اللم۔اں
کے بحدفضیلت وا تل کے بارے می در یاف تک اگ یا توف مایا :نج مبروزسشنی دوج جھ
غ لح الک رضا کے لے ہو۔ٹ
چہارشآری الد کے را نۓ میں چم پارکچھوڑتا ے۔ا ایطر 20 میس بھی وہ
الد یکی رضا وخویل وی جا ےکھر سے کت یب کان چارش وققت فرن می
جائے اومما جنگ پرجاناضرد ری قرار پا ےتور پراسےتر بی حاصل ہوگی۔
اسلائی در یاس تک صرح کی تفاظ تکس قدر باععث اج وناب ے+ نظرت
کل من سد کی ایکروایت یس اس کاذکر ہے دہ رسوگل ال ای ک انان
مات ہیں:
ِتاط وم فی سیل الله خیر من اللہ کےراتن میس سرع دک طفاظت کے لیے ایک ون
الدُنما وَمَا عَلَيُاء. وَمَوْضٍع سَوط قیا مکنا نیااوراس کےاو یہ پائی جانے دای سب چز وں
أحدکم من الْجِنَّة خیر من الدُنَْا وَما ے) ٹر ہے۔ ججنت می ںتہارےکوڑے( کے پراہر)
عَلَيهَاء والروحة یروحہا الحَمْد فی جک ہدناا ودرا ںکی سارک چیزدں ےہر ہے۔ ال کے
سَبیل الله او الغدوۃ خیر من اذا راسۓ یں بندہ ایک شام بای کک جوگزارتاے وودنیا
وَمَا عَلََا اوراکس کے مارے سا وساماانع سےکترے۔
مک این قدامہءامففی: ١/۱۳ تہ ہفاریبکتاب ار با ٹل ار المبرورملم1کتاب الا یمان ءباب بیان
کون ال یمان پائل اض الاعمال۔ ٠< بخنارکی کاب الجہاد دای باکرنخل امن انیل اللد
٠ے ماسضہجا
امام این تجبیہ رن2 الیدعلیفرماتے ہی ںکہمیرے نزدیک ال ام می ںکوئی
اختلاف یں ےکر یاس تک رعدو کی تفاظت کے نے چہاوکر ناب مکعبۂمسجدنوی
او رحرا برأصی میں ا تا فک ر نے اور ذکرونااوت تاٹْل شفول ری سے اضل ہے۔ے
ا سلائء یاس تل طاظت کے لیے وص بہوء ا سکی ایت اورفضیلت اں
جو ہولیے۔
ایکعط رف دی ہی ںکیاسلام نے دنیاوامن دسلام تیاور د اہول اور
گآروھوں میں خی ہوئی وخ انال آواخوت ومماوات 1 راہ رکعائیءدیا توق انا ی
کے لتصورے متار فکرایاء جوا نت فو تی کا سب سے بڑاولیل ہیں بللہ اسان اود
محافظ بنار ادف کی طرف ریگ ی نظ رما ےل چہہادا ا ںکیتلیعماتکالا زگ حصرے۔عوال
بد ےکیکیاا ال اے کم چا کے ذ رای ھی ال نحلیمات پرخط 3ء 07د,. گن
لم وزیادئی کےتمام رات بند بے تھےدوجورنارواکا عم برداری نگیا؟
72 ۸ر ہی نکیا ناایمات کے در مان تاد ہے۔اسلام جب پگ زور
ای دورۓےرز پاٹھاوا ا نے در اخلاتی دیا: یا مرو ڈنل اور فو ودرگز ۶ میم دی۔
ڈو وا سیقوتعا اصسل ہو و عم چباد لنرک ردیا۔ ہیا قتلیما تکوق رخ ے
نہ گے کا یی ہہت بن ایت بی متقصر یکل کرنی ہیں ۔آئمنددصفات ٹیس چھادکی
کی وعیت ءا ں کا یں منظریفرداورریاست سےا لکامتلتی ءال کے اکام دشرا ئا ے
بح ہوگی تو ےکا ےمم 7 پاوکیچی شکل میں د یھ جا گا اوراس تلق
خملیاں رح ہوںگی۔
لہ فما وگ این تب۲۸۶ ٦-۵/
اے
۳ھ یل رسب
با دکا فیمارر یاس تر ےگ
چماداسائی ریاست کے وائ رہ اختارٹش ہووت نم پردہ چباد
29 انم لایر یاصت میں بھی ا سکااختیارافرا ایس ےک جو چاسے اد کے نام
پر ھٹرا ہوجاۓے اور یشے سن الام کے اس پچ لین لک/ردے۔ر یاس تک طف دے
چادکااعلان ہو شنلوگو ںکواس یں شرلت کے لی ےکہا جا ۓےگاان کے یش رت لازم
ہوگی۔ ودای عذد کے اس سے چچجیکٹس رہ ستے۔ ایے ناک موق پر جولو کفکزاربش
رڑیں ا رآن یرنے ان برقت دی ے۔ارشادے:
گنا الَيثیَ امَٹوا ما لگ انا قیل
َکُمْ انْهژؤا سَبٍیلِ اللەِافاقَلُمْ ال
اض آَرَحِیٍٹغم بالمیوۃ النُنیا ون
لِرَوٴ تا تمقاغ الو الدُنْیا پ
الاىرو الا قبلہ الا کنیڑوا
عِبکُز عََ٥ هو بمتبیل تَوما
غَِکُ وآ تَطزوَكُم یت والة عل کن
َیقییژن
(ۃ.:۴۹۰۳۸)
اےایھان دالو سی سکیا ہوکیاے یتیب سے
کہاجا تا ےکہائشد کے رات یں دوڑ وت وم ز لن
سے نٹ جاتے ہو ؟کیا آخر تکوجچھوکرقم دن کی
نگ پرخی اورممن ہو گے ×؟ الا لک
آخریت سسکهدتھا لیے ین دٹیا کیا نکی جن سوا یا
سمازوسامان ہے۔اگرقم چہاد کے لیے ت کو ےتوھ
ال نہیں درد اگ عزاب د ےگا اورگہارگ جِلّ
د9 یو کو لےاے گااوم اںلوکوئی نقصان
پیا سکوگے۔الدتعالی ریزپ قدرت کت ہے۔
اوےس شا ہے اعت کا صربراہ یاامام جب جہاد کے لےآواز
دراو جہاوذرش ہوجا جاے۔ا ا لںآیت کےذ یل میں لام ٹر ھی کے ہیں:
٣ے
أنّ اْقامَ إِذّا عَيِنَ قَوْمًا مَتَدَہُمْ إل
الْچہَادِ لم یَكُنْ لَهُم أَنْ يَتَتَاقَلوا ند
الّعْيِينِ قَیَِیڑ بتَْیِينْه فَرْضًا عَلَى مَنْ
عَيّتَهُ لا بلگانِ الْجہَاد وَلَكِنْ لِطَاعَة
الڑمام.ل
جہادامام گت ہوا
جھاد(جنگ)کاتعلق اسلامی ریاست سے ھے
جب امام بہجیلوکوںلو وین طود پر چہادکی وکوت دے
قذان کے لے جائز نہ ہوگاک۔روڈیین کے بعد ٹیش
رہیں۔اں لیک اما تین طور رشن لوگو ںکو چہادکا
عم دے ودان کے لف ہوجاجا ہے۔ چہادکی
وجر تئیہ امام نکی وجرے۔
صدریث یل مہ بات وضاحت کےسا اھ بیان ہوٹ ے ےہ چہاوس براور یاسصت
اما میا برای یل ہوگا۔و وشن لوگو کو جہادی ںشرک تکا اھر دےان کے لا ںی
تل ضروری ہوگی خر تح دنہ ناعبا شی اتکی روایت ہے :
لا مِجْرَة بَحْدَ الفٹع وَلَكِنْ چھاڈ وَِیّة,
َإِذَا اسْتْنْفْرتم فَائْفژوا
سا تک سی نر ہیی سے البع چھاد اور
(ا کی خیت بائی ےاورج ٹنم سے چجہاد کے
ایل اورعد یث مُ لہا ایا ےل ججھادامام کت ہزناہے ۔ارشاد ہے :
إِنَمَا لإمَام جُنَّةيقَاتْل مِنْ وَرَائِه وَبتَفی
ب. فَإنْ أَمَرَ بِتَفْوی اللِّ وَعَدَلء فَإِنٌّ
لَه بِذَلِكَ أُجُڑا وَإِنْ قال بقیره فان
لکے ری :الیائمح لا کا ال رآن:۹۱/۸
بے تک امام شال ہے؛ اس کے تییے بن کی
عالی ےاوراسں کے ذر بیج ظط حاص لکیا جاتا
سے۔اگروہ الد ےلھک یکا ام دےاورانصاف
۹/ج
روہ پا ختیارک ےق اس کادبال ال پہەگا-
گہ بخارکی :کاب الجباددااسیر ہ باب وجب النفیر ا سم :تاب الا مار7ہ باب ابا یح مک ا
یہ بخاریی :کاب ا جہادولیر باب ب الین وراءالامام تی ہیس م1تاب الا ما ۃء باب الامام جن ا٣
جھاد(جنگ)کاتعلق اسلامی ریاست سے مے 7
عحریث کے الفاظ امام جک (امام ڈھال ہے ) کےسمف ىہ ہی ںکخٹس
رع ڈھال عخالف کےتملو ںکورہتی ے1 ایطر نا اد اشن ک6 رور وکا ےو وی
فرد پاگردہگوال با تک اجاز تگال دی بر ےک ام مکا ضر یامکلیف باہیائۓے۔ ای
رح افراویامتکیجی ایک دوصسرے پشلم دزیا دی اودایذارسائی سے بازرکتاے۔آ گے
اک یتر کیہ کہ یقائل من ودائہ و ینف بہ (ال کے کیچی جن کک جات
ےاورا ال کےڈر يیج شکلات اور پریانیوں می ل تفناعا ا لکیاجا ہا سے۔ کب
اکا مطلب ہیر ےک امام یاس تکا انگرال اوریافظا ےا لیڈ ےداری
ہ ےکر یا تکوش نکی وش سے با لوگو ںکوسانء مال اوران کے تقو کا توذظ
فراہ مکرے اوس بھی جارحیت کے مقابلہرٹس ڈھال بنارہے۔ ال کے لیے وو چہاد
کرےو و ریاست کے شی ایں کے کی ےکھڑ ے ہوں کے اوراسں کےججنڑے مل لے
جہادکریسی گے۔عحدیث کےآخر می ںکہاگھیا ےک ہار وو وانصا فکا معار کر ےآ
اتا ی اےات رواب ےےواز ےگا اورا یلم وزیادلی یرہش اینائ ےو الڈتعالی
کیاعطرف سےا سک باز یں موی یجس دق بی عدشثوں میں ب بات اورزیادکراحت
کے۔سات ھک یکئی ہ ےک۔اللدتوالی کے دی نکی مس بلندکی کے لیے جہاد بییشہ جاری رہےگاء
لن بیامام یاصر: براولللت ںھت ہوگا۔ ایک عد یٹ میں ہےک۔امام خداقرس او ی ہو
با مل طکاراور فا كکلء جب گگ وہایرے چبادییں ا ںکا ساتھھدیا جا گا اوراںکی
قیادت یس جنگ جا گی۔
ہک حافظ ان تج رعلیہال رح فرماتے ہیں :الاک اھر کے کا مطلب ہہ ہےک۔امام کن کے متقا بے یں سید پر
ہوا ہے اورملمانو لکی طفاخق تک رت ہے۔یقاتل من ور انچ کےذ یل مل فر مات ہی ںکوداء کے اص لعف
تو چچے کے ہیں ہکان ررلف ظ آگے اور کے دونوں مجنول شس بولا جا ہے اور بجی دوفو ل می یہالں راد یں۔ امام
9ئ کےاور چیہ ہرطرف سے جن کک جا ےگ اورا کی تفاظط تک جا گی ۔ ا الباری:٦ ۲۰۸
ان جھاد(جنگ)کاتعلق اسلامی ریاست سے مے
الْجہاڈ واجب خَلَْکُم مع شی می جا جباق پرواجب ہے ہرامی رکےساتھدہ چاسے دہ نیک ہو
کان آؤ قاجزاء ان خمل الْگائزٹ ناف لکارادر چاےوہکپائریکاارکابکرا-
ال ےا بات دا ۴ ےکہ جہاداسملائی د یاست کے امام یا ام ر ےنت
ہوگا۔ا کی دج لکل وائع ہے ججہاد ہے مق رڈ وخوں ریز نیہ بللہا کی مقاصد
کے کی جانے والی جنگ ہے۔ا کیاکی بہت سے نا کی اور ٹین الاقوائی مکل
سے سے۔اسس کے لیے باتقاحدواورت بیت یافنفوی حکاپا یاجانااورا کاپ رگطر ںکنٹرول
میں اویمکا بن ہونا ضروری ہے پچ 7 ہگ الہ زی سے جنک ہمواورس سے
01 اکر جک ہوقواس کیا نام ہیں اوح ہن شر لا پر و؟؟ جک کے بعد کے
معاتیء سای اخلاقی ہلی اور ٹن الاقوائی مسائل سےعبدہ برآ ہون ےک یکیا صورت
ہوگا؟ ہیک می یو مخت اقوام کےسات دک یامعاملہو؟ ملست ہوا کےکیا تاج
ہیں گے؟ اوران پرقاہہ پانے کیا تھ یک جائے گی؟ بی سب اش رر یاصت کے وا رڑے
می ںآ ہیں اوروی ان ای خاطب ے۔اسلام نے ہت خصیل سےا نام پہلووں
ےر یاس تک دادما ی 1 ہے۔فردا ں کا خاطب یں سےا ے کرد ا کا لو جھاتھا
یں سا ای وجہ سے علماء ن ےککھا ےکم ہہادکا معاطہر یا ست تلق ے۔
علڈ ماب ن قدا نیعت ہیں :
نک الودا و کنب الجہادہ باب الشز: و ائمت الجور۔حافظطائ تق ماتے ڈی ںکہ بعد بیث الودا 5 داوراا وہل
نے م فوع اور مووف دوفو لع رایوں سے دوای تکی ہے۔ ال کے راوی ما لقبول ہیں ءالبت بہردات
اااہریرہ ےگحول تا بھی ن کی سے اورکحو کاو ہر بر ڈھےمائ انیس ے۔ نو الباری :۹ ٣۴
امیر رق وٹ ری ہلا ہوقوام تک اک یاذ مہ داریی ہے؟ایام ال یو کے ہیں حاکم وقنت 2
زیادتی اورک ما یکر نے گ:فہ رئش ے باز نہ ےتقواال تل وعق رہل ہوکراسے رر فکرد بنا چایےہ
چا ہےاس کے یہتھیارا انا اود جن گک رن پڑے۔ٹشرں القاصد:۵ ۸ ۲۳۳۳ء ٣۲۳۔ بی بات ذالباان
ما ئک کے پی نظ رک یکئی سے جہاں باوشامت یا آم ریت ہو ان جمبوری لکوں میں بغی رگوار اٹھائۓے
پرامنعمر یق ےجھیاتبد یآ ضز پل پھٹکاریم وٹ میں ے۔
جھاد(جنگ )کاتعلق اسلامی ریاست سے ھے
وأمز الجہادِ مؤکوڈ ہل لزمام
وإجھادہ. وِبلژَم الرعِيّهٌ طاعَته فیما
یراہ لە
ایک اورموخ برککت یں:
ولا يَخْرْجُوا إِلی الحَدُو إِلّا بإذن ایی
لا أن يَفْجاهُم عَدُوٌ غالب یخافون
کلبەگ
(۸ھ
چہادکا معاعلی امام اور اس کے اجتہاد کے جوالے
نوا کے کے لام ےک ۔امام جوفیملکرے
ال یل ا لک اطاع تک رے۔-
ا نک اتی ےتا سے یں
بت ال کن طاضّت و اک و ان 7
اپاکلتلردے۔
ا ں کا مطلب بی ےک جمادکا فی لکنا مم برادلکلت کے ات یش ہوگااورعام
ایگ ان کے نیل سے پابند ہوں 7 لبت اگ ری ریاست ےئ خر بر توب
سرعدی علاقہ پرش٥ نکاا چا کتملہہوجاے اور یاست کے ربراوکوال کاخ رہونے یا
ا ںکی طرف سے اقدا مر نے میں ما خی رہوتو مقابی افراد بلا اجازت مل ککا دفا
تی گے ےووہ و زنس ئل طرح ضرم لکا اکن ے۔ پرعکورت
ہعدق عالات ے باضج رراقی اور باتقاعدہفوح سرعدو ںکینگر یکر ی ےون سی
جن ککافیصلہرعالر بات کی کےاختیارٹل ہوتاے_
لہ این داب :ض۰ ۱۳ء ۱٦
گے این قدامہ :أخیء ۱۳ء ۱۵۲
گا سکینفصیل 1ے ری یت
ۓ٦
جہادگی تیارکی اورا سکی غرن وغاایت
اعلام نے جہادکاعم دیا ے اود اس کے لیے من تیر کیا ہدای تک ہے۔
اسلائیر ییاصت اںکی پان ہو مان ا سے عامطور پر ا طر ںکاحھیس ا چھا جا تاس
رح دنا کی تی اق ضرور یات او مارح ےت فے گی تار کرت ہیں-اں ے
لوان اورضوابا و ری اوراحکام ناف کر تی ہیں۔اس کے پالکل ہنکس بیخیا لکیا
جانا ےکا سلائی ربیاست ایک جنگ جود بات ہےاوداپق ہم جوئی کے لیے دہ تار
آآے سے۔ ا کا بیتار لان عم کے ےی خفطرہ سے۔ و سکری لیا کے 0
دوام۔ کا 927 اکر بی ےکی 7 ا>ول؟ ایر ے اورضا ےی پابنلدنہوگی وی
وہ ایک جم اورانڑھی ءہری طاتت 7 وتفرو ںکورونرلی اور پامال/ل 1
جا ےگی۔ ای وجہ سے اسلائیر یا تکاتصورج یآ رج کے ذ جن کے لیے انچاکی ہوول
ناک اوران ای سک ری تیادی کے کر ےخوف اوخار ۓےکاماحولیٰ پیراو اتا یا
داضت پیراکردیاجاتا وہ جبادگ تیارگ اورا سک فو وطایت ےتا واثیت
کے یہاں اس ےت تین اکا اوران کےیں من رکووا ار ےکی
ی جاے 8ءھ- ك7 سان مگ کہا تار فی تکیا ہے اورا یکا
جوازے پانئیں؟
ساقوبیں صدیی میسو میس رسول الد لی مکی جب بضشت ہہوئ یتو ا یرب
فان کال بے بر شیک ایک سردارہوتا :ش۲ سک پورے تیلے پگھممانی ہوئی۔
جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت ےَ
اٹرارڈیل نات اور وغلیا ہرمعا اق ای پھروالی ارت اور الیکا اتد تے-
ای صبدیت دحیت رک وپے ٹل پوس گیا کی غاطردہآ سای سے جا نک بازی
جک ا سکتے جے _۔بینخ شس قرائل کے مان خولی ر شت او ابی وس ماش یتھاقا بھی ےه
ینز 00ہ تیلصام 7غ ون نزکی ھا زگی۔ لوٹ مار
",۰ھ نی سکیا ان مال اورز ت وآ بروتفوظ
زی رات ۓےعرب می ں تھا سفرکرناوشوارتھا قافو ںکی شکل میں سف ہبوت اورق ن بھی
ساافقاتلٹ جات ھھراکی زندگ اورک رددییشی کے عالات نے ہن کی باسپا کی بنا
دی تھا۔ وہ بتی تفاخظت اوردفاع کے لیے ہروقت تیارر تا اورا ی7 بی صلاحتکودؤم۔ حت
کےخلاف استا لکرنے میں اس ےکوی اک نہہہتا۔ اسلام نے ا لف قب لکو یک
امت بنایا اورش رآ ن اوررسول ال س نیہ کے او ہکی صورت ون لک تل ٠ مین اور
قاونر ای اقت ارام کر ہے باضابطرد یاست ا مکی ءاس کے تارب ان لکوایک
مم ےت تی اورتقمرکیا اور جنگ جوافرادکوالیک باتقاعدہریاست کےش ری اک حوقیت
عطاکی اورای ںین وقانو نکا بن بنایا۔عاللتِ جنگ اودعالت اکن دوں میں اغلاقی
اورقانو نکی پالا دی تا 1 کی۔ جک کی کی فرد ی1 زامرڑی بیس اڑا جب چاے
جنککاسائرن بہادے اور ج کترو ےی ,0 کےدا ٤ اختیارش
رکھا۔ ا سکی تیاری کے معلوم شحروف ذرا بی یے اور اکا متصرواح گیا۔
جنگ دوطر کی ہو ے: ایک دفاگی اود درک اتدائی۔ دونوں کے لے
مناسب تاری ےلاڈ ال ے۔اسلام 2 س تو رت اط موا
ہو کاعم یڑے۔اں یے لے فرد اور ریاس تکا مال خر کنا اور اپۓ وسائ لکا
استحا لک ناسل کےنزدیک بڑے ابر فو ا بکاباعث ے۔ارشادے:
۸ے جھادکی تیاری اور اس کی غرض وغایت
(فوتی) قوت اور بن ھھ ہو ۓگھوڑے تتے
ال کے کن اوہٹہارے یکن پخوف طاری رے۔
٠ : : ال کے علاوہ ان لووں پرجھی تمہارا خوف رے
- مخ ره تَۃ 0-0 83070 1 ٭
تَعْلمُوَْعَهُمْ' الله يَعْلهْهمَمَا تقو جن یں قم یں جات ء( لین )ارجا ضا اورجھ
ون قزر پ مل المو لوگ الیک سپ انی راہ م خر جکردگے ہیں پراںا
وَاَزع لا تلم نف(الانال:۰٦) ہا گااورتہارےسا توکوئ یی نہ ہوگی۔
آیتکا آنغاز اذا نی (ان کے لیے تاررکھو کے الفاظ سے ہوا سے
لوا کا مصدراعداڈے۔ اس کےسعف فوع اور ازع نے ککصے ہیں:اتخاذ الشیء
لوقت سای چرفضرورت کے وقت کے لیے درکھنا )گو یا اس یش ضرورت اور
جاج ےکا اور سے تی بتیارگی ضرورت 02902( اورضرورت بی کے وشنت الں
س فان واتھا یا جا گا
آییت نین جن کی نتیارکی سکیل من اذ رظ اش کالفا نے
ہیں ۔سحفرت عقبہ کن عامیجتی کے ہیں کرسول ادس نے بر پر یآ یتخلاوت
فر اتی ا وشن م رتبا شاف بایا:
ا إِنْ الْکُوَۃ اٹ کن لد عقوت تیرانداز کی ے۔
بہاں یا تکا ثُوت ےک دوررسالت زی جات میں تراندازی یا
اوک کی گی خائص ابمیتیتی۔اں سو نوقر یٹ کان کنا اورایک
مان فا لے سےا سےنشانہ بناسکتا ات : اورءرجژول بھی ا سک فضیلت بیان
ہو ہے۔ ایر ان کس نے کے بحدا ول مجانے یا ےت ےکر داز
اہ بنوبی متا امشزیلی۔ خازن لباب الاو یل نی معانی الشزیل: ٣ر ے۵
2 مسلم کاب الا مار 7ء با بأخل الری دالحت علی و زم مل زی
91 و ہو ہہ ےا
ومن ي٘بَاطِ الیل ترهِیُوْن یه عَدوّ اللہ
ور ھچ
7 راے ھے و گر ڑ اي
وَعَلوکمْر وَاخرِت ەِن دوِْهِم ؛ لا
جھادکی تیاریاوراس کی غرض وغایت 9ے
کو 01 تل 11 ےاورا سے ششت نال ن دک یاگیا ہے۔رسول الہ کاارشا رے:
مَنْ عَلِمَ الرَمٰيَ ثُْ ترکهُ, فَلَیْسَ مِتا, سای نے مخیزاغدا زی ی اجکی اؤدرم را ناک
أآؤ قَذ عَصَی_ل کرد یا تو ا ںکا ہم ےکوگی٥ک یں ہے۔ یاىہ
فرماپاکرااکی نے ناف رما یکیا۔
کے ا س0 ما ڑکیا حدیٹ کے یل میس اما فدوک یف مات ڈیں:بہاور
رو ضوع 1 دفسریی اعادیث ے مجر اندازگیء اس کے متا اور اں کے امام یی
فضیلتخابت ہوئی ہے اش ےلوہ چہاد یتیل اورک خیت سے ہو۔ بھ یم دلیبریی
اوشجاعت کے مظاہرے ہننھیا ر کلف استالا تکیا شف اورکھوڑ دوڑ کے متا لے
ک ے۔ان اص بکا متعہر ڈ یل مامت اوراں مم ںہارت پیدا اکنا او کو مضوط
بنائاے۔ لگ
قرآن پیر نے ہنی ری ےلسلس تو ؟ کا لفظ استعا لکیاے۔دوراول
2 لو تکاڑاذریدتا ندرا نکی تھاء| ے١ ںی غا ا تیب د کی لیکن ہردورک
مزاسبت ہہ ےچنگ وتلاف ہوک ہے ای دج سےمفس رین نے اسے عا رکھا ہے
نشکیا نے ا سانش ان الفاظط می سکی ے:
من قوق: من کل ما یعققی ب فیپ وہساری چچزشن سے جنگ مںرقوت اص لک
الحرب من عددھات انی ہے ال کےسامان می شارہو ںگی۔
بجی بات +یاوگانے ان الفا ظط ی لکچی ہے:
(قوت سے مراد ہے ) ہردہ چیزشڈس سے جنگ
مس تقبیت عامس لک جائۓ۔
0 مسلم کاب الا مارۃء با نل الریی دالصث علی وم من علیثم ضیہ
گے وو :شرں سم نے ء ز۶ ٣ ای۵۷
مہ زیخشریءاککخاف :۲ء ۲٢٢
ےہ ببیفاوگیءانوارالتقریل ولہاب الت]وبل:ا/ ۳۸۹
من کل ما یتقوی بە فی الحرب.ع,
+۸ جھادکی تیاری اور اس کی غرض وغایت
امام رازگ کے ہیں یقت سے بہ تک ری مراد یگئی ہیں !کان ان یش
ول ٤اک ا٤حاب معالی ت ےکہا ہے ىہ جےکہ ان قمام چیزوں پل جن سے
جنگ می قیتع اص لک عانی ہے قوت کےاخظ میں تما مآلاتترب ال ہیں
۱ آ یت می پگ تیاری کے ذیل مس رباظا ۰ بر سکس ڈھس
ہ ںگھوڑوںکا گی متاصد کے لے تارکرنا۔ اعادیٹث ٹیش ا لک بڑىی فضلت وارد
پڑے
مدان جنگ می لکھوڈو ںکی بڑی اہی ت دی ہے۔ پیاد دفو نع کے مال
دوز یادہمہتردیمت انام دی ہیں۔
آ ئن کے دور یل اس تتیادریی یل با تقاعدہت بیت یا ف فوع ء ینک اور بگتر بند
کم یاںء یکا پٹ نگ یطیارےعددورجدید کے ام اساوساز ان7 بآ خ وی کر
تحدواان گی ز یادہ کی یافت اراس یش شائل ہوکت ہیں-
قرآن یر ےجگی ادا کے ذیل یں ما ام کش کہا ےکی سے
تار شس حدکتق سے ہو کے۰ ول چایے کر یاست کے لف گی اد یس عد
یلکن ے؟ ا سکافیصلہء ا سکی ضرور یاتہ ا سکی معشت پل ون ,لی واقلیت اور
گی اور ین الاقوا بی عالات کے یی ںانک رہوگا۔
اس میا رک یکا مفصمدان الفاظ یل بیان ہواے:
ترهبوْتَ یه عَنُوٌاللو ےڈ“ مطلب کہ تیاراال ےہول چاپے
سک جوالد کے و وک ناوگہارے - ہیں ا نکوخوف ولا سو الع ہار دعا ات ھی
ے۔ا ال کےسا تح فرمایا:
خرن مزب لا تغلئ کل الۂرَغاۂ مجن ضر آوقہار ےکلے
ک رازی: اتی اکب ر ۸ء جزء۵ ال ۸ ۱۲ء نز طاظہ×٭خازن: لباب الیل :۳/ ۵۸
جھادکی تیاری اوراس کی غرضوغایت ۸
شرف ای جن تم ات ہولن وواعداودی بھی ہیں ہی نکی عداوت تم
اواقف ہوک بھی وقت و یں نقتصان یا سکتے ہیں ال پچگی تار یکا مقصد یدے
ناش تنا ےخلاف انا مک نے رز شی 0000
علاشیباورخظیٹنوں کے مقابلہیٹس ہے بیانلوگوں کے خلا کیل ہے مجود ات کے
من یں ہیں۔ بی ددال دویروں پرتلہ یا ن سے جن ککا ھی سے بللیجگپاں
کوجنگ سے روک ےکی تر ہے۔دنیاک ہلک اہتنا ےکہ ا کے پا انی طاقت ہو
کیک لک اں قد ورنہہو گے۔اسلام ن جیا الگا ہا تے۔
رن حر جیپ کے لے یں مسلرانو ںؤ وو ١ ے لد لو ری ططرں اط
چوس اور ہیں .سور نساءیس اکام چہادکابیان ا طرش روح ہوتاہے۔
ریت الَيَْْ اؤا خُلُوْا جرگ اسےایمان دالو!اپتی اعتیامارکواورپھنگڑہیں
فَانْهُوْا تاپ او ائھژُؤا کریگا کیشل میس یاایک ساتھ(چہاد کے لیے ) لو
(الئیاء:اے)
آیت کے الفاظہ یں: خلا چڈ رگم ۔چذد یا در سے ہیں پچنااور
ایا کرنا۔ یکا خوف ناک یا فنقصانادہ بیز سے ہ تا ے۔ امام راغحب حر کے مق
نات کی احتزاعن ضیف کی خوف ناپ چیڑ سے بینا لی ےلات جک
کے بھی ذرکہاجانے لگا۔ال لیک بیشن سےتفانظت اوراس کےکملوں سے بی
کاذ رایت ہیں ےد اج کے فا امام راب نے ان الفاظ مم بان کے ہیں :
مافيہامزر من السلاح و غیر دہ ٹس میں اعقیاطادد بے تھے
جتمیاروفیرہ_
من کضون:غزر ارز گے اتی الت ہیں .فلز ربا گاجطاش
ہوا ےلوہ بیدا ہوگیا او تناک یز سے ےگیا۔گد یا عتیاط اور با 2کواسں نے اپنے
() راخب مد تل فرب لآ ما ۸۷
۸۳ جھادکی تیاری اور اس کی غرض وغایت
وجال نکی تفافت کے ل یےآلہبنالیا۔یط
پور اط اور گی تار کی ہدایت کےساتح موی تچ وٹ یککڑایوں یا بڑے
ری پل میں جک کا مد ماکیاے۔
اں؟ بی تک اف یں حافظط اب نک کت ہیں:
اشقا ٰ اپ ناڈ للا نگ دے/ ے 7 ےنخااریں۔ال ے
لاز مآ تا ےک وہ مقا لے کے لیے اسلء ساز وسامان اورفو کی تعداد بیس اضافہ کے
ذر یع تیاررڑیں۔ اد کے رات میں لکلنے کے لیاغر(جنک کے لے لکل ام )سے
ور یں اضافہ گا گ
ملمان:جن عالات ےگ رر سے چان یل اس اعقاط اور تا کی نت
ضرورت یفھریں کلف تال اسلام اورا ہلا یر یاست سے کر پیار ھے۔ان
کے مقابلہ کے ےب تو بچو نے فوجی دس کیے پڑتے اوریھی بڑی فو نیل
دی ہوئی ان عالا تکاشلئ وجاں باز او رف ول مسلمان .گی جان سے متقابکررے
:ان کا اتاپ شع اا1 دہ نون نچ زا سن ےن نے
تھے جوول سے سلمانو ںکونالکام د یھن چاتے جے۔خود ایس ت تس یکا مظاہرہکمرتے اور
طررح طر کی افواہیں بھی اکر دوس رو ںک بھی بیجن یکرت ۔ق رآنن مجیر نے ای
سلمسلائ بیان ٹیش ان پرتقیدکی اوررسول ال لٹ هر سے نطاب مایا :
کقاِل ؿ َبیل اللوٴ لا نیل ل یس تم الل کے رات میں قفا لکرو تم صرف ابی
زات کے ڈے وار ہو۔ ممومتو ںکو(چن کی )
لے ترغیب دو۔ امیر ےکہ اللہ تعاٹی ان لوگو ںکو
آن کلف بائس الزشَ گکڑذا ول جنہوں نۓےکئرکیا سے بنگ سے درک دے۔ال
کہ زخشرکیءاککشافیگن تال الظز بل :۵۳۱۸۱
گل اہ نکش رکف الظرآن! شیب :ار ۵۲۶۴
تَفَْك وَعزض الْمُوُمِيْتن' عَتّی الله
جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت ۸۳
أَمََُرَأَمَاوَاَمَدُئنٹکیلاہ زیاددشدید ہے جنگ میں اورزیادهقتسزادیے
(الناء: )۸۲۳ والاے۔
مطلب یہ ہےکراے ال کے رسول !اجب الد کے رات یل چ ککا مو
ے1 پا 2 بڑھھیے ا ںکی پروانہ یی ےکہکوئی ساد دے را ے اگہیں۔آ پ
صحرف اپقی ذات کے ذمددار ہیں۔ ائل ایما نکواس میں شرکی تکی تیب دہچیے_ وہ
ماف نکی طر نیس رہیں ےکسا نکی رفاقتآ پکوعاصل ہوگی۔
چا کےا عم کےساتھ بی جتادیاگیاک ورک نی نک ہآ پکو جنگ از
کمرلی بی پڑے۔ ا ںکا تی امکان ے کہ جنگ کی وہت نآ ے۔ ای عالات پیدا
ہوسکت ہی ںک کن کےجھی ع زم ال جا یں اوروہاپنے ممیلوم ارادولں ے با زآ جائۓے
اور پااجک سےسا تی1 ےلان اکر ہیک ہلا ہ19 پکو پور قوت ے
ا ںکامقابلگرن چا بیے۔ شی نکی طاقت سے ہراساں ہون ےکی ضرور تم ہا سک جا
طائت ہے اللدتعالی ال ے زیادہ طات ور ہے۔ بی در تفیاشت اعقاشیی تر اور
خودتاات یک یکوششل ے۔
سر حدکی فا ظت
ہکا رےلما نے سلرانوں کےامام یا براؤنک تکی رذ مددار یتر اردئی ہے
0ک دق لی اور نما رگ یق ملوں سے دیاس تک عفافظ تکرے۔ اکا یس رحدو ںی
طاخم تآلی ہے برآن یی ہدامتدے:
ھا ال امو ایلوا النَْ سے ایمان دالوا جگکردانال لکفرےجق ے
وک دن الْکقار وَلیجل ا فیگڑ قریب ہیں۔ہدضمارےائد رت سو ںکریںءاور
ظِلكةًُ وَاغلوا اق اللة تم جان کان تتیوں کےساتھ ہے(اس لیے اس
َ
الْمْكَقَزيَن(۳::,۶۱٢٢) ےڈرتے رہو)۔
۸۲ جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت
یت کےالفاظ عام ہیں یکن اس سےسرعدو لک حفاظت کے سلسل می بھی
اترلا لکیا جاسکتا ہے۔ اسلائی ریاست کے خلا فکوکی من طاتت ےی کا موہ
بناۓ ال پرمل ہآ ور وا لایر یاست پود قوت سےا لکامقاب کر گی مبراپنے
دفا کے نیا لکی نگ وگ اوراس کے لے تیارییکودفا گی تار با جا ےگا
خرن یرش جن کک تجارکی کے ذ یل می لرباطاد رم ایل کے انا طلاجھ یک ۓ
یں۔ان الفاظہ کے فا ہی ںپنگی مقاصد کے ےکوڑو ںکوتیارکرنا۔ ان می دوط ڈنل
اور مساق تکا تصصورجھی پایا جا تا ہے۔ اس لیے مہ الفاظا سرع کی تفاظت کے ل بھی
استعال ہوتے ہیں۔ ال لیے سرعد پر دفول طط رف فوع تار ہو سے اورڈن 2
عو ںکاا سے متقاہ لکنا بڑما ےل
گی ارری کےسل لے می سور ٗانفا لکی1 بت(٦٦) کاہالسگزرچاے
وَاِدُوْا لَهُۂْ ا اطم شن فة٤ ِن اط الّقَيلِ تُرهِبونَ یہ عَلةً
الله وَعَلُوگُ ”اور چاررھوان 27 ےجس 27 سے ہو کے (فو یی ) قوت اور
بن ھھے ہو ۓگھوڑۓ:نس سےالآیدا تھا ےہ ہغ فمارؤرے۔“
ایک اور ارشادے:
۳۵ الَزَْ أمَنُوا اصُپژُوا وَصَابزُو ا اے ایمان دالوا صب کرو اور متقابلہ ش لخاہت
ورابظوا وَالّھُوا اللة لگ قمیم رہواورٹڑےہواوراشرےڈرتے رہ
ُنْْغُورَہ 0ل ھران: )۰۰ میدن فانپاؤگ۔
علام ریا نے راغذ فی ران الفاظ شی لکی ہے:
أقیموا فی الثغور رابطین خیلکم فہاء. مریریں رق یا مکردءوہاں اپ ےگھوڑو ںکوتیاررکو
مترصدین مستعدین للغزو ٠ گحا ت لگا ےۓٹاٹھواور جنگ کے لیے تیاررہو۔
ک تفصبیل کے لی ملا حظہہو: ملا یا رکیءمرتا:الصان:ے رے ٢۵
۳ہ زشرکیءاللشاف :۱ء ۲۲۹
جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت ۸۵
اعادیث می ل'ر باط کی بنڑکی فضیلت وارد ہے۔حخرت سلمان فاری“ بیان
کرت ہی ںکبیش نے ریسو اکم ایپ م کا رشمادسناے:
يناط زم لم خْڑ من امم شر سرد پرایک دن اودرات کا قیام ایک ہین کے
اہ وَإنْ اث جی عَلَِْ َمَل روزوں اور کی راتوں کے قیام سےبہترسے۔ گر
الّذِي کانَ يَمَله. وَأَجْریَ عَلَيھ یز اس ی سآ دن یکیموت واقح ہوجا تو ںکاوہگل
َأَمِنَ الْفتَانَ ل جئار گا جدہکرتار اہے+ اس را لکارذقی جار
رہگااوردہ( قب کے ) فقتنہ سے مامون رہےگا۔
ایک اورعد بی ثتحخرت فضالہم نکد ےمد اے 27
فزاا
می یغقم لی لہ الا الذی ہبی تک اگ ٹم کردیاجاجاے سوا اہنس سے
مَاتَ مُرَابطًا فی سبیل اللہ فََِ بی لَُ جواش کے رات میں سرع دکی اط تکرتے ہوۓے
خَفلہ ال توم الققاقاةہ وأ من فِشَة ان دے۔ا کال می روزقام تک اضاذ
القَرٹ کیا جاتاربتاےاورو قب رکے نے سےنفوفارہتا ے_
علامہائن !ہام کے ہی کہ چھادجی کےعم میں رباط بھی ہے۔ اکا لہ
قیا ہاج ہے جہاں سے لن کے ےکا امکان ہے۔ بی قیام الیل کی رضا کی اط رہونا
چاہیے۔ال کے بحدعلامرائنالہماغ نے ان اعادی ثکا ذک رکیا ہے جور با کی فضیلت
کے مل سے یل عم روکی ہیں ۔ت
افرادیٴطانت
گی ابی کےسل لم قرآن میرنے اسحراوف کی سا سادا نکاجہاں دکرگیا
0 مسلم کاب الا مار8ہ با نل الہ باطافینٹل ارڈ زونل۔
کہ تنک ٥ا فضائلالہاد باب ماجاء ٹیپل ین مات م ابطا۔ااودا ود :تاب الجہادہ باب ڈنل الر بط
ۓ اکن الہمامء رم القد یر:۵ ٣۱۹۸
۸٦ جھادکی تھاری اور اس کی فرضن وغایت
سے و ہیں اف را اد طافت ٣×۰ 0/۰۵( کوٹھی نما امھت در ے۔
رسول اہ ٹہ کے مہ میس افرادخوددی گی تار کرت تے۔ یھن کے
ماب ےاورابقی دفاغ کے لے ہروغت کس رتے ےت رآآن نے ا نکیا تیار یکا رخ
موڑ دمااورائیی جچہاد یتیل ال کے لیے تیار رت اور کا نقاضا ہو یا :ری ء یہ
1 سان 1 ہوات اورعد مکہوات ہرعال می نل پڑن ےکاعم دیا:
اپھڑؤا جانا وَثِقالا ٤ بجاڈا گل پڑوہ(سازوسامان کے اط سے ) خواہ گے
مو الگٹھ تنگ مَبِبْلِ الْوڈٹ نہوں پا ہیل ۔اورال کے رات شیل اپ مال
لف مڈلگُۂ ان فُنْفغ تَغلم وہ ارجان سے چہاوکرد۔ تارق می بجر
(التویت*:ام)> سے اگ رق اے جا نلو۔ل
کم زورایمان وانے اورمنانقین اس موا لے میں یں وڈ لکرتے جے۔
یں حخت الف ظط می چیک یگئ یک اگرتم ال کے رات میں جچہاد کے لیے تیارہ ہو ےھ
ا ای دوسروں سے بیخدمت لگا اورقم ا سےکوگی ضررکیس جہچچاسکتے فرمایا:
ھا الَيِنَْ امَنوا مالگۂ اکا ول لگمر اے ودولوگوجوایمان لاۓ و اہی ںکیا گیا ے
ائیڑؤا ؿ سَیِمل لو اتَاقََمْم ال کرک ےالل کرات می نے کے یی
الازض* اَرَحِیْکم بالَیوة اللُنْما ەنَ یں سش
.ہر و سپ نت کے عقا پل دای نکی ےن د؟
۱ ف زے اج گن کا ا2 5 ۱ +2 1
خر فی ع یو لیا قُِ حعالا لکہدنیا کی زن گی کا ساز وساما نآ خرت
از الا قنِل لا تغشزذا ئک لِِسك سج بے می بی تھوڑدے۔ گر دکلوے
لابا انا تد قومما لک وا توا ہیں دردناک عذاب دےگااورتباری
وکیا ال ۂعل ہن کن کون عکہوضرد ںکو نے ےگاادرتم ال کا پجھ بگاڑ
(لتیِ_۸ ۳۹۰۳) نمو گے۔الشبرتزرقدرت ءکتاے۔
ل خِفَانَاؤً الگ کے بہت سےمبوم بان ہو ہیں۔ انام راک ا کا خلاصہ بیا نکر تے نی ںہ
چہار کے یگل پڈدہ چا ےتمہارے لییےآسمان ہو یا مششکل کن رک کر +۸ جزء٦ابگ۵۲۷
جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت ے۸
کہ گیا الما نین ہار کے لے می طر1 مادہ نیش تھے ورثا ا ںففلت اور
ابی کا مظاہرہنےہوتا-
لو اروا افج ل خلا لعل اکر وہ جہاد کے لے للنا چا تو اس کے لیے
ےلکن کر الله الِکَاکخمھ فلخ َفگی سامان تتارکرتے لان انڈرنے ا نکا انان پینرکیا
الام الین (۱ ,::۴۷) اورک ہاگ اکہ ٹر مو ٹین والوں کے ساتھ۔
بک کے لےافمادی طاش تکفتی ہوہا کا فیملہعالات کے مطال ہوگا۔ اس
معالے ٹیل اسسلام نے اصمولی ہدایت بی دییا ے راف اد قوت میں فرشین کے ورمیان
ایک عد کک وازن ضروریٰے۔ یرم موی حدم وازن ہہو وکا م یا کون شگلیے
کی جائکتی ہے۔ چناں چرجب سلمان تعداٹش بہتتھوڑے خے ہمان ان کے انور
ايمای جوی دجن بب شبات اوراتتنظاص تک یی تیفزوں تی ب وع تھا الارا ا7ف
اگریںگڑا بھی جح صلہاورجمت ثہ ہار حر ےکا مماو۔ ا تھا ٹی نما عطا اکرےا:
پیا الک حشثك الله ون اليقتق اسے یاالتھارے لیکائی باوجال ایمان
ون لْمیفعہ نا القق عژڑض تماد اتا کرد ہے ہیں (دہکاٹی ہیں ) اے
ارہس لوماز دک ون کال میگ ادا رے
: کا سر شی یں ثابت قدم ر بے وانے بہوں گےتو دوسو پر
ماروق ضرلؤت ۷لااؤا بالظظیافان رس یس ےہر( ے) رس ج7
کن ہیل شوھ زار اٹ لکفر پرخلبہ پا میں گے۔ اس یی ےک دہ
اليِمَْ گَفَرُوا الم تو لا بیس رککت ( کہ اللدکی راوئٹ ان دی اتی
يَفْقَهُوِْن (لاقال: (٥۵۰۷٢ بڑیسعادت ے)۔
ای کے عف بی ہیوت ۓکہرائل ایمان کے اندرصبردشبات ہود دو ان سے و کنا
ہابت درترب فکامقاب لک ر کت ہیں۔دوٹیں ہو ںو دوس پراورس ہو لآو ہار پرفلبہ ٦ سک
ہیں۔ا یی ؤ ںکناطات بھی پش بڈناچا ےن کم خائں حالات یل
تھا جب کر رسول الد الم رکوقال کےکمو ںکورو کے کے لی ملف اطراف وجوا پ
۸۸ جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت
ٹس پچھ وٹ چو نے فوی دتے کی ہڑتے سے اورشنس اوقات بی ق بای طاق تکا
متقابلکرنا پڑت توای لین ورس جب مسلمانو ںکیتندادیش اضافہہواتواال ایما نکو
مہہ یت نازل ہولی:
الا کک اللہ نگ وََمر جع ابالنےا الہ تم پنخفی فکردیی ہے اور
فیک مَغقا از زکا ونٹرولڈ 5" مم" :۳
صَابِرَةً يَعلِْوْا يِائَکن' وَان دَ ہوںتودوسپرغال بآگیں کے اوراگرتم یس (اییے)
نگ آ لف یبا الَقَشْي بِلِئْن الو برا ہوں تو دو رار پرائٹد کےعم سے غالب رہیں
وَالله مم الہ (انخال:٦٦) کےاورانشبرکرنے والوں کے اتھ ہے۔
قرآن ید نے ہدای کی ہ ےک مدان جنگ می انمت اور پامردگی
کا شوتد یا جاے اوراس با تکونا جائزاورت ام قرادد یا ےکآ دی متا بے سے جےیے
ٹے اور نکو پیچھ کم نے موائے اتی ک ےیگ ی تی اکا تقاضا رئاف
ارغادے:
۳۷ الَزَِْ امَثّا إِذا لَیْکُھ الَزَْ اےایمان دالوا جب و جکشی کے موق پرتہارا
گا وا رع لا لوم الغازن ان یں سے سام ہوجنہوں تےکفرکیا تو
یس پیٹھ ھا وو سکیا نے اس دن کی ایق
پیٹدکھائی سوا ال کےکددہ جن کک کوک یت ہیر
کال آؤ منَعْڈا ال فَقٍ قن نہ کنا چا ہے ابق فو ےکی حصک رف1
بغَضْپٍ قِ اللہ وَمَأوْںهُ جَھُگم+ چاے تد ووائڈرکاخضب نےکرلوٹا اور ا کا انا
وَيکس المَصِيڑ0ف(اانال:۷۰۱۵) سک جش نم اوردہبراٹھاے۔
عریٹث یل میدالن جنگ ےرا رلک پائر یں شا رک یاگیاے۔ ہار اورسلم
میں نحخرت الو پمریم یر کی ددایت ےک رسول الل سأ ہك نے فرمایا: :اجتنبوا السبع
لی رازی:اتخم ابر ۸۷ء جز ء۵ ال ۱۵۳
یو مہا
چھانگی تھاری او امن کی خرائن رفایت ۸۹
الموبقات( مات لا ا گکرنے وا لےگمناہوں سے ہو )ان بل سے ای ککناہآپ نے
بدتایا: والتوٹ یوم الزحعف( جنگ کے روز بھی رنا)۔ل
سور انفا لکیآ یت (۱٦۷)او رکز رک ہے۔اش مل بشثارت دی ای ہے ےہ
نکی تعداددو ند ؤوگھی ال تعالی ملمانو ںکوفلٍعطا اکر گا۔ ا کا مطلب بے
کیخالف وین ہو وجھی مسر نو ںکوبمت کیل با فی چابے اود کڑس بنا چا ہے۔
سوال پچ کہاگ ردوگئی سے زیادہأون سے الو ھکیا اسلا لع پپاأانیار
فلط او رگزا ہکا باعحعث ہہوگا؟ علماء نے اس کے نفا نکی اور اخلائی پپہلو سے بح کی ے۔
علامہٹ رھ کے ہی کہ اد تعالی نے ایت می عم دیا ےکر ائل ایمان جاںین
پشت نددکھا .یں ییگم ال نشرط کے ساتحھمش روط ےک ہت ری کک تدادوکئی سے زیادہنہ
ہو۔ ال صورت می ال ایاان کے لفن ہ ےکدہ میدن جنگ سےفرار نہ اختیار
کی س یکن گرفر اق مخالف تعدادشش دوگنے سے ز یادہ ہو پ سال اخیالکرا جم نہ وگا۔
جحخر تک بدالرائن مال لف باتے ہی سک جو دو کے متا لے بس ہا کنا تو اس
نف رارکی راہانختیارکی۔اگردہ تین سےفرا اراختیارک رتا کو اسےفرارکڑ سکہاجات ۓگا۔
مطلب پیک دہف رارکی یداش نہیں ہوگا۔
نض حرات نے اس معاے یس تعدادہ یکا یں ضف وقوتء الم
سامالن جنگ اورہہار تکواگی یی نظ ررکھاہے۔ ا لوان سے سوکھٹسوارکاف لی الف کے
سوکھٹرسوار سے یی ہٹ جاناجا تر ہویگاءاگ ردان پپلوئوں سے گنی سے نیا د٤ طاقت رکتا
ہو لیکن جمہودکی راۓ میا ہ ےک میدالن جنگ مےفرارکاجاز ای وشت ےج بکہ
7ی فکی تعدادونی سے زیادہ ہوہ در ننجییں۔ بڑھی سے بڑکی فور کے متا لے میں
ما بفادکی :تاب الوصایاء ان ال بین یاکلون اموال الیتا یما ۔سلم :تاب الا بمانء باب
بن الکپائزراکجرھا۔
۹۰
جھادکی تیاری اوراس کی غرض وغایت
ثابت دی بہرحال پہندیدہ ہے۔علا ق ری نے ا کی ای سچھیادی ہی ںکیمسلمانوں
نے اپتنے سےدوچند ہلل چنؤح کا ماب لرکیاے۔ل
علا ماوق اکر اٹل مکی رائے ان الا ایس با نکر تے ہیں :
ان اکّسْلِمِینَ إِذا کانوا عَلّی الشُطٔر مِنْ
عَدُوِمِمْ لا یجوز لہم أن یفروا ویولوا
طہُورهُم إِلّا مُتحََفا لال آؤ مُتحَبَزا
لی فِتة, وَإِنْ گاثوا اف مِن ذَِك جاژ
َُغ ان یُولوا ظُْوتَهُم وَیْنخاژوا
مگ
اگرلمان اپنے سن سے نص فتحدادیٹش ہو ںو
فراراختیارکرنا اوراسے پیم دکھانا جائ یں ہے
ں اک رکدئی گی چا ہو با اپ ےسیا فوگی دستے
شال ہونا یں ظر بیو ا ںکی اجاأت دے۔
اگ رو وف سےےکم ہوںتوان کے لیے پچ دکھانا
اوران رر و ہوا
برای ک قافونی بح ےک لڑائی کے میدان سے پسائی اختیارکی جالی سے ۱
ئ5 جواز ےون عالا تل ے؟ 7 0
ہے۔ بی جذ ہے جہادکے منائینیں ہے۔م کن میدا نکارذارییس جانا شی پر نےکر چاتا
ہے اورشہاد تکوشھلن سعا وت او رکرتا ے۔ا ٴںکا اک روف اورا لک جک بڑھنااور جتیے
اسب پحس لی ےکھت ہہوگا۔ بزو یکا پہلواس میں قلماً وکا ا کا ائمان د
ین اورال سکا جنر نےصادقی بی ال کا ائکلص مار ہے۔ال سے دوب ڑگ سے بڑکی لیف
طافت پرخا حا لک رتا ہے اورحاص لکرتار ہے میچی تفیقت ارآ ن یس ائن الفاظ یش
انل ے۔
گ شن کے قَلِلَے لیت وقَة كَيِڈَہ بارہااییا ہوا ےک جچوکی جماعت بڑکیجماعت پر
لذْن وو اللْهمَع الطیٍرفقَہ ال کےعم سے غالب ہوکی ہے اور ادص کر نے
(الپقر )۲۳۹:3 دالوں کے تھے
نہ تر یءالیا مع لا حکام الرن: ج۷" ء بے ض۱ ٣٢
یہ بخوبی: مال مق یی نز ملا حظہہوغخازن ملباب القاویل لی معانی اش زیل :۱۸۳۔ا م وضو پرعز ید
بحھٹ کے رہوں اکیاجاے۔ امن قراب٘نٴ: ۳ء ٦ اورا ے؟ گے۔
جھادکی تیاری اور اس کی غرضوغایت ۹
قرآن نے جن کک تیار کی ج ہدایات دک ہیں اود اعادیث مم ا کی چھ
تتصیلا تآئی ہیں کی بیہاں شی لک ایا ہے۔ جن ککی تا کی کی تکی ہوا ا کا
تل زمان ومکان اورعالات سے سے۔البتدر یاستکا تذنيضروری ے-ا ان لع
وەلازل|ا قدابا تر ےگی۔ہسوالی ىہ ے 0 پندری اور شتگردی ے؟
کیاریفو را اضسانی کےغلافکوئی خفیمنسو ہباودسازی ہے؟اگراسلائیر یاست پر بیالزام
ماد وکا ودنا یکو بھی ر یاست ا سے برکیشی قراردی جات
بلیک تقیقت ےکرک یبھیعلومت کے لیو تی ماس ری طاقت ضروری
ہے۔و ہا ںکیاوانا یکابڑاذر یراو راس کے بقاکی انت ہے۔اس کے خی را کاو جوددی
خنطرے میں ر ےکا وع ر باصت کے دی فبوں اوریی مو ںایظر 002 ول تملوں
ےاں اط لت کی سے وہ دورییںپنخ فا کی اوررفا یک اموں بھی وت
ضردرت اس سے مددلی عالی ہےء دوا یق جا تنطرے می ڈا لکرخدمات انام دق
ہے۔ اس کے لے اسے خائک طر کی یت دک عائی ہے ت کیا جا تاے: ا کی
بمتافزای ہولی ےء ایس کے جو صے بلند رک ےک یکوش کی ای ےاورا کی خدما تکا
اکترا فکیاجاتا ہے۔ان سب ہاقو کوچ ئز یتو ئی اورگی مفادلضروری مچھاجاتا ے_
لیکن اسلام جب الد کے دن یس ربلندی اور اسسلائی ر یاس تکی حفاظ تکو چا ہکتا
ہے ال کی تزخیب د یّااورا ےکَایل ا بگرارد یا جا تواختزاضا تک لو پھانٹرو
+وعا ی ہے الام ختوں ریج کی 1 لیم دیااوراپنے ماۓ والو ںکوتو نآنا یکا چکا
لاجدے۔
۹۲٢
ماد چار
چہادکا 7 مس لیے ہے اوراسلائی ر یاست کس مقصصد کے لے چہاہکر ےگی؟
ا ںکا جاناضروری ے۔ای سے چہاداوردذس بیو ںکاذرقی وا ہوگاء ور ضا ےکی دتیا
کی دو ری جگو ںکی طر نکی ایک جنگ مھا جا ےگا نکا متصددوسرو ںکوفلام بنانااور
ابناا تق ارظا مکنا ہوتا ے۔ دنا کی ظا اود جابرق میں ا رت مکی جھیںک ری (نق ئن اود
گج کردی ہیں حوال می ےک کیا اسلام نے جن کک اجزت نا خول ریب اور
تی اتک کی کے لی ے؟ : یوسی ار دای متصصد کے لیے ے؟ نان ے
پوعدودوتُورڑیں يایہ /قاعرہوضابطاور 7 بکانانے؟
جال ال
اعلام نس جن ککاعم د یا ےا سے وو علق جنگ یا قڈا لی سکبتاء بک
جار یل الکہتاہے۔اس ووا یما نکی درا تکی دی ل تر اردیتاے ٹر مایا:
ئا الْبَژمنُؤن الَيِْیَ اکا پالڈو مک نتو ہس دہ ہیں جوالشداودراس کے رسول پھ
شوہ تق لم بیڑنائوا وَیل ا ایمانلاۓےء بھرشک می کی پڈے اوراپنے
ِا الِهنم وََنْفُسِهِمْ مَیِیْل لیا اموال ورس کےذر بے اللہ سے رات میں
أولبیت ہم الکو 0ں(اگرت:٥ا) جہادکیا۔ بجی جے(ایمان دانے) ہیں۔
۱ اج لدرد تلذ ایل ال بھی ااتاے۔ارشادے:
مقاصدجھاد ۹۳٣"
وَقَايِلوا سیل الله ءَ الما اق اوراش کے رات یں جنکک۷رداورجان لاہ
اللهسیِيْعٌ عَلِيمْنَ(ۃ۰:٢٥٣) الد تنے اورجانۓ والا ے۔
ایک تک ا سںکاممانالفاظٹ ںآ یاے۔
وَقَاتلو ١ سَیيل اللہ الَزََ اور جن کک روالد کے رات میں ان سے جوم سے
ِقَاللوَگُ ولا تغتڈؤا* اق الله گا جگکررے ہیں اود زیادثی شک رو۔ بے تک
کُب الْفْعكَينن (اۃ:۹۰) ال دز یاد یکر دالو لکنا پن رتا ے_
اعلاءع رت الد
نال ی مل اشاور جار می اوڈداس جن کلوکہاجا تاے جواپنے ذاگی مفاد
ای اورکوفادہ بیانے الیک کے پا سے ما حلو ت جچییۓے اور دم ےت اقترار
پرفائدکر نے کے لکیہ بکیج اولدتھالی کےد مین اوراس کےک کی سس ربلندکی کے
لیے ہو۔اسس کے علا وہک گی دوس ربی غمٹش اس میں شائلل زہہو۔ ا سے اعلا مت ٹھج کہا
گیا ے۔ ابھی سور یق ر ی1 بت(۱۹۰)کا حوالہگزر کا ےجس می قال نی معحل
الل اعم د ایا ہے۔اس کت علام ہتشر نے ققال نی یل او دکینھریف ان
الفاظ مم کی ے:
ا مقاتلة نی سبیل الله: هو الجہاد ال نی یل اللاس ماد کہا جا جا ے جوادد کے
لإعلاء کلمة الله واعزاز الدین سل تکس یلنداوددین کےا زازقو تی رکے لیے ہو۔
ایآ یت کےذ یل یس قاضی بیناوی کے الفاظ ہیں:
جاھدوا لإعلاء کلمته واعزاز دینھ گے جچہادکرواشد کےک مکی صس رجلنعدیی اوراس کے دن
0002-7
الکخافثن حا لن التر بل :: / ٣۳٣٣
تک بییضنادکیءانوارا لگ زیل واساراتاویل:ا /۱۰۸
۹۳ مقاصدجھاد
ہیک لی رضا لج
اس جک میں جو اخلاضص مطلوب سے امام راز ا کی طرف اشارہ
سد ہیں:
وقانڈوا نی سبیلِ ال أي فی طاشن جنگ رواش کے رات یس لڑنی ا کی اطاعت
وَطلَبِ رِضُوَانِهِل وف ماں برداری اود سںکی نل نود یی طلب مل
جس چہا رام ہے اے ال نکیل ال کیا ہے ا کا مطلب ہے وہ
جنگ جو الد کے رات یی ہوا سے م راد الد تال اکادین اورششریعت سے می وہ
راس ےن پر لکرانسان دیاورآ خرت لان اب ہوکتا ے۔علامابوحیان
انی نے جھاوکامتقصداورٹی یل اللری محنو یت الن الفاظل بیا نکی ہے:
وَالظَامِر أَنَ ا مقاتلة فی سبیل الله يٌ قال ثی یل ال ےہ ظا رکفاراورشح رن ے
انا ق اقتا اظلتاامین اکٹ جہادمراد سے جواظہاردین اوراعلا 1ت الل ے
لے .ہم یل کے معن راتے کے ہیں۔ یہاں
لف الم کے وین اور ا سکیش ریعت کے لیے
مستعارلیا گیا ہے۔ ال کہا داستہ پر جن
وَاسْتْعِبرَ لِیینِ اللہ وَشرائيه فِنَ
ابع ذَلِكَ يَہل بهِ إِل بُغْيَيِه الدَييِئة ۱ ا
اع کی والا اپنے د نی اور زیوکی مقصمدنک با چا ہے ۔ اس
والأنةون. شب بالطریق اع لے ےہ رات ےک د کے جوانان
الِْْسَانَ إِل مَا بَفُصِدُۂگ کےمتصر دک ا سک رسا یکاذریدے۔
علأا مہ لوف مات ہیں:
أي جاہدوا لڑعزاز دین الله تعالی مین جہاوکروہااڈتالی کےدین کے اع زازواکرامماوراں
واعلاء کلمتة- فالسبیل۔ بمعی الطریق کے یکو لنرک رنے کے لے انیل مداتے کے نی
۷ رازی ہنی ابی :رع ۳ء تز ء۵ ضص ۱۰۹
ابوعیان+الحرایز:٢/۲ے, سے
ناناضت:چھاد 0۵
مستعار لدین الله تعالی وکلمتہ لأن“ میں ہے جوا رتعالی کےد بن اوراس کے کے کے لیے
یتوصل المؤمن بہ ایق مرضاته استعال ہوا ےہ اس یےکہای کے ذریعے سے موی
تعا یے اشتعا ٰکمفیالتکک سال ل/+اے-
72 لن یر کےالفاظ اوراہل یتر بکات ےا ےک جادل اشل الد
۱ اںج کا نام ہے ججوالید کےد ناورا نیٹ بیع تک مس مدکی کے لیے ہو۔اسے ہیں
بھی کہا جاسکتا ے کٹ سکا متصررر بن اورشر یع ت کا نفاذ ہو_ چہادرے! ال ضب -
نے نخاندائی ء ای سی اود نی مجنگو ںکولطط اور ا ا لآراردیا ہے۔انں - ۵ه
نگ جوا پاکیزو مب اشن کے لے نب ہفرکی جنگ ادرف نل لطافورت سے
اسلام ا عطر کی جنگ کےخلاف ہے اورطاقت سے اےرہکناچابتااے_
لَيَْ آمَنُوْا ُقَاتِلُوِنَ ؿ ہیل او وہلوگ جایمان دانے ہیں ال کے رات میں
وَالَيَِ گرؤا يقَاتلوْنَ ؿ سٹلل جن گکرتے ہیں اور جنوں ن ےکف رکیا وہ
الا غُوْتِ فَقَاتِلو ا َء الکیْطی مطافوت کے رات میں لڑتے ہیںہ لہذاتم
گت اط تا فان خیطان کےہمائتیوں سے جن ککرو۔ بے ئتک
(الثماء:٦ے) خیطا نک یتم یم زورے۔
مقصدد جچمادکی وضاحت
اش پگ جذبراور ا اک متصیدر کے جمت ہوتا چابیے اےاعادیثٹ ٹل
بخوی ا کرد یاگیا ہے۔حطرت الو وی اش کیو کی روابیت ہ ےک الیک اع ای نے
رسول اٹلا نکی خدمت میس حاض رہہوک رسوا لکیا کہ اے اللر کے رسول سای !
(قال فی ہیل الکیا ے؟ اس ےک )یٹ نیس تکی زا طر ہت گکرتاے؛ ایک
تفر ما مار تم سے ہت اتا ہے ال جات ےکا لکاذکر اود چم چا ہو
۹8٦ مقاصدجھاد
یٹ ان لا ےک ناسک دز تق لک کن ا زوبیت
ڈوی ایا ایس بنا ضدمنا لے کے للہا ہے۔ای رح یق ی ماق ی
عمیت کت اتا ہے۔ان میس ےکم ٹن کی پت ککوئی جیل اللہ جا ےگا؟ آپ
نے اکن بس سے ایک ایک با تکا جو اب دی ےکی ہیل قد چہاوکوچندجائ کرات ٹل
با نہر ادیا:
من فائن نون کڈ ال ہی الْشلا ہج کی نے اس لے جن کک یک راس سے ال کا
تپ تو الکو کہ بلندد ہوتوا سکی جنک نیل الد ( یش الد
کےے دنت مین 6اڑگی۔
امام نواس کےذ یل مم سککیتت ہیں:
ون الفضل الُي ود نی اکمَاہددین میاہرین ن یھ اوشی فضیالت جواحادیٹ ل1ل
فی سبیلِ اللہ یَخْتصُ بمن قَائَلَ ےوہانلوگوں کے لیبن ے جوصرف الد
کون کِمَهُ اللِّ هي العلیاۓ ےکی سر بلندی کے لے جن کک یں۔
حطر ت الو ہر یرہ یکی ردایت ےک رسول ال سلیینہ نر مایا:امتعالی
عضمانت تا سے اوران او پر واج ب ٹر 7 ا وت و ا
کے پیش نظ صصرف اس کے رات میس چہاد ہو دہ انس پپرایمان رتا اوداس کےرسولو ںکی
تید ب یکرت ہوقو ودوا سے جنت بی دق لک ےکا یا اسے ال کےگھ لوا ت ۓےگا اس اہر و
ق اب اویمت کے ا تھ جوا سے ملاے۔ ۳
ہے بفاری :تاب اجہادوالسیر ہ جا بن تقاتل امو ن کلت ابی مایا سلم :کتتاب الا مارۃء با بن
تال پنکو نپ ابڑیی لعل یاأھو ٹیل ال نیز لا حظہہوہ اود ود :تر مکی ہنسائی این ماج اواب الجہاد
رن مصسلم :نے ہ جزء ۳ ۱ہس ۴۳۔حافظ ار ن جرف ماتے ہی ںکہ ہا دکا گی او را پھر کت اعلاء
کل ای ہون چاہےء ہاں اگ رضمنا دوسربی یز یی حاصل ہو جا یتو اس ےڈ اب می فرقی وا نہ
ہو ۔تفصیل کے لےلاظ:ہ :ہم البارل:"/۱۰۹-٠۱۱ ۱
لے فارگ تاب الایمان باب لیپا کن الایمان ۔سلم تاب الامار3ہ با بل الہادوا رون ثی مل اش
0ہ ے۹
جخکرت زی زیڈ کی رایت یک یکس نی نے ول اتا نت
7 عمق کیاکی دی چاو یک۴یل الشکاادادہکرتا ہے این دوداکی چیزوں یس سےاوی چچز
چابتاے۔(کیادہ خن ار ے؟)آ اب فا اجرلۂ ان کا کرک ائنکین
ے۔لوگوں نے یا کیا ا تفر سے اک ,ھ7۶2 ایم شایايقی بات
مان کےءاسے رسول ارڈ سأ فہک کےسا سے دوبارہ ٹن کمرو۔ اس نے ابق بات دویارہ
2 کراے اید کے رسول !دی چھادک رتا ہے اوددخیا کے ساز وسامان مس ےکوگی یز
چاتاۓ؟آ أپ نےفرمایا:لڈ اجر لہ اسےکوٹی ا یں لےگا۔اوگوں کے کین پا
ر00 0900
یں ےل
نظرت معاذ شی الشدعہ روا ی تکر تے ہی ںکہ رسول ال تنم نے ارشاد
فرماا:خزوات دوطرع کے ہوتے ہیں : جوفحس اس سے اللہ تی اک ضا جا اما مکی
اطاح تکرے اپ ی من رین چز(جان اور مال )خ رت کرے اپن ہم مر کے سام ری
کامحاعلکرے اورفماد سے بھیار سوا سس کے سو نے اورچا ان ہر کاو وپ جج کین
ماشہ ہوا ےرہ زا وش
یں فساد میا کو ود برابررا 7 ارگ ہیں لو گا( عالت مم لممیا ھااسشں سے برے
عال میں دایل ہوگا)۔ گ
تخری تکب راڈ دنگ رو روایت ےک اکھوں نے رسول اود ٹاہ سےعفس
کیاکہ اأخبرنی عن الجھاد و الغزو گے چہاداورغروے( کی فضیلت)تاے
آپ نے ارشادف مایا :اےعبداید ینگ اگرتم نے جہاد یش صب ردشبا تکامظاہرہکیاء
کہاوداود کاب الیہادہ باب فی نبفزو تس الد نیا
کہ ابودا و سناب الجہاد ہاب ثیٗ نییغزوڈأس الدتا۔ضائی تاب ہا اڈ ھن لصدق ئل اش
۹۸ 01)
ا بک فا راس میں ش رک تک یتو ارڈ تا ی ہیں صابرا سب (طال بی اب )کی
حیشیت سے اٹھا ےگا ین اگرتم نے د یا اریی کے لے یا مال ددوات ٹیل اضانے
کے سے جن ککیتو انشنتھالی ر یا ار ادرطالب ما لکیاحثیت سے اٹھا گا ا ےمپر
الکن گردا ٛ۲س سنہ اورکیفیت کےساتحقم نے جن کک اود مارے گے انتا لی ای
اد نت کے سا پا ےگا مه
خر ت عبادہرکن صاصت کت ہی سک رسول ال سأ ٹاہ نے فر مایا :نس نے
جن کک ادا لک نیتصرف ای کپچ وٹ یی رٹ یکیامی تو اسے دی لگا :٘ سک ا نے
نی کیٹ
برے بجباد یاقال نی 8" راودا ںکی
رضااورخ"ل نودبی کے لےلڑی اتی ہے۔ جو جنگ ذائی اخراخشءجذ ہن شبرت یا قاگی اور
توب ی ممادات کے لیے ہودتیا کی میس ا سکی 0927 ہچاد نی ضُلالدد
ہوا وزدوان ا فا بک ان نزقراد یا گی۔
لے اوداقد کاب الجہاد باب کن قات لو نچک ایی العلیا_
لگ نسائی کتابالجہاد یا بن فزالی یل ارول ین فزاحۃالا عقالا۔سترا7 :۷ء ۳۵۱۰۴۳۵۰۴۳۰
۹9
فانش تم ہو
می آزادی بائٰی رے
یب
تتنرے
چہادکا یک متقصد خت ےکا مقا کر ناودرا ےتٴخمکرنا ے۔ بی مدق ریش اور
ال کے جنگ نے یم کےذ یل مل بیان ہ اے۔ارشادے:
وِقائلوا ؿ مَہیلِ الہ الَیَ
قَاِلوتَکُ ولا تَعک د١ا الله للا ئیۓُ
الَْغْكَیئہ وَافْثلوِْمُم
تَقِفْتْبوَْمُم وَآَخْرِجُؤْهُمْ قِن عَیْثُ
ٌ خُرچُو کم وَالْفِثْتَةُ امن من الْقَثلِ؟
وَلّا ثُقيلومُم یئن الْمَشجں الحراوِ
نار اک ہڑاۂ +٭ے-
فان انْعھَوا فان الله سٔ رجہ
وَفحلْمُم عَٹی لا تَکُوْنَ فَثتهُويَکُونَ
001 اخ
عَل اللہ الِفَھَز الْكَرم يالفُفر
لحار وَالث قضاض + قَي
کا
حیٹثٹث
اور نی کک روا کے رات یس اع سے جوقم سے جنک
کرد ہے ہیں اور زیادئی ہکوہ بے شک اللہ زیادلّی
کرنے والو ںکوناپندکرتا ہے۔ ھی ںا لکرو جہاں پا
اور یں کال دو ہاں سے اھوں ن ھی کال تھا اور
فزڈل سے زیاددشدید ہے۔ متام کے پا ان
سے جنگ تک روج بک فک روہال میقم سے جنگ نہ
کریں۔ ٹیل گر وہش ہیں لکر نے کے لیے بڑھھیں
(چگککریں) تو بھی ین لکرو کاف رو ںکا بجی
بل ہے ۔لماناگر وو چنگ سے از جا می تو الث نٹ
اور مر نے دالا ہے اور ان سے جن گگرہ؛ یہال
کک فقہ باقی ند ہے اوردبیع ال کا ہ"جاے۔ وواگر
اس ےرک جا میں تو ظاللوں کے کی پرزیادقنہ
ہوگی۔ حم تکا مین (اس میس اگ نہیں جن کک ری
پڑے )ال حرمت کے می کا بدلہ ہے(ٹس مس
اں سے پیےمشرکین نےتمہارے ساتھ زیادثی کا
٭+٭ا
مَا اعغکلی عَلَيْكُو وَاتْمُوا اللکُوَاعلَیوا
أيٌاللَمَ الْمْکَفْثیٰہ
(القر۱۹۰-۱۹۰:8)
تی )تی تو سب کے لے برایریں-اپزا جکو لت
پرز ماد یکر ےت ا ںکااتاجواب ددیجچنی زیادثی اں
نے تم کی ہے۔اللد سے ڈرتے رہواور چان لوک اڈ
مشمیوں کےا توے۔
انآ یات یں جن ککاع مبھی ہے اور ا ںکا یش من رجھی بیان ہوا ےک
مرن قرلیشی نے مسلرافو کوک یچھوڑ نے مک رسے ب ےگھص رہونے اوراچگر تر نے پھ
و کیا۔ عم لن یں رگل ہوۓ اوران کع رٹیل الل دی عبادت سے روکا۔ بعد میں
مل حالت جن ک تا مکردیی او لا جن ککرتے ر ہے سلمافو ںکوان کے متا لے میس
جک تم اگمیااودا ںکا مقصھد ب ایاگ یا تندہریضورتحال باق ددے اورشن
کی قوت پودی طرں نت مکردی جاے۔ ال سلسے ٹس ہدابر تک کان ش کین سے
عدد وم یس جنگ ےار ازکیاجاۓ۔اگ روہال سکی پاش دارکی شک یں اورک واراٹھا ںو
ان کا متقابلہکیا جائے ۔لماان اگر وو عدو و کا را مک ہیی اور جنگ سے بازآ جائی تو ان
سے پاتھ روک لیاجائے۔ یہ بات ایبیل منظرکےساتھ سور قرو نٹ بین ہہوکی ہے :
اللہ وَکُف یہ وَالمشچ الحرا
وَاِخْرَاج اهله مِنه اکر یئ ایلوٴ
َالّفِْکَةُ اکر مت الّْقَثلِ' وَلَايَالنَ
ُقَاتِلُوْتَکُ عَثی َرکُْ کو عن وئیگر
ان اسْتَطاعُؤْا“ وَمَننَزتَیذ مِنگۂ عَغ
وئیہ فی وَھو َاژ قَأولَكَ
ھ
وج ماوترام میں قال کے تلق پوت ہیں ۔کہو
گنن نآ لکرنا بڑامناہ سے؛میان الڈرذۓزرے
راتتے سے ہازرکھناءاس کے سات ورک رن سچدقرام
کی زیادت سے دروکنا اور ال کے رت والو ںکو
دہاں سے؛کالید یناء اید تھالی کے نز د یک اس سے
بھی بڑا گناہ ۓ سے سے بہت ڑا
(مع)ے۔ وہ م سے پیش لڑتے رہیں کے
یہاںتک کزان سے ہو کیو ہیں تبارے
دبین ھی سے کی ردیں۔اگرقم یس سےکوئی اپ
وو
فتن4 ختمھو... ۱٭ا
حبکلت أَشَالہ فی اللڈیا ولغ : دن سے بج رجا اودا سک موت اس عال ش
وَأولّكَ اض الگا : کو فیتا در س سیت جریقی
رق جس یں رائمگاں جائیں گےہ بہلوی ک جہنم دانے ہیں۔
مہنت اوت ایل وہیشریں گے-_
لہ لت ]تک اوآیة(۱۹۰) یں کی بارسشرین سے جن ککاسعم دیاگیا۔
علامسالوحالن ان دی کے ہیں:
وأکز غلعاءِ الشبسیر علی اتا آو|ٰ ٹیش تر عل یکا خیالی ےک ی مکی ؟ یت ے
آة لت فی الْگمر بالْققال٭ جال ےم کے سا تھنازل ہہوگی۔
یچس حعفرا تکاخیالی ےکا لآ یت می ان لوگوں سے جن ککا ا دیاگیا
جیا جن کک رہ ہیں۔ جو جنگ میں شیک نہ ہوں ان کےخلاف اقدا مکی اجازت
یں د یگئی یجان تی1 یات یاسور توب لآ بت۵ میں تام شی ریش سے جک
کا عم دیاگیا چاے وہ جن گکررے ہوں یا نکردے ہوں۔ ال رح تح رضوخغ
و کاٹ
ا ابوضیانء ان رالوہطا: ۸۷ے ۔حظرت الوبگررشحی الد عنہ سے ھروکی ہ ےکہ جنگ کے سمل ں سب
سے پل سورۂ رک ایت ا قش باون راغ ملئنا٭( :۳۹ نازل ہوئی .لیکن اما قر لئ
کے ہی ںک ٢ک رلوگو ںکی می رائۓ ےکہ چہادکا عم سور) بر ہکی الن بی یات می دبا گیا( ق ری :حا
ج۶ اہ )٤۳۲ ہ ظا ریو سو ہوتا ےکسوہ کی آیت یں کک اجازت د یگ اورسور٤ یق کی
انآ ات ش بر پکااشرکیان سے جن ککاعکمدیاگیا۔
گے جلالشن ٹس ہے:ھذا منسوخ بآ براءة او بقولہ و الخ الایۃ( ص۹ ٢۰۰م بی بات ٰنض
اومفصرینع ن بھی کی ہے۔ا می سورتو کی ج1 یت کا حوالمد اگیاے دہ ے:قَاذًا الْسَلَم الاَفْھز
ازم فَافغکوا اذ کرٹ عث وَج فو ہف ادابد فی ج بترم میینلل انی تومش کی نکو جہاں پا1
سا ا کے یں منظرےانخا 071 20ہ]
۳۰۳" فتن4 ختمھو...
پفخالی در ٹیا ے۔اس کہ یا یا ت یک دی سلسل کلام می لآ کی ہیں
انز و پانفپلیگی بن وگ ی کیم ی1 یت کےعھمکودفسری یآ بت ضووغکردے۔ام
رازگیاف مات ہیں :ا سے فوخ ماس کی ضرورت بییں ے اس لی ےک کی1 یت میں
ول کت ذا(ادقم زیادثی نکر کے الفاظآ ۓ ہیں۔اس میں ووا مو یھی دائل ہیں جن
کاذکر دک یآ یات می سآ ےہ م]نی دددضم شم ان سے جنگ نکی جاے اوران تام
اتوں سے ات ازکیاجاۓ بش نکیا الات جنگ می لعمالعت سے
علامہالوحیان انی اس شیا لک تد یدکرتے ہی ںک یآ یت میس جم
دی ایا ہے دوسرکیآ یت می ال ےآ گےکاعلم ہے۔فرمات ہیں :بعد یآ یات یں
وَافْکْلوْ مم (اورائیں 8 زی سے مرادودی لوک ہیںءشن سن کارگی 1 ٹل ج, کا
عم دیاکیاسۓے
علام ہش رحب نے ال راۓ پ رخ ت تق دکی ہ ےکم ائن شس سے ایک
دضصر ےک نا ہے او کہا سےکہ بآ یات پا بی رم بوط ہیں ۔ یی ا طر تین سکیا
اسلما:
إِنٌ هَذِہِ الَ٘٘اتِ تَرلَتْ مَرَۃً وَاجِدَهً نی اں می سکوئی شحککی سک یآ یات ایک جی ھت ازل
ہیی دوایک می سلسل نام دحیب می داع ہو
ہیں اورایک تی داد عق ہیں اذااس کےکوئ یمن
سس ہی سکیا می اض ]مو اج ک نا ہوپگیں۔
تقیقت بر ےکآ یات کےا لچھو سے میں جنگ ک ےم سے پیل ال کے
اصول دآ داب بیان ہے یں 027ھ .)0 جومیدراان جنگ میں مقاے
َسَقِ وَاجدِ وَقِصٌة وَاجِدَۃٍ فلا مَعْق
لل رازی ہف یر اک ۳ء تز ء۵ ۷ضش ۱۱٠-۱۰۹
کہ ابوجیان :الم رایبا:۷ر +ے
تیر ارآ نانیمہ تفم النار۴:)۷ ء٢٠٣
فتناختمھو... ۳
کے ]یں ام شر یآ باد یکوہ جو جنگ ملا دور ےنا نیس بنا جات ےگا اور
اناراد یی ہاتوکیس اٹھا باجا ےکا جو نیک سے یر ال
انآ یات ٹل جنگ ےجا زگ مل ہد لئ ےک وَالْقتةُ ذو
الْقَْلِ (فنڈلی ےبھی زیاد دنت ے) “تھے کےصعنی ہیں ۳ نے پچاند یک نگ میں
چاادای ے ےکی انما نکش تنکیف اوراذ یت دیےء ابا اور زماانشی یس3 ل ےکا
تصورا پھراہے۔ امام راخب کے ہیں :
أصل القنن: ادخال الّہب النار فتن کے4صلیسعی ہیں سو کوک میں ڈالناء
لتظہر جودته من رداء ت4 واستعمل سک ہمالع سو اکھوئے سےنمایاں ہہوجاے اور
نی إدخال الانسان النارگ اکا استعال انما نک وگ میں ڈا لے ےی
یس(کبھی) ہونے لگا۔
مان العرب میں از ہرک وی رہ ک ےجو انے سےککھاے :
جماغ ةتعقیق الفشنة الا نتلاڈ فنہ کےصع ی کا خلاصہ سے ابلاء امئمان اور
والامتحان وَالضتمازہ وأصلہا مأخوذ 7 زز رئیش ا سک اسل اس استعال سے ماخوذ سے
مِنْ قَوْلِكَ فتَنْٹُ الْفِضَهً وَالڈّمَبَ إٰذا جھآ پک یں فتعنت َء اللتٰ
آذب ہما بالثار لِععبً الیِِيیة ھن جبآپ پا نی ارسود ےکوگ می پھلیں
الجیّیٹ تمکیتعدہاودد کی الگ :٭جاۓے-
امام رازگ کے ہیں:
ا نگ می جن لووں پر اھواٹھا ےک مامت ہے حدیث می ا سکیل موجد ہے ملاحظہہوداق کا
کات تس سلموں ےتعانقات اوران کے تقو قیا عحنوان' جنگ کےآدا بب ص ۴۲۱۰ا ۲۱٢ ارم سعلامہ
ااویان ان نے الع الھییط ےر ٢ے بی اں پششقھری ب کی ہےاورعلا رت نے اس مستلہمی ں فقہا کے
ولا ت لگ ای قدروضاح تکی ے۔للاحظہہوالیا ممح لا ام اق رآنءجلد ا رجز ۷ب ٣۳۳٣-۲۳۲٢
سی مفردات ال رآ ن:ِص ۷ء ٣۳
×ط اینمشظوںںلمازن الحرب :ماد ہشن ۱۳/ ء۱ ۳
٠ے. فتن4 ختمھو ۳٣
أن الِْثة أصلَا غزض الھب عَلی نال سس و ےک وگ میس ڈالنا ہک اے
الثار اد مشاہ بن الْغش, تم صا میل پیل سے پا ککیاجائے۔ گرا ال سے
اما لگ ا کان سیا للامعتان تشییدتے ہوے ہراس چیزکا نام ہوکیاجوامفان
شیا دا الأبْلِے ارآ ز مل کا سبب بن جاائۓ-
ال سے بی بات پالئل دانع ےک فتنہ کےےعفی دراصم لک یکوخت؟ ز کش میں
ڈا نے اورنکایف اوراذ یت سے دو چارکر نے کے ہیں۔ا ایک یہاں کی ےشدیل کہ اگیا
ہے۔چناں چ تر امام دن القغل “کے بل مس کے ہیں:
أی الملحنة والبلاء الذي ینزل بالإنسان وہ از ران اؤرمبیت جاٹان پرنازل ٭ە
یتعذب بە أُشد عليه من القتل. ۓگ جن سے دوطزائپ کن وکیا جا مگ سے
بھی شد بوتڑے۔
بادآ یت کےا شر کش ان الفاطی شکگئی ہے:
أي المحنة التي یفتقن بہا الانسان. ووکلشت اورنکلیف جس ے انسا نآ زایا جاۓ
کالإخراج من الوطن أصعب من القتل جیے ان ے نال پاہرکردینائٹگی گی زیادہ
لدوام تعہا وتألم النفس بہا.ػ مخت ہے اس لییےکہ ا لکی لیف دای ہوٹی
ہےاوڈسااں سے متفل ازمتٹھو ںرجاے_
صوال می ےکہ یہاں خےے کےکیامعفی ہیں؟ اس کے بت سے فی مراد لیے
گے یں گے انس بک خلاصہدوژیات میس بیان ہوسکتے:
-١ یہاں کے سے مراف می لمکا کفر ورک ے۔ا ان پراگکردوتے ہوے ہیں
کی رازیء انل اککیی: جلد ۱ہ جزء۵بش۱۱۱۔ نیز ملاحظہہورشیدرض ان المنار :٣ر ۲۰۹
ک. زخنشرىیءاککغافیحن تاکن لتق زرل :ار ٣۳٣٣۴
بیینماوئیءانوارالشزیل واسس ارالمَاو بل :اء ۱۰۹
تفصبیل کے لییےملاحظہہوءابوجیان؟ا خر ف ا:٢ ر "ے
٥ فتناختمھو...
اوردو توم شی بھی ا لکا ایا بکررہے جی تو ایک گکین جزم ہے ۔ا کی نا پران
سے جن کک جاۓ اور دہ مارے جا کیہ یا ہراس شی مسلمان شمہی ہو ںآو ىہ ناروانہ
ہوگا۔ ا لکاجوازخوداکڑھوں نف رام مکردیا سے
یً۳
اخقتیارکررکھاتھا۔انھوں نے ہرہب اورق یر ےکی زادیی ان سےسل بک لی اوراسلامء جھ
اٹتتعا لی کاناز ل۷ردودینقن ان کے مان پرائیس ہرلوں ی۷ ک 7 0
مت سے کششت اذیت پہٹیائی۔ای سا ات ٹین نا میا ھ7 ے(یادہ
شید ہے۔ااس با تکوامام را زی نے ال ط رب میا نکیاے :
ولضی: أآن ادا الکفارِ خی اضر اس کے نی ہی ںکغارکاکفرپراقدام اورائل ایمان
وَعَلَى تَخْويفِ لممِِن. وَعَلی دید -سکموعالت خوف میں متلارکھنااوران کےسا تح رکشت
رد افقیادکرنا: شس کے تچ مس وو دین کے
0 ی,هة٘س 0.۶
پانے اورخودکوان کےخوف سے بھانے کے سے
اپنے ائل دعیال اورؤی نکوکھوڑنے پریجبورہو گے _
ىیشد یالندے کل کی ےج7 انت ے
ي أَمْدُ مِنَ الْفٹل الَنِي جقتوی کن کس نآ ا کان او ا ات
التْخْلِیصن مِن موم الڈَا فآفاها“ نات امااے۔
بجی ہوم سیاقی دسباق کےحاط سے ئ ہے حقیدہ اراس کے مطا ق نم لکی
آ زادکی انسا نکافط یقن ہے۔اس پر ایند لان بہت بڑا جم اوراخچائی خی رسای رو
ہے جس فی ادرآ پ کے ساتھیوں کے سا توق می نے بی روم اختیارکررکھا تھا۔ می
جنگ ا یکپ مکرنے کے یھی ۔عل رطع کے ہیں :
0 شنشرىی شاف گن تاکن مقر ل:۲م ۲۳٢۴
۳ہ رازیء انی کی : رخ ۱۳ء تز ء۵ ل١١
ار عَلَهِمْ بِحَیٔث صتّاڑوا مُلْجَثینَ إِل
رك ال وَالْوطنِ مَرٌا مِنْ إِضَلَالِہِم
ی الیّین. وَتخْلِيصًا لِلتفْس مِمًا
ا ا ال ا ا َ وو کے انا
يَخْافونَ وَيَحْدَرُونَء فَِْتَهُ شَیِیدَۂ بَن
"۴
وَالْفْتْنَهُ اَم مق الْقتْلِ" أی الْفِنْتَةُ فننل سے زیاد+مخت سے۔ ھپنی وو فتنزٹس میں
وے یی ج2 آنھوں نے مسلرانو ںکو ڈال رکھا تھا اورجس کے
. وَرَامُوا رُجُو
5 2 ذرمیے وہہ اور سے ےک ملا نکفرکی طرف
بَا إِی الگفر أَشدُ مِنْ الّقَتْلِ. , ,,- 020900
پچ راس کے بحدتحضرتیمھاپڑکا یق ل٠ لک۷ر تے ہیں :
آن من أن فقل اکِئ. فالقغل اف من کہ فتشدید سے ١ں بات سےک مکل
8+00 ور ےھ ا ا
کے لیے ہکا ہے۔
یرد رتفحیقت ای ےق کر ےکایم ےنس سے ائل ایمان دو ار تھ اور
ان عقیدداودلکرکی وج حطر طر کی اظلااورآزائل سےگزدد سے تھے ق رن
نے ال افلاغ کے نھب ج نت شرف کیک رج بتک ریصورت حا لچم نہہواوراسلامکو
02 اواراں کے مطابی تن کن ےک1 آزاری ماگل ےو - جاری
رےگی۔
انآ یات ک٤ا خرمی سک ہاگیا:
وَفٰلوِهْم حش لا تَکُونَفِفْتُؤََكُونَ اور جگکروان سے یہاں کک فتدرے اور
الزِفْويل )٥۷۷77۷( دن ان کے لیے ہوجائۓے۔
2 بیت ور٤ انال می ںپھی ایک افظط کے اضا نے کےس ات ھ1 یے:
وھُہ کی لا لکوت فِمْتَة وَکوتَ اوران سے جن گکر یہاں ک کک فتدرے
سی اوارد بین پور اکا لپ راد کے لیے ہوجاۓے ۔
بہال' نہ ے عام طور پ نشرک مرادلیاگیا ہے۔ نے جنگ اں وت کک
جاری روج بک ککتر کا تہ ا ل تم نہ ہوجاۓ اورد ین صصرف الد کے 09
ہوجاۓے۔نلاکا انقاقی ےکا نآ یا تکاشک نی ش کیرب سے ہے خی گرب کین
ری ء الا مع لا حکام الظرآن : جلداء جزء ٣ل ٣۳٣
فتنهختمھو..۔ ے٠
اورد۔ ے اہب کے مات وا لےال عم میس شا ئل میس مہیں۔ ات کے اح کام ددسرے
ہیں۔علام الوکر صاع می کھت ہیں :
بت میں نر اکا عال بیان ہہواے جنوں نے روگ اکر سام
او رآپ کے اضحا بکوئکمہ سے کالما تھھا۔ ان کے بارے مھ لکہ ا گیا: و اقْثلوْهْم عَیْث
یفن مغ ایس جہاں پاش کر) اہ عم میس دی ل کاب وا نویس ہیں۔اس سے
بی وا ےک یمشٹرکیانعرب کے لے دوہی صورٗیں ہیں : یاتو وہ اسلا قو لک بی یا
جنگ کے یرہوج گیں۔ ل
کیا چمادکفرلومانے کے لیے سہے؟
نس اوقات بی خیا لکیا جا تا ےک یر اسلائ ی نظ ریات :نیل اسلا مکف سے
تی رک رتا ے ا نکومٹان ےک یکوش لک نام جہاد ہے۔ ایک بے ذیادخیالی ہے۔ الام
نے جنگ ور کے جواصول مان کے یہ ان کے راس خلاف ے۔
ا۔اسام کےنزدیک الڈدتھالی ال سکا نا تکا و سج کے ای
اس نے انسافو ںکوا ستقیقت کے ماث پروی سکیا ے۔ارنے انسا ن پلک ری لکی
آزادیی دی ےو 7,٦ اڑا ٹس ا سکاامتان اورآز مکش ے۔
ال نے صاف الفاظ مل اعلا نکیا ے:
ا شرائی امن (لۃ۴۵۷3) رینم کل ہترے۔
بات بادبار] ا ہےکدسو لک ذےداریلن کی ےا
مان کولوا قَاگتا عَليكک اَل اکر موندسڑتے ہی ںتدجھارکی زے داری جس
البنغہ (ال: )۸۴ وائح ریت سے بایان کی سے
2 :اعکام الظرآن: ا۳۱ ۔ش کین عرب اور دم راقوام کے ددمان اسلام نے بیغ یکیو ںکیاہے۔ ا کی
اید ددشت کے ایل امو نے تفاقات اوواع نو پٹ : ماش پش کی نکانا جا
قہ یش رکی ن حر بکاع مض ۲۰۸-۲۰۵
۸ فتنه ختمھو..۔
یگ ا وو پر پا
قیان اَغْرَمذا فا ازسلتک عَلٹھ اگ داع اق ک ری تو ہم نے سکھیں داوف بناکر
عیْيَِا ان عَلَيْكَإِلَ الْبلْةٌ ٹیں پیا کہ (انھیں جو رکرو) تھاری
(اشریی:۴۸٣) ذسےداریی تو یس پچیان ےکی ے۔
۴ق رن وحدبیث می ہیں رئا سک ہاگ یا ہف رکا استیصال یا ات ای کے
گر سے اور تہ اس بفیاد بھی چہادکیاگیا۔ جہاں اسلا مکو اق ار عال ہواوپالں
2 رسلمو ںکوقرام ذیادی تقو ق د بے گے اورایں اپنے رہب پیل لک اجازت د گی
سے زیاگ م بیخاب تکتا ےک اسلائی ریاست می مخال فنظریات بائی
02271ھ2
۴۔اسلام نے حکوجنگ پرمقدم رکھاے او کہا ےکیف رن مال فک کے
کی کیم نے
ف نکی می سکہاکیا ےلم جہاد یا قتال کن کے جھاربہ ان گک وچرے ے۔
۱ ای لے ماد ے 7 کےا تجٹحار کی قیدگی ہوئی ہے۔الل تھا کاارشمادے:
وَقالوا الففرینیق اڈ گھا محٹکیں ےسب ل کشر بل رم
يِقَاتَلوْنگۂ کَافَةُ (7ب؛۳) ساڑتےیں۔
اس سےمعلوم ہواکہہمارکی جنگ ال نکی جن کک وج سے ہے الو ںنکہاجائۓے
ارگ جن ککاسبب ال نکی جنگ ہے۔ امیر ال تھا یکاارشادے:
وَقَاتِلوْمْم ٹیل تَكَوْنَفْثْكَةُ (تقل:ء) ان سے جن ککرہہ یہا لک کک تم ہوجاۓ-_
ووسانائو ںگوان اور نا سے مر واکراہءزدوکیپ ا کے ذ ری پمیر
رے ڈیں۔ می نر ہے یہ تک ا ف ناپ مکرنے کے لیے ہے۔ ای لمکمان لان
والو ںوہرطر, 9 کیااذیت دےرے تھے ا/ےوەد ر5 چا ا ہیں۔اسلام تک کم دیا
کس جنگ کے ذر یچ ا نکی طاقتپمخمکردکی جاۓ :کہ دہمسلمانو ںکواس فےتہ یں نہ
فتنه ختمھو..
ال سب
امام این تین قا لف ر کے م وضو پرایک بہت کی ھی او رفیقی رسال رھ
کیاے :شس ٹیل اھوں نے اس ام رسے بح کی ےککغار سے جن کک بنیاوکففرہے یا
ان کا محار ہب( ملمانوں سے جنگ )۔اھوں نے دلال ےا تکیا ےک رکف کی وج سے
چہاوییس ہوگاءالبتہاگر وہ جن کرد سے ہو ںتو ا کا مقا بل ہکیا جا ےگا ۔علام صتعا کی
یی نے سے۔اھویں نے ال ور پر ایک دسال ری کیا ہے۔اس رسا لاوعلامہ
قرضادکی نے ات کاب فقہالجہاڈیش ہیل ونیم شائ لکیا ہے ۔علامزشوکاڈی بھی ان کے
ضیل ہیں۔ دو رحاض رک ےعلاء مس جاور اورینخش و ےاکا بر نے اس نقطزظ کی
تا کی ہے تق ران ےگ ی قرو کے بارے میس کپاے:
ٰ۲ )۴ك۵ك۷۷+م۲۳۷ نی انکور ہاکردیا جاۓ ران پر اسان ہوگاء یا
(ر:م) سان ند ییلیاجاۓ-
اکرکفر اع شا ہوتاتدا نکوکچھوڑاجاتانمان سےفد بیلیاجاءا- ر٣ کل کےلعز
بھی رسول الثم پلیہ ن ےجس یکواسلام پریوزنش کیا جس نے اسلاسقو لکیا اتی شی
ےلیا۔ ا کےۓپنف من یدرد کا یھم نے دوسرکی ملک رکیاے۔ تپ
سخفعفی نی رر
کر می خی راسلا یاریاصست ں ہلان یرت ون کی1 زارئی کے تج
001 5/7 لی وجرے ال فتاذءت اورک فکا سماہناکرنا پڑدہاےاور
عالات ات خر اب اورفشوار ہی ںکوہاں سے دد پر تکرناپھی چا ہی ںوک کر کت تو اس
0 بدا ین ّّالقر ٣٣۱۸۵:
٣ علامہ لوہف اأترضادی نے اس موضوع یں جھ تی ے۔ طاجظظ ہو: فت الیہاد طجطر اولء
صضص۹۳١--صط۳٠٠١)
٢ فتنه ختمھو...
صورت میں جآ ان ٹیر نے اعلائیر یاستکی یےذمددارگ ثراردی ےلوہ ایل ان
عالات سےنکا لک یکوش سکرے۔اسس کے لیے اس طاقش تبھی استعا لک ری یڑ ےآ
۱ ان عق ماع ان نا ای صورتحال ےد چار تے۔ٹ رآ ن نے
>٣ کا لفظ استحا لکیا ہے م]ی دہ جوقوت اورطافقت ےرم اور
مغلب ہی٣ اورشضت بھی ںکم زوراوریھرو رک کرک ھاگیا ےن کے تح یکم ہوا:
وَما لگ ا الو ح بِیلِ الو تمیںکیا ہدیا ےک نیس کرتے ہوا سے
َالَمْنتَضْعَفِلِیَ مِن لال و رات میں ایر تفین کے لے جن میں مد
التْمَاء وَالولْدَانِ ای مَقوأ وق عوشس اور یج شال ہی ھدوا راب جک
بن آخرِجٰنا من پت الْقَزی اسے مارےرب! ہیں اق سے ال جس
القمالیھ اق" وا خعَل لا ون لآ کے اشندےخالم ہیں اوراپتے پا ے ہمارے
وَلِكِاؤَاجْعَلَلَكَامِنْلَدَنْكتَمِیڑاہ ےوک وی دس پرست پیدافرمارے اور مارے
(الفاء:۵٥ے) لیے اپنے پا ےکوئی مددگا ٹراہ مکردرے۔
اںآ یت می قال نی اشیل ال کے ما کم کے رات طور سس فعفین
کا ذک ہے۔اس سےا نکوحجات دلانے کے لیے چادک اکیت دا ہورری ے۔
علا نشی کے ہیں:
"ہس فعفین (کم زوراورمخلوب افرادتھ جچومکہ شش اسلام لائے اور
نہیں پش رین ار تکر نیل دےر ہے تھے۔ دوہ ہیں د اود ییے ہو ئے اور زور
جنگ رر پ یور تھے“ شی نکی طرف سےا ن کت یں دی جار ی 07
سےجات پان کے لادتعا ی سے دعا میں اودایا می سکرد ہے ےکا نکی فضرت
اورمرٹر ا ےت نان ا ےا شی ان کے ےر بت بتگ نا آسا نگردیا
لن کک اذ یں پھیلتے رہے۔ سے بعد نی ساٹ لہاۃ ان کے بت رین
دلاو ناص رم نک رآ ے۔آپ ج بکلہے وائیل ہہو ےت خماب من اسیدکوگو مق کیا
فتناختمھو... ٢
آھوں نے1 پ کے جے ای نکی یشیت سےا نکی نصرت اورمایت جار ری اور
یں ان ک یتقو قی دلوا ےل
خ ے ف ال یت کے سی بن لایتطناان:
حَضنٌ عَلى الْجہاد۔ وَهُو میَتَضَمَنْ ہادکی ترغیب ے_ ہس میں بن مخعفی نو
تَخْلِيصَ _الَْتَضَعَفِسنَ من أَبْبِي کفا رین کے پیزلم سے تا بھی ئل
الكف الٹرین ائزین یٹوٹ وی سے جھ ال بی زادے ہے تداہش
۱ دع ایز نے کے لیے ےط رح رر کی
کا و رر .ٹاک ین ڈول رکا ان نال نے چا
009 ۱۱0 ہے ا ا وت
واظجار ینہ واستلفا ینابر بندیوں میں ےضیف نوک
ہے ا ا ا و
لف لوس پا ےا مل جانو ںکی بلاکت ب یکول نہو-
ں کا مطلب یہ ےک اگ سی ملک میں مسلمان؟ ذادیعقید ہل کے جیادی
عق روم ہیں الم وت مکانشانہ بن ہو ہیں اوردہاں سے نل اوراہثرت ہے
کے وف می لپھیکجیں بی تو اسلائی ر یاست اس سللے می ل فی راب داراورخی علق ہوکر
میں کیہ بللہان وو ںکوا ت : سے کا مل ےک یک و 7 ھه+س اں کے لے وہ
وق ضرورت طاقتگھی استعا لکرکتی سے یکن اگ رر ی خی اسلائی ر یاست کے ساتھ
ناجنک مابدہ وو اسلائی ر یاست کے لیے لازم وگ کہا کا ات ا مکرے اورائس کے
خلاف فو تی اقدام سے اضزازکرے۔ق رن ید نے صراص تک ےک رشن ال ایمان
ےھ ٹن کی اوردودار ایخ ر: بی یں یم ہیں ران پنکموزیاد ہوری اود
ووال کےعلا فخ سےمدط بکررے ہیں ہیں زان کی موک رن ای دنا ن گر
قری :الا لام اقرآن:ج ۳ تر ش۸۰
امست
سُوۃ الْحَذَاب, وَيَفِْنُونہُمْ عَنِ الدِینِ,
را فتن ختم ھو...
وم ےکا یتوم کے ما ٹس مددکےطالب ہیں بشس سےیہارامعا بد انت
نکی ہمایت یں معاہدہکی خلاف ورزییکاسی ںی یں ےہ ورنہ ینعی وی اور
اں پاٹ کے ہال باز پیل ہوگی۔ارشادے:
ان اشکَےزفگ پی اشن فعلَکٹھ اگ روہ سےدین کے معالے میں مد وط بکر یتو
از ال عل قوئ تنگ وڑیکنھ تہارے لیے ددکرنا ضردری ہےءال بدا رق م کے
تِيمائ او الما تعمَلونئمیڑہ خلا یخس کاو رتمارے دزمیان (ا یکا)
(الانفال:٣ع) بد جوان ہوداورائج یز مکررے ہو د بد اے۔
مفسرین نے صراح تک ےک داراھرب ے معاہرةٗ ان ہولو وہالں 13
مسلمانو ںکی مدد کے لیے محاہد ہن مکی سکیا جا ۓگا۔ معاہد اس وت تم ہوگا ج بآ ۔وہ
ا ںکی خلاف درز یکرے جیسے اسلائی ریاست کے خلاف ساؤش کا ارہہکاب ہو یا
ریاصت پرد ول ہآ ورہو۔ ج بکک معاہدہ بائی سے ال ۵۳ .0
یل دارافحرب ےس بیثا یکا ذکر ہا کے ذیل میں علا ششک کت ہیں :
فإِنه لا یجوز لکم نصرہم علیہم لأنہم دارااھرب کےسلمان مددطل بک/ریںتتمہارے لیے
لا یبتدؤون بالقتال. إذ ا میثاق مانع دارافنرب کے خاف مسلاتو ںکی مدد جائزنییں کے
من ذلك ک٠ کیوںک۔ان سے جنگ شر اکر نی معاہددائ ہے۔
یناو کتے ہیں:
لا ینقض عھدھم لنصرھم علیھم گ لاو ںک ممدک خاطران ے جگہدہ پیا نگیاگیا
ے وجو یں جا ۓگا۔
امام راف ر مات ہیں:
کی آلا22 را اگ ملین اکر گا قرے ك) ٣ل ول گازے
عَلَيہُمْ إذِ ا هیقَاقٰ مَانِغ من ڈيژك گے لے دادافھرب کےخلاف وہاں کے سلمانو ںکی مددجاتر
یس ہا ےکم ھاہدہ( اکن اس می ماج ہے۔
مہ زننشبیءاککشافیين تاکن التز پی: ۲۳۱۶۳ گے بیضاوکیءانواراقز یل وا ارالماوبل :۳۹۷۸۱
لہ رازییء انف الک جلد ۸ء جز ء٦ ا بل ۓ٦۱ء۱۹۸
١ فتناختمھو...
.[- تو اورغازن می سے:
فلا تنصروھم علیھمے (ین سے معاہدہ ہے )ان کےخلاف ملراتوں
یددتدرو-
موجدہدو رٹل عالات بدل گے ہیں_۔ا سس کے ہاوجوداسلا یاریام تا لی
اسلا یر یاست سے مماہد :کر ےو اں ےر اٹ بیشرطاگی شا 7220
اس کے پاں مسلمانو ںکو ذیادکی تقوقی حاصل ہوں کے اوران کے ساتوعرل وانصاف
کےا تضے پگرے کے جا میں گے۔ ای ط رح اسے یکن الاقوائی معابرو کی پابند بنانے
یھ کوٹ لک رنج ہے۔
0 بفوی مع الیازن: ۳ _٦۹ اس م وضو پٹشمعلی بحٹ کے لے ملاحظہ ہورم 11 تاب خر لموں ے
تعالقات اوران کےتقو قی بح اسلائی ر یاست اوران الاقا یتعلقا ت ص۵۱ ۵۲۲ے ٢
اسنا
اظماررین
اظہا 0 ن کا وھر ہ
ران ید یس ال تتحالی کے رسول ححرت مھ ایی اور اس کے نانز لکردہ
7س ۶8 اگیا اکردنیائٹ لاز ]ا کا اظھار ہوک رر ےگا اویخالف طاضتیں اے
نا کام مو سک کی کیا ۔ناں چرارشادے:
يرِنُْوْنَ ان انور ڈو باف اہ جات ہی ںکہالل کےفورکواپنے من سے بھادیی
وأ الله ال آن تُ عق نرک و لو 1 گرالشد نے نےکررکھا ےک وہ اپنے فو رکوکمل
الکْفْرُوْنَھُو لق زسّل رَسوْلَهٰٔ کے ےگا چا اسےکافر نا ند یک۸ریں۔
دی ودئن الكقيِ لِيْظهرَهَل ال ای نے اپے رسو لکوہدایت اور دی نت د ےکر
لب ولو کَرَالمف رکُونَہ بھیاے جاک ہا ےتمامادیان پرغال بکردے
(التزۃ:۲ ۰۳ ۳۳) با ےاسےشرک :ایند یکریں۔
بس ورہ تو ل1 بات ڈیں۔ ہیآ اتکھوڑے حفرقی کے سا تج سور صف
(آیت۹:۸) شی سآئی ہیں اود ضر یآ یت جس می اظہا کا ذکر ہے سودہ رح (آ یت ۲۸)
یس موجود ے۔سور تو بک یآ یات ال لکنا بک فقنساباوں ےو و ای وا
9 .۳ءء" زائی اودثتگی گریوںکا ذکرے۔دوضفول جلہ
کہاکمیا ےل ائل ناب اویش رین اپتی سازشوں اورماندا ۔کزششوں می :الکام ول گے_
دای کپ رو ونیک مارکریں بچھاسکت ۔ وولا زا گی لکراورخالب ہوک رر ےگا۔
اظھارِدین ا
رن کے الفاظ ہیں هر :کہا ںکا اظھارپرے۔مفسرین میں ے
حضک ال ےک اس کامعلق رسول اش ٹل نکی 0 ے اورجنس
دضسرےمفسرین ےکہا ےکراس می دینج کے اہ رکا ذکر ےمان ان دونول
پاتوں یش پچجھزیادوفر یں ہے۔ انظہار چا ےآ پ ای کا ہو یا آپ کے لائے
ہی ےد مین کاءدونوں کے فی ایک کی یں۔
انمایدین کے
اب ال رو مکی ےک اظھاز کے من یکیا ہیں؟ نف نعضرات نے اسےصرف
صھی وککری انظہاراورٰننخل نے اے نا 7 ینوی ت کا اظہارنصورکیاے۔ان دوطوں
یس ہبی صدافت کیہ جزوی صراقت ہے۔اں ے2 ران یل اظما رکا صرف ایک
پہلوبیان ہہواے اورددس انظمرانداز ہیا ہے _اخت میں اس کے دوفو فی بیان ہو ئۓے
ہیں۔ چنال چےاسائن العرب میں ال ماڑے کے استمالا تکاذک را سط رح ہے :
وظبَرز عَلى القئء إِذا خَلي وَعقد ظھرعل الشیء کے تق ہیں اس چچز پرخااب
آ گیاادر چڑ ھگیا۔ ظطھر فلان اموبل ال وق تکہا
جا ےگا ج بک ہآدی پہاڑ پر پچڑھ جاۓے- اأُظھر
يُقال: أظہَر الله اللْْلِمِینَ عَلی اللہ الیسلدین عل الکافرین ال دق تکہاجاٍے
کی ےے> گے آ اکا کے جب اللہ تتعاٹی کافروں پمسلرانو ںکو نل عطا
الْكَافِرىنَ ای أعلا .واظٹٰ *٭“ ي ۲
ری ع 7 . سمتدے۔ای طر اظطہرت ائشیء کے فا یں
اللكٌئٰءَ: بَيْنْعه... یْقَال: أَظہَرني الله عَلَى ا سرع ری کباجاتاےاظھر الله
مافرق رق آی انس کال علی ما سرق مد ما می یی ج نز چودری ہو یگ
ادن مجھے ا لک اطا را دےدگی۔
7 اورسما یغلیہ
اش لی اورسر ہلنر یکا تتمودبھی اون ہوراوروضاحت کے یھی یں۔
سک این نطو مان العرب: ۵۲۷۰۸۳ءکے ۵۳ مادظہر
وَبْقَال: ظِہَرَ فلانْ الِجَبَل إِذا عَلاۂُ ۰
1 ۷٦
علامہ وق گت ہیں رت کب داد جن عیا لا مردکیا ےکہآیت مل
لِیْظُھر دی ھی ررسول ال س الہ یضرف شی سےا کا مطلب ان کےنزد پیک بے
ہے ص۷هه80۷40“۳۳۳ پ ینلم مکودبین کےتمام اکم وقوا نکی یر لیم د ےگا الہ
ا ںکاکوئی پھلوڈئی یاغی ردان ضدہے۔مز یوفرماتے ہیں :ین دوسروں ن ےکہا ےک ال
یی تیردعن نل نکی طرف راقع ے۔ اس کےنمام ادیان پراظہار کے سی ۳۹,,ء8۶ئء/+0
تال کی بندگی اوراطاعح تصرف ای( کیتعلیمات )کے مطاب ہو۔ لہ
ام شا نے اےوضاحتی ا "ھ28 کن
نے اپنے رسول پاپ دی نکااظہارکردیا۔ یی ا لکی ال طلر وضاح تن ماوگ یکل
کے نت ان پروا 7 وگ اکندد ہنی سے اوراس دن کےخلاف جواد بان ٹیل دہ
اٹ
علام۔الورجصاش فا نے ال٣ بی تکیانش رہ جس ان دونوں لو ںوشائل
کیا ہے۔فرماتے ہہیں :7 یت میں بکرم سی ادرال ایمان کے لیے بشارت ےک
ان کی 79 دن فمام اد ان ؛ پبرخالب ہہوگا۔ اظہمار ے ماد سد ایک
ذر یی سے ) اورنحابہو اقترار کے ذر بے سے غااب ہہونا او رآآپ 1 امس تکا ان نام
قومو ںکوزیکردینا جودین اعلام کی ال یں رسول اللہ فی یی نین
سر د یئ کی خج رآ پکود کی کا پک اث کواساا متا لف تام تو موں -
خلہ عائل ہ وکیا
ام دازگیافرماتے ہی ںک۔انہار سے مراددائل کے ذر یھ سے الب ہونایں
- ای خی م اط ے١ ال لے >ا۔الکاد ین دلا ای کےذر یی سے پیش خی خااب
مہ قوبی مخ الناز ناخ :۳ر ۱۰۹
ہہ اھر الح ا:۵ ء ۳٣
گے احکام ال رآن: ۱۳۴۵/۳
رپاے اورآیت می تخل یس اس کے الب جہن ےکی نجرد کی ہے اود رسای غلبہ
ہے“
تقیقت یہ ےک۔ان الطاظطاس بیددنوں پچبلوموجودہیں۔ان یس ےس یکا انگار
نو سکیا جاسکا۔علام شید رضا مر کان دوفٰوں معاٹی کے بیا نکر نے کے بح دکیتت ہیں :
وَالاسْتِعلاۂ هُتا بالْعلم وَالْحْجَة أو ییہاں خلہراور بلنلدگی سے م رام اور دم لککایا سرداری
اوراققہ ارکا یا شرف وعزت اورم رت کا مہ ہے یا
ےی . .8 سے نمنتھا جا کہا مس میقام پچبلوشائل ہیں۔ بجی
او ہنا کہا وَمو ۔ااختاز: ان کان راۓ ید یدہاورقائل تر بی ےہ گوکہوعدہان ش
الَوَعْد يَصْدی بِبَعْضِہَاگ ےٹنخ سک تب کرتاہے۔
حقیقت ےر ینظر یھی اوک ری بر ت کیا یا لکااقتاریپر ہنا اوراے
عمزت ووقاراوراغتبا رکا حاصل ہوناء یسب نل کیخقی میں ہیں ان می ابی کطل رر کا
راپ ق بھی ےت
اظہایدی ن ط رح ہوا؟
اب ال بات پور سیک ررسول ال س با اپ کے لاے ہو دی ن اتی
کاانظہار یافل ہک طرں ہوااور ہم سط ر مال وجو دش لآیا؟
ایک دائے یہ ہ ےکم کال بجی ۃالعرب سے ہے ۔آ پک زندگ جی ٹں
سے
بموق ۵ اور ہوگیا ب گت
الَيَادَةِ وَالْعَلبَة أو الشُرفِ وَالْتزلَةَ
گے اتی رکز خ7.۸ز ء١ال ۳٣
سی تفیرالنار: ۸/۰ ۳9۹۰-۳۸۹
جح رام نے اس ہ وضو پیک مضمون می ںحفضر یکن وکی ہے_ ملا جظہ ہوجو مضاین ' دور حاض رش
اسلام کےکمی تھا منمون'احیاراسلام کےنھی تا ےنت لق لی اصطلا بای کززون ظد
گے عم قرط ی کے بی : ٹیگ ارا لم لی الدی نک نی زیڈ العرب ڑل (قریٹ بی جل د۳ء ء۸
۸ے رٹھی نے اس کےعلاو کی دوسرکی را ےکا نکی سکیا ے۔
۸ اظھاردین
درک را بی ےکہائڈدتھالی ن ےآ پکواور پک ام تکومتندن دیاے
بڑےحصہ پرغلبرعطافر نایا۔ا یکا یہاں ذکمر ہے اس رائۓے کی اہمیت ال پہلورے
ےکاا لکیا اتی ایک عد یٹ ہے لی سے۔حفرت نو بان' 1 روایت نام
رسول ال لٹ انم نےفرمایا:
إِنَ الله رَوّی لی الزضن, ترآیٹ ال دا لی نے زم نکوش کر کے میرے سا نے
کردیا۔ یی نے ای کےمشٹرق ومضرب کےقام
٣ تو ںکودیھا۔ میرک امت دہا کک ےکی
کہا ما وی سی مہا. وَأَعْطیث جا ں تک ےزین ئک رکے دا یی ے۔
الْكَزیْنِ الْكْخْمَر وَالأَبَِضَْ جھےسونے اور چا ندکی کےخزانے دب گے )
ایک تاریئی تفیقت ےک ہآپ نے جو رجف مایادد بعد جس پپراہوا۔ قیصرد
کسریی ےنت دماح اٹ درے گے اوددہا ںکیعڑتیں اسلائی اقتار کے زہگیں
7ہیں _ان کیخز ان جنجھی جم داں اپن ئل وکشرت پلغاررہے تے عامانسانو ںکی
خدمت اورفلائ صرف ہونے کے صے احادیٹ میں لی اٹیل الل کیا اگیاے۔
دورآ خرٹیں اظماودی نک بثارت
دو خر مل اظباردی یگ بثارت اعادی کہ ے خاہت ہے۔ ول
ایام نے راکرد متخ ہونے سے پل انت یکا دن اوراس کے مات والو ںکا
اسر خلہ ہوا اکیخماماد یان ا کےا مت ہوگررہ+چا ایس کے۔اس میں فو اضاا ی کو
ایر عدل وانصاف اور اکن وامان حائل ہہوگاءجس طرں دوراول یل ہواتھا_
خحورطلب بات بی ےکر اب اس اظمارگکیا شکل ہوک ؟ کیا کام دلال اور
رک انظہاروبین ۓےتلتیمفسری نک یک1 راک تحصسیل کے لی ملاحظہہو:ابوحیان انڑىی ۸۵ ۴ متخ رالیازنح
تفمی نو ى ۱۰۹۸۳
می مل ناب |طشن واش اط ال یت : اب حلاک حز والارشتضمبرببھض
مَشَارِفَہَا وَمَفَارََِاء وَإِنَ أمي سَیَبلهْ
اظھارِدین ۹
ران کےذر یت ہوگاء بازو وت تما ماد ا نکوزیرکرنے اوران پرغا ابآ ن ےکی وس۰
ہوگی؟ ااں کے جواب کے لیے سو اکم اہن کے اسدہکی طرف رج عکرن ہوگا۔آپ
کااس ہ بنا تا ےکآ پا نے ای بیشاہ تکیا اکراسلام اشنا یٰ کاناذز ل۷ردہدین ہے۔ایں
کےقی ہونے پرمقبوعطادال موجودہیں۔ا نکی تر دی سی طر نمی کی جاحتی۔اس کے
اشن بے بل اس سےلڑرے ہیں ۔آپ نے جنگ اس وق تکی ج بک اشن کے
٤ ری سے و 010۳ سےوہ نی دائن ےھے۔اں
طرح یل کے میران بی پرتری حاصمل ہونے کے بحدآ پکوسپاسی میدران می خلبہ
حاصل ہواتھا۔ بجی راستتآ بھی ہے۔ال کے بغیریہ بن کیق یں جاتا۔
چیادے امام
چہاوفرش سکغابیرے
یس اوقات چہادکا ال ط رب ذکر ہوا ے جیسے مہ رسلمان پرڈر ے اورجھ
اں می ںکوتاب یکر ےکا وہ گنا گار ہوگا ےکغار اورمخلشن سے ہنیک ری ام تکا
نضب - ہے اوراسلام ای کے لیے اس کے ایک ایک ففردکو تی رکرتا ہے۔ برامسلائی
تحلیما تک خلط تر جمالی ے۔اسلام نے دی نکی عفاظت اور ربلنعدکی کے لیے چجہادکی
تیب ضر دردکی ہےاودرا ںکا بے پا ال اجر و ابی بیا نکیا ہے کان اسے ہرایگ پر
فیس قراردیاہے بت رآن نےعراح تیٰے۔
ا يَستٍَی الْفْعِدُوْنَ من الْمُوْمِبنكَ
غَيْڑ أوی الطُزرِ وَالُْجْھلُوْتَ ؿٌ
سَبٍیْلِ الله بَموَالِهِم وَأَلْفيهِۂْ*
قَقّل الله الْمُهْهِيثیَ ََِموَالِهم
َأنفُيِهِۂ عَل الَْوِيِشَكَرَجَة“ وَئّا
وع الله الما وَفَطَل الله الْبهِهيِثَ
عَُّى الْمْحِثَ آجُڑا عَؤقاں رپ
ِنهُوَمَغْفرَة وحن و کان اللهُعَفُورا
ان(ااناء:۰۹۵٦٦)
لان شش سے دوجو میں یں ری
ٹیٹھ رتے ہیں اوردہ جو اش کے رات یل اپے
الوں اور جانوں سے چہادکرتے یہ برابرکال
ہو یے۔ وولوگک جواپن الوں اورجانوں سے جباد
کرنے وان ہیں الد نے یں ٹیٹدرئۓ والوں
پیک درجفضیلت عطا کی ہے۔الشدنے ہرایک
سے بھلاگی کا وعدہکیا ہے اور اد نے مجاپد می نکو
بے والوں پرا شی مکی فضیلت دیی ہے ج
۱ ا لکیطرف ے٤چا تاور خففرت اوررمقت یت
اورالیبڑامعا فک کرنےوالا اور مرن والا ے۔
سی اصطلا میس لو ںکہا جات ۓےگاکہ چا فی می نیہ بلفر کفاہیہے۔
جھادکے احکام ٢
اعلائیار یا س تک یذ ممداریا ےلوہ اپ دفاب یا مکرےاور جو ٹس برسرپپیارہیں
بکگورے سض تافرع سا پوس
یرکسع ات 7ن یک لے اکن انا
شائل بہوں گے۔ا نآ یات یل میاہدی نکی فضیلت کے بیان یل در جاور درجات
جات ینان یو ما کی ےی ےک جولویک چہادیٹیں منرت
سے مرو یں ان کے متقابلہ ش۲ مھاہدی نکوایک در فضیات ے اور جو خیرم زور جنگ
میں ہش ریک ہیں ہیں ان پمیاہدی نکوکئی ددحفضیات اور برتز بی حاصسل ہین تر کے
الفاظ ٹیں:
رانا الفضلون“ بریاھ عازن "لآ ں لال تحار فقل ے ات
لوگوں کے مقاے میں سے مج نکو چہاد بش
عد شک تکی ان ون مات 1ت
و یں و 5 0
الغزو فرض کفایة.ل کہ جات کنا ہے(سب یف یں ہے )۔
فََضّلوا' غل 'الِفَاعَدین الدین آذن
آ یت کے الفاظ ما دنۂ فی (ائشدنے ہرایگ ےبھلاک یکا وع کیا سے )
سےاستدلا ل۷رتے و علامماء نمش کت ہیں :
وفیه دِلَالَة لی أن الجہَاد لیس بفزضں اس میں اس با تک دینل ہ ےک چھا فرش مین
لین بَل هُو فَرضن على الْکِفَايَة نیس ہے بک سیف لٹ الکفایے۔
ف کی یسکہاکیاے:
الجہاد فرض علی الکفایة إذا قام بہ جہادف لی اکغایہ ہے۔ جب ےلیک اے
فریق من الناس سقط عن الباقین. انام دی رآوبائی لوگوں سےساقط جات ے_
ساہ کی لاف گن تق اکن لتق یل :ا /۳۳ن۵, ۵١۳
دای نکش رف القرآن انیم :ا ۳۱ن
۳۲۲۴۳
علمرائ نع قد ا نے ججہاد کےفرش يکفار ہو ےک انش رز ان الفاظ یش
معق قَزض الكِفایةء الذي ِن لم َقُم
به من یَکُھِی, آ پچ اکا کان ٭ وإن
قامَ بە مَنْ یَکُه١ی. سَقط عن سازئرِ
التامي. فالخطّابْ فی ابْتِدائِه ینَناول
الجمیعغ ل
ففنیکی جو رہاب بدراہییس جہہادکینقانوٹی حے
یس بیان ہوئی ے:
وھو (الجہاد) فرض على الکفایة لأنه
ما فرض لعینه إذ هو إفساد نی
نفسه واإنما قرض الڑإغزاز دِين الله
ودفع الشر عن العباد فإذا حصل
اقَردیالیشن ممقظ من التاقین
کصلاة الجنازۃ ورد السلامگ
فرن لکغا یہ کےسمفیا می ہی ںک اگ ا اق راداں
پل شکرس جو اس کے لی ےکا لی ہو ںتو سب
بی لوک ا سکوتای کے ل گنا وگا ر بہوں گے
2
لی ےکانی ہو ںو برسب سے سا قط ہو جا ۓگا-
اس بحاظ سے خطاب ابنڈا یس تام بی لوگو ںکو
شائل ہوتاے۔
حیشیت اورا سکی علت ان الفاظا
جہاوذن کفاہہ ہے دہاس لیف کی سکیاکیاے
کہ بذاینقصود ہےءاس یک دو فقو ریز ی
ہے۔ ججہاددرتقیقت الد کے دی نکی مس ربلنددی اور
بنندویں سےوںع شرکی عفن لکیاگمیاے ۔جب یہ
مقصولعتض افراد کے ذر لیے عا ایی ہوجائۓ و بات
سےساقط ہوجا ۓگا۔ ہے ہمانز جنازہ اورسلامم کے
ات سال نے اد کے فر ليکفا می ہون ےکی چیتوجی کی ے۔
7 مائےہیں:
ہل اءل قرامہ: ۱۳م ٦
دای لق ز۷۰,۷۴۲۷۱۸۵۰رم
نکراک مت
ون ما فرض له الجہاد وھو الدعوۃ جس متصد سے چہادفش کیا گیا سے دہ ہے
( پیل ) اسلا مکی ذقوت دیناء دی نت گوس بلند
کرنااورسنگر بین کے شر ان ماق ور شون
ردقع ھن ااکترہ ساویغہ لت سح اف کون ک کےا ےا
بقیام البعض به .لے سے ال بوجا تا ہے۔
اآل ے چادکا متص وا ےوہ ے(چہارے پیل ) اسلا مکی خکوت٠
دنق کی سریلندی این اورمعا لد گن کے رادراع ک ےتا ادرڈ رکون کنا متصر
ج بپأنض افر اا ےر سے راہ تا ےو یں کے کے یاست کے تا مسلمانو ںکا
9-2 پڑنا ضروریئیں ے-ا ابی پہلو سے جماواوفر رس فا ایا ےد
وکا توف ست1ہ موھد ےو ہناش
نک جائۓےتوزرابعت :تھیارت اورصنحت و7 فت اورتصول معا شی سی انسالی ضروریات
ری 2 ہڑکتیں) 226 ےلوٹ یکھی 00120 و 7ھ )اور ود چمادیی ای سکیا
جا گا
یدک ب فرش کین ہوتا ے؟
ٹن ا ےےعالات اد موا ی17 ت ہیں ج بک لی کہے لیے جہداختیاری
مکی در جتاء فرش عی٠ن ہو جا تا ہے ۔علماء نے ا نک بھی نکی ہے۔ جہاد
کے بارے میس اسلا مکا موتف جن نے کے لیے ان سے واقفیت ضرورکی ے۔
ا کاسانی ء بد الخ الصنالٌحْ: ے ء ۵ ۱٣۷١١۱۳
گہ مرخیا لی ءبدایہ۔ علامہاین الہما کے ہی ںکہ جبادکوفرش عیان اق اردینے سے ملا زع مک لآ مک رسب
کے سب ایک ساتھ جہاد کے نل پڑیں۔ جار ارک پیفرش ادا ہوسکتا ہے۔ اس مم ذذکورہنقصان
یں ے۔ اص ولیل سورة نساءک یآ یت ۹۵ ہے جو جہاد کے رف يکفا ری ہو ن ےکی صراح تک کی کے
ای اق ٥: /٢۳-۴۲٣٣م
۲۳ جھادکےاحکام
عل ما ین دا کت ہیں :
افش ِکفاہ ہے بن یقن صووں میں فرش ئن ہوجاتا ہے: ایک بک
محاز جنگ پردوفوں طف 2 کا دفسرے کے تافص پآ را ہوں ۔ ال صصورت
اسلائی فو رع کے ہرسپاہی کے لیے جھاوڈنش ہوجات ےگا اوراس وق تس یبھی اف رد کے
لیے نگ سے فراد جا ئز نہہوگا۔ دضسرکی وت ہی ہ ےکی سلمآ بای پر دش نکاخلبہ
ہوجاۓے(مأقی اسلائی ریاست ک ےکی شر الف طاحتکا قبضہوجاۓ )اس صورت
وہاں کے باشنعروں میس سے رایک کے یا سکامتقا کنا اور سے اپ علا تہ سے
گال با ہرکرنافنش ہوجا ۓگا۔ تس ری ضصورت ہہ ےک ماما مکی طرف تاغیبر عا ملعا لام
ند یکاعم) ہو۔اس وقت نس علاتے سے ال کا خنطاب ہوگا اس میں جوفردگھی جیک
کےٹقائل ہوا ا ے اما مک یآ داز پر حاض ریہ ون ضروری ہہوگا۔ سے
ای ا ا یج
ار س7 ےکو لا مقر ارد جج کی افو تی کا مازجنک سےفراراختیارکرنا مش
ایک ین وی مات رات کے 077 رین کا قضبوادردہاں کے باشرے
ام تی سے اس قن کو برداش تک ٹیش اور ال کی عدافعت نہ یتو اے ریاصست سے
۳۶ وفادارکی کے مم فی مبچھاجا کا اوراس ٌ 2۰۰۰
ریاست کی وشقت لن افلالزاور تال کو چوجنک کقائ بن خازگت پرکیینا جا ےو
ا کی وا پرلبی ککہنالازم ہے۔اس سے یچ ےکی پاش قائل میمت اورقائ لت زیر
خیا لک جا ےگی-
7 7ے کفای ےالبت: متخ لعالامت یں ہیر کین
بہوچاتا ہ۔ان عالا تکا اق را- یں ظزوزیاعندانزا یک بقااورسا 0 سے
0 ہہ
جھادکےاحکام ۵
فر ینف شکغایہ پرمقدم ہے
ایک اصول بات ہ ےک کی فرش عی نکو یں پشت ڈا لکرفت يکفابہ نل
نی ہوگا۔اے جہاددی سے تماق یک مال سوا حم رن ےک یکوش شکی جا ےگی۔
چہار کے لال ز نکاجاڑزت
واللد بین اگ رغخدمت کے حاجت مد ہو ںتو ظ۴ اندازگر کے چچہاد میں
سس ا ور رر ا ا رس ا
تقو ا نکی خدمت فرش یکن ہے۔احاد یٹ ٹل یہ بات بی صراحت کےساتھ بیان
ہو ے۔
ضقت داوف یئ دنن ا ناش گی ایت ےک یکن نے ول
ایام سے ججہاد مس شک تک احجازت طل بکی۔آآپ نے ودیافت فر مایا کیا
تمہارے والمد ین حیات ہیں؟ اک نع لکیاہاں !آ پ نےفرمایا:
ففیھما فجامں تم ان کے ساس لیس چہاوکرو۔
مطلب یہ ےک ابق قوت اودتوانائی ا نکی خدمت مس اگا تہ سل مکی ایک
رعایت می ان کی مز - 0 بل الحاض لآ فرماتے ہیں
ک یکن نے رہول الث ای کی خدمت میس حا رہوکرت کیاکی کرت اور
تماد کے لے پ سے بیس تک نا جا ہت ہوں۔اسل سے مر ہے نظ -
آپ نے دہ یافت فرمای کیا تمہارے دالد بین ٹس سےکوئی حیات ہے؟ اس نےکہا:
دوٰوں جیموجود ہیں۔آپ نے فرمایا یتم الد سےا مر وذ اب چیا ہو؟ ال تن کہا:
8م
اہ مارگ :تاب الجہادہ باب الجہاد باذ الا وین سلم :کاب الردالصلت باب برالوالدین واضما اق ہہ
اع چھادکے احکام
قازجغ لی وَالديأث خسن اپے دالدین کے پا داپیں جاواوران کےساتھ
صْخْمَقَہْمَاه سو کرو
علام وکا ث یف مات ہیں_
وفی الْحَدِیثِ دَلِیل عَلَی أَنّ بر الْوَالْدَیْنِ عدیث می دحل ہے اس با تک یکروالمد بین کے
قذ بكونْ أَفْضَل مِنْ الْجہاوٹ سات ون سو بگی ہار ال ہوا تا ے_
روایت ےگ ول اہی کی خدرمت می ایک حاضرہوااوزن کیا
ا پ کا تھ جچہادیں ثر یک ہہونا اتا ہوں بن ا سط رر باہو لکھرے
مال باپ بر ال ےررےیں-آ کی مل مایا:
انجغ إِلَھَا فأضحِکہغا گھا ان کے ایس دای جا2. یں اں طرح ضا؟
كيا (خو لکرو )جس طل رم نے ایس ز لا یاے۔
نظرت الوسعی خدیی شی ال تال عنرکی ردایت ہے ای کن ین سے
سفرک کے رسول لاک ٹا کی خدمت مس جاہچچااور چہاد شی شک تک خوائت اہی
آپ نے دد یافت فا کک یا من می تمہاراکوٹی رش داریھی ے؟ اس نے ع نشکیا :ہال !
71 9 ا ہیں ا سکی احازت دی ہے؟ ال کہاء
اجازت ئل دکی ہآ پ نےفرایا:
انجغ الما فَاسقأذنہمما. قِن أڑنا ان دائکی ان کے پاش جا ان سے اجازت طلب
کرو ںاگردواجازتد میں تو چہاوکرو۔ورندالن کے
ساتھےنسن سو کرو
لی صلم>تاب الب روالحصل ء باب برالدالملد ین اھ ات ہہ
گی شوکا ی:نُل الاوطار:ے /۲۵۰
ہ ابودا و کستاب ا مجہادہ باب ال رحل مخز ووالواہکار پان
گ ابودا ود حوالہرسالشی ۔ این ناحجر برروایت ز یادہخمیل ےکی ہے ۔کتاب الجہادہ باب الرگل
یر وولالوان
فَجَامِذ, وَإِلَا فَبتَمْماگ
جھادکےاكَگام ۲
جاہمة الشلمی کا بیان ےلمدہدرسول ا لین کی خدمت می ںآ ے اور
یا اکبمیراارادونغمزدے می ش رک ت کا ہے۔آپ سے مشورے کے لیے حاضرہوانہویں۔
آپ نے دد یاف تک اکرکیاتمہارک مال حیات ہے؟ ایھوں نے اشیات شل جواب دیا-
تک وا
000 کت کن
بیاعادیث ا ام رک یل ہل اکہجماد پرجانے کے لی والد نک اجازتة ورگ
ہے۔ا لک قانودٹی حیقیت بہ ےک داللدی نکی خدمت فرش عین ہوجاے اور جہادکی
حیشی تفر لکفائ یی ہو وال دی یکی خدم تکومق دم رکھا جا گا۔ائیں نے یارہ مددگار
تچ کر چہاد کے لیے جا نادرست نہہوگا ہکان اکر جہادط رف مین ہوجائے ادمھاذ جنگ پر
جانا ازم مرا چا تو والد ین کے کے یا ا نکی تجودیی کے باوجودآری بتباد پر
جا گا۔
علا مساءن رش نے اس متل ہی شفقہاءکا قش ران الغاظا ٹس بیا نکیا ے:
فغائڈ الفقباِ مقفضون لی أن من ام فقہاءاں بات پرتتن ہی ںکرفرییض جھادکی
شزط ذہ الْفرِيضسَة إن نشین فا ایک شرطا مہ ےک ہاں کے لیے والدی نک اجازنت
الا آن نون عَلَیْ فزضن این پل أن حائصل ہو الا یک دہذمض مین +وجاۓ مال ے
ا کون ہہذاٰك تم وم باحزض الا طور یر تگال ذس کےاداکرن کی بی صورت
بقیّام الْجُمیع بە۔گ ہوکیسب اوک اس کے لیےکھرے ہوجائیں۔
علا مہ شوکاث کت ہی نک رسول الل سای کا اشاد ے: فان اذنا فجامد
(اگرماں پاپ اجازتد یتوم چہاوکرو کیل ہےااس با تک کہ جماد یں شرکت کے
کن نا افو بت ات اعت ان ادا نافع اج ات ایت اشن
یف ولہابوان ۔مند اچ رجلد ٣ بے ۳ ۳ءحد ٹج م۱۵۱۱۰
گے اہن رش : بدا یت امج ونرا :اگ مقتص :۳ر ۹ہ ٣
۸ جھادکےاحکام
لیے والمد ی نکی احجاز تکا ہوناواجب سے می جھمہور راۓ ے_ اھوں نےقطحیت
س ےہا ےکم ماں اپ یاان شل ےکوگی ایک جہاد پرجانے سے کر ےو اولاد کے
لیے ججہاد پرجانا رام ہے ؟ اس لی کان کے سات سن سلوک خرن ش کین سے اور جباد
ذ للفاب۔ہال ار چھاوڈْض لکدلن :جا ۓآدا نک اجاز تضرورى ن:د
عینٹر ما یں ائن حیا نکی ایک روایت سے معلوم ہہوتا ےک جباد
کے لے والد بعک اعازت تل یں ہے۔ اسے اس صورستت عال تو لکرنا
ہوگا ج بکہ جھادفر ین قراد پا ۔ال سے دوفو طر کی روایات می اضق
+وعالی سے
کے رسل وا رین کا 2
یک سوال بجی فقباء کے ددمیان ز یر بد ہا ےک۔کیاخی سلم والدی نکاجی
وی کھم ےج لم والد گن کا کے ؟ امام شا امام اگی را بی ےکسا کے لان
کی اجاز تک اضرورت کیل ہے۔ا لکی یل اکھوں نے بیدکی ےک۔رسول الل یلیہ
کےسحابہ چہاد کے لے نت تے او رای نکی صف میں ان کےکافرماں باپ بہوتے
ھے۔النع ےاجازت نےکر ووشر ات چہاویں ہوتے ےمان ما ور سن
کہمال با پکاف ہو لآ وی ا نکی احجازت کی ےآ دئی جہاد پر جا ےگا
فقہ مکی مم لکہا گیا ےک دالمدی نکو اس با تکا فی ہ ےک ہف يکفا یک
۷ 0ھ)+0( پرجانے سے اولاوکور وک دےء چا سے وہ کاف رب یکیوں تہہوں-
البتہ جہادکا معاملہرال سے می ے۔ ججہاد پدجانے سے اولاوکوروک ےکا کاف روالد بی
کویقننٹیں ہے اس لی ےکہاس میس اس با تکا اند یش ےک دہ اسلا مک یتو ین د
ک شوکاٹی: خُل الاوطار:ے ۲۵۰٢/
سے این داب (كفمی: ۱۳ر ۷
جھادکے احکام ا
لن 2 ی0۷ سے معلوم ہو جات ۓےکہ
شفقت دب تک ہنا برا سے حکرر ہے ڈیںآو ا نکی بات مان جا ۓےگی۔ لح
علامہائمع عابد کے ہیں :”نماں با پکواودان یس ہ ےک یھی نی ککوال
با تکا گی ےکدہ اولا دک جچباد پر جانے سے رو ڑے ات اک کین خی
کے۔ اگ ماں با پکواولاد کے سفر پرجانے سے تشد یرنیف ودای ہے ا ینوی سے
ا نکی بلام کا اند یش ےو ود کر سک ہیں۔ اس معالے میں وت نی می ںکافر اور
ملمان والد ین می سکوئی فر می ٹک کیا ہے۔ الب تکاف ماں با پکف کی محبت مس جباد
سےدوک رہ ہولآدا نکی بات ئل مانی جا گی ت٭
شی م زیدوضائئیں
ہادیں شرکت کے لیے والدی نکی احجازت کے ذیل می فقہاءنےنصس اور
تو لکی وضاص تکی ہے۔ ییہاں اختار کے سات امیس ی ںکیاجاراے۔
١۔ججبادٹل چا نکا خطردے۔ا اں یس ایک ط رف ووالد نکی ضرددیات اور
ان کے کت وق بھی غیال رکھاگیا سے اور دفسرکی طرف ان کے جذ بات گا رعایت
ہے۔اس دجہ ےنتا ء نےاکھا ےک ۔اگ رآ د کوک ایاسکرنا چا ےس می ا لک جان
کو بظاہرکوئی خطرہ نہ لاتق ہوقواس کے لیے والد ی نکی احازت ضر ردری کیل ہے یہ
واللدی نکی ناف ما یی ں بھی جا ےکی ۔علاسکاساث کے ہیں :
وافکل ئک ضفر لا ڑغن فيه اس مرصل ےکر دہنٹس می ری بلاکت ے
الہلاك. وَیَشتَدُ فی الْخطز لا بَجغ کفوینبواورشر رفطرہ یو اولاد کے لے جاتڑہیں
ول انْ يَخْرْع إِلَيْه بِغَبْر إِذنِ والِييه؛ ہےکاپچت داد ی نکی احجازت کے بی راس طط رع کے
أُہمَا يُشْفْفانِ عَلی وَلَدِهِمَا فَمتَضَرَران سر پر جا ہکیو ںکدہاان پرہبریان ہدتے ہیں اور
بدلك. وٹ سفر لا قد فدث العخطو ا طر سم سے ا نکوصدمہ پچ چگاہ یں ے
صا دیی لی الشح الضصغ :۷م ٢ے٢
گے ائن عابل بنا ءردا کی الدرا أار:٦ر ٣٢۰٢
۳۰ جھادکےاحکام
تجك آه أن بخزع اليه بغار ھا لا پرخوفکوڈکھی پیاسٹرٹس می ش نظرسمقروا:
سنہ مم اسر 9 ۱
7 ۱ 0 کنا َلْحَفة 7 ہوگاء بلکیردد ای سے فامدہ اٹھاکیں گے۔ ا صورت
الخقوق گے اولاد روالد ی نکی ناف رماٹی کال ا مکی ںآ ےگا۔
ای اد یدک اگیا ےک دالمی نک اجازت کے خی راو دتمبارت: راو رردیا
تی کی نع کی بے
۴ چہہاد کے متا نے مل والم ٗی اوراولا وکا جریم سے تیعم بی اورشوہ رکا
بھی ےو ہی احجازت کے انم عورت جہادپنکیس اتی اس ےک شوہ رکےمقوقی
ای کے یف کی نکی حیشیت رھت ہیں۔ ہاں اکر چہادال پرفرن ہوجا ےت دا سکی
اجازت کے فی یھی اس ٹیل ش یک :وی اس کل می ں فتہاء نے1 او خلا مکی ما ل ھی
دکی ہے لام اما نا اجازت بی سے چہاد کے لیے جاسکتا ہے۔(قلا می کاوجداکں
وت7 وس یئا سے ت کو ینمی ردق ے)۔“
٣ وال دن کے اترام اوران ے اجازذت 11 خاصس امت لیے ری
۶ ان کی ادا شی میں انسان ا نکی ا جا کا پاننڈیٹںش ے۔ائکنقدام نی کت ہیں:
چہاو مش۸ اد ہا ےتووالد یی ام اجاز تکااظتبارگال ے اں لے
یڈ ل کات کک رنامحصیت ہے مھ یحم رم ء با جماعحت نمازہ ججعہیل شرکت اور بن
کی نیاد یٹم کےتصول کے لیے سخ رکا سے روالد ینک اجازت خحصرکیں ہیں_
ام اوزا گی کتے ہی ںک یفخ ران شک ادا 2 ص- 0
پر تفصسیل کے لیے ملاحظہ۔ این عابد من + رد تا رش امدرا :۷ر ٣۰۵۲۰۳ ۔ ام ن رامش :
۳ے ۸۰۲ حاشییۃ الصا وک یی شرب الصخر: ٢ ہے ٢
جَھَادَكَأََکام ۳
والد نک ری وا نکی اطاععت نہ ہوگ یکیو ںکہ بی سب فر اض ہیں ۔ ا نکاحنماز
و ےط
توق الصبادکی ایت
چہاررے سک لے میں وال ری 2 3ی عز نت اسر
تھی اہم ہے کی فردو جہاد پرنلنے سے پیل رید یھنا وگ اکا کےذ ےک یکات یں
ہے۔ اکر و 7 1. اندازکر کے چہاد کے ل یکل پڑنا 3
یں ہے۔اسلام نے ہدای تکی ےکم ججہاد میں ش رت کے اٹ ضا لع نئیں ہو
چاے گرا اںکا تھی نیش و ججبادییل شرکت درس ت کیل ے۔
شہادت سے ری معا فکال ہوتا
اکن ابق حالف ہے چا اوت ین اعت کے کان
ےی تا تی تاس ےن سان ای ای اس
ساسا جات کن رن و ں سر سر ماف گا رت ظا
گیاددایت ےک ایک ع رت سول اش صلی مکھمرے ہوئے اود( خطبہ )ار شادظ رما یاکہ
چہادٹی پیل ا اددا یمان با تام اخمال یش اض ہیں۔اس پرایکہھ نے اوک رسوال
و نات ےا کے ول 209 میں جان رے دو ںلوکیا شر ےکنا
متاف ہوجائمیں گے؟آ بن فرمایا:
تع إِنْ قُتِلْتَ سال الله کت اں اکر ال دا تتے معن مارے کے
: کہ میدران ٹس پاھردکی کے ساتھ ہے رہے انفد
ساب مختسبہ مُقبِل غاز مجر ےاجرھ ا بکیتوتئ ری بہار ج تک جار
ربیء اورقم نے ےن ب٤کھاگی ( توالل تعائی تہارے
قاع مصورمحا فگرد ےگا )-
مہ اہن قدرامہ اأىئمی ٣: ۱م ۷۹ءے ٢
۳٣۴۳ جھادکےاحکام
تھوڑی ویر بح دآپ نے ال س ےگ اک انا سوال پھر سے دہرا2۔ اس نے
دوبارہ ہی سوا لکیا۔آ پ نے وی جو ابد یا۔ال کے بعحدار شاف مایا:
قزق: تع جال غلاب لفاھ گہر ےک تن سا
قالَ پی ذَكِكَ ہھگا۔ تج یی نے مھ ا کے بارے میں بتایاہے۔
حطر تکپرالکر ین کرو من العا اص یی اللعضی ردایت ے ان ال کے
فرمایا:
۔غفز لشہید ھن ذنب إِلا الڈی نگ -ممشہی کا رکناہ محا فکرد یاجاتا سوا ےقرٹل
کے
ای مب مکی ایک ردایت حضرت اس ےکی ےل ہرسول ال ٹیہ نے
اشاطرمایا:
خطیقَہ فقان جریل: الا الین اشمتعالی کرات مش جان دہنا(دہل سے چھ)ہر
گنا کو محا فک دیتا ے۔ ال پر عفرت جج یی نے
کہا سوا ےت کے رسول ال لہا نےجھی اف مایا :
رن وع ےت
مطلب بر ےکہ جبادیشیس پور ےتلوش اوراستنقامت کے سا تح ش کلت ہواور
ال کےےتقاتے پپرے کیے جا میں بوسار ےگناہمواف ہو سک ہیں ان رض معاف
نہیں ہوا جآ ریڈازا نرہواتواں کی ضرددباز ہیں ہوگی ت2
علام شوکاث اس موضوع تلق احادیٹ کے ذیل میں ککھت ہی نک سے
فقال الئی ٌچ- إِلَا الدیْنَ ٣
ہک مس :اب الا مار ءیاب یٹ تل اللدکفرت ضطا یا ءال لد بن یبن روایات شی لآحصیلات ٹش
می قرفرقی ہے۔حلاحظہوفسائی تاب البہاد با ب نال فی مل الشدوعلی دین۔
مہ مسلم :جوا سال
خا تی کاتا انشل الا اب ا جا اپ ار
۳٣ 0
احعاد یث اک ا رکی دیئیل ہی کہ جماد ےتا مگناءاورتصورمعاف ہوجاتے بی ء بشرلے
دہاش کے را تۓ میں ہہوہ اس سے اجج روف ا بکی طلب پیل نظرر ہے اورآ دیما جنک
پر پسپائی ناختیاکرے شی رمغفرتے عامکا ای 26 سے البتداں سے دراو لازمہ
زین ایت رخ یج نکی دای لازم ہے )معافڈل ہوں کے بشبادتکی وچہے
ایس ہوتے۔ال ےکا ن ا٥ل انسانوں کےتقذقی سے ہے بیبای وت ساط
ہیں جب ھ2 ٹس اقم ضی خوفی اوراختیار ےائلیں سا قزاررےب/ اوھ
ےہول الہ پلیہ نے ا پش کی نماز جناز یس یٹس پرقرض تھا
عوال بد ےک اکرق دار چھادٹںث کیک 1 وناجاہ او ا ےلیا اکنا ہوگا؟اں
کے تلق ایک دا یہ ےکہاگمراس نے ادا ےرت اض مکرد یا ہوہ یاکئی ا ںکی طرف
ادا لی اما ت نے لے وہ جماد بر اتا ہے۔ایک بات یگ ںی کی ےکہدائنی
(رٹرخی رۓے والا )گی اجازت ے وہ جار پر جاک ہے اکر ود اجازت تد ےو تہ
جاے۔ ایا اتاج بیج کہ اگیا ےک یرس فوری ور پرواجبپ الاوا لو دا کی
احبازت ہو ای ورناجاز تک ضرور تل ے-
ا کی قانونی حشیت بیان۷رتے ہو تقاضی شوکا کے ہیں :
ننس لی اعادیث ے ےپ بات معلوم ہوئی سے کش ہد کےمناہو ںکی
مففرت ہو جا ی سوائۓ ٠رس 4+ ادا ہے ےرہ چاےۓ د ان نے یہ
الا لچ نہ کہ جب کک دا نکی اجازت مہو آ دٹی جباد کی حاسکتا ہے بللہ
یو ںماجا کہاگ رآ دی مہ چا ےکمساس کے سار ےگناہ محاف ہوجا یتو سے دای
سےاجازت ھن چابے۔اگروہسو ہے 7 سگمناوکی حدم غفرت کے پاوچ دم و ینا بکی
خماطراسے جہاد پر جانا جا یتو دہ جاسکتا ہے۔ بیراس کے لیے جائز ہوگا۔ ریا عصورت
مک نتل الاوطار:ے ۲۵۱۸ء ۲۵۲
۳۳ چھاڈکے أخگام
میں ےجب کہا ےر ہو ری طور پراداک اہو ٹا ناکرا ای جا تا یکنا زان
شش دورائمیں ٹیں :ایک کہا صورت می بھی دائن ( فرش دی والا )سے اجات
چاپے۔دوسرکی را بی ےکہا سے دائن سےاجاز تک ضرورت یں ہے۔ال
صلی اکا دز ات کے لو زارد پان
5 2
عدیث مل" بات پرزہردیا الاورے/کغفتران لیے
اے ای نادان اکمیاءیاا ںکا “0007 ےآ راو خحداییل جالن دہیے
کے ہباوجوددہ متا کیل ہوگا اود اید کے ال ال کی جواب دی اس ےک رٹ ہوگی۔ ال پر
تقر دارکا یہ چناحد بی ٹک رو کے منانی ےکووقرن یکر سی ےافیرمفقرت ما کی
توںح پر جہادشل ریگ ہوگااودجان د ےگا۔
علامماءکن رش کت ہی ںکرائل یم کےدرمسان الام" جش اختااف ےل ہجماد
شرکت کے لیر نواہکی اجازت ہو چابے بائیل؟ بج پور نے اىازت کے ایر
شک تکوجا 7 اندیاے۔نا صس طور برا صصسورت مل جب 9ه2ه-س19.ٗھ0۸ لی کے لے
کوئی چب وڑ جات
نان می بات پودی طر نیس ہے۔اس میں فقہاء کے نوی زنط رکی میک
ےجا ی یس ہ گی سے تر سی دتئنے دانے اورش ر2 ار سا نا ان ین
سے شک ان من کی قدداختقمار سے اسے یی لکیاجارہاے:
علام۔ ابع قدا می کے ہی ںکج ٹس پرقرض موہ چاہے ووفورئی طود پر
واجبالاداد٤و اس میں تا خی ۳ کی ہداس کے لے دائن( /زکوہیتو ےل
کل الاوطار:ے ء ۲۵۳
لہ بن شد پر یداد ٣٣ ١۱م
چپانکے|حگاء ۴۵۵
اجازت کاخ م جبادپرجاناجائڑگیں ےا یہد ہا لک ادا یگ یکانظاممکرجاۓ یا
کے( فلسوزدوی: یااں کے مگ ےکوی چھر ران رکھودرے۔ مکی امام شا ً0 کی
زاغۓے ہے بین الام مال نے اخ کو جنگ میں شرک تک اجازت دی ہے جواپتا
فئاوک ن ےکی اعت ت تا و ئن ع اتانس ےکر کی عیفش
کی ادا گی اما نین تن دت رین ا ےق کیا جا کک گاہ نیشن نوا
کر نے پوریگ سےا ےد وکنا نی ہے ۔گو یا کی عیشت اھ کی ہے بٹس
کےاد کو یق یہی ے۔
مارلی ما بی سہ ےکم بجہادانں لیے ہہوتا 0 دل جان دے اورشہادت
ما کے ان مان اعت ای ان داب ا نت ات من
آتا ےکہ جہاد سے تر کے علادہ اورسمارےگناہ ماف ہوجئئیں گے۔ ہاں اکر ججہاد
فرش ہو جا نوا ںکا کے اے۔اہذ اکر وہ ادا ےر کے مل ےکوٹی چز کیھوڑ جائۓء
ا کے کان تک ےر 3د ات جک کے کی اتا ے۔امام ام
نے ا ںکی عراش تک ہے۔عدیث می لآتا ےک منرت جا کے والدہکبدالڈ ن۳7
کت کش کان پر کت سات رش تھاء ال نکی رف سےان کے یٹ حضرت
جا نے رض اداکیا۔رسول الس ٹڈ لایخ کیل میس ہہ بالتشی لمکا نآ پا نے ال نک کول
زس تا سکیء بکمہا نکی مد فرمائی ادرف مایا: فرش اپنے پروں سے انیس ساب سے
ہو تہ بیہا لک کک نوس ےکی آ واز نے فرشتقو ںکووہاں سے ہا د یا ۔جخرت
جا ےہا کک یاتم جات کہ انل دتھالی نے تھھارے با پکوڑ ند وکیا اور براوراسصت
با کی
َ ان قدا نشی امرے ۳۸۰۲ بدایشب ن رام تخل اس حد یث کے لیے ملاع ہو۔ بقاری:
تاب الجہہادہ اگل الملا نکی شید سم :کتتاب فضائل اصحابۃء باب فضائ بد الک نما
4ج جھلادک اکا
فی سکپیا ےرڈ داہ دن وقرش دپ وال ےک اجازت کے
ایر چہاد یں جا ۓےگاءاگ رق ورک ود پرواجب الاداہواوروہ اسے اداکمر نے کے
موف می نہ ہودء ال ہراس کے ساتھد دا نیکیا عم وابہتہ ہے ایک صصورت بی
یج ےک دائن چہاد میں شر تکی اجازتتو و ےگ رقرضل معاف اراتا
صورت میں فرش دا رکا ایق جک رجنا (جہاد پر نہ جانا ستجب ہے ماک دو فرش ادا
ای ا ال سے و شکاداکرناز یادہا بھمے اسم قد رکمناجا ہے مین اکرووداکن
کی اجات سے ججباد پر چلا جا ےوکوئی رج کیل ے۔ دائن(قر د ہے والا|موجود
نواورڈرش دار ہی وی تکرد ےک اگراا سک موت داع ہوجات تو ا کا تر اداکردیا
جا اورال کا ا نظ بج ملا ہقد جہاد پرجانے یی کوئی مر یں سے۔گرادا ےقرخٹس
کاانظام نہ ڈو بہچترہ ےکر دہ ججہاد پرنجائے۔ ال کے لیے اقم وی ہے+ کہ
برو قتیقرش اواکر کے لک ناگرقرض موئل ہو لین فوری ادا می ض دی نہہ و قرش دار
جہاد پر جاسکتاے اش رٹ کہ بب اہ رعالات ال با تکاامکان کت رخ لک ادا یکاجھ
وفت ھے ہے اس سے پیل دامج سآ جا ےگا
تر کےعم میس دوس ےنة ق الحبایی ہیں
ان تتصیاا تکپنتلق تر داراورقرش ل خواوردنوں سے سہے۔جوبات ام سے وہ
بد ےلاد پر جواعادیٹ گزری ہیں ان ڑل صراحت ے 27 شید کے تما مکناہ معاف
ہوجاتے ہیں البتتد اس کے ذے ٹرش ہوتو وہ معاف شہہوگا۔ٹرضش انمانوں کےتقوقی
شیک ہمایاں اق ےا پدددسرےتقو یکو ا سای ا سکیا ا سکاے او رکہاجا سا
ےکم جہاد میں رت اورشہادت ےالاوں ےعلق متا فک کین ہوے۔شرک۱مت
ابچ عابگئ ءردھتا رگ الدرا ا ر:۷ر ہ٭ ٢
جھادکےاحکام
۳
سے پیل ان تقوق دواجبات سےسبک دڈل ہہونا یا کاٹ مکرناضردرکی ہے۔ چناں چہ
اں مل کی حضرت ابوظاد کی ردایت کے ذ بی میس امام فو وٹ یھت ہیں :
قَوْلهُ 5: إِلَّا الدَیْنَ فَیِيه تَثبیة عَلَى
جَمیع خَقیق الَذيوَینَ وَأنَ الْجَنَاد
وَالشُ۰َادَة وَغَيرِمْمَا مِن أَعمالِ الْبڑ لا
خُفُوق النَهُ تَعَالی _ل
علامشوکاث کے ہیں:
وَیَلْحَیٰ بالڈیْن تَا كانَ حَقًا لأَدميٍ مِنْ
دم أؤ عِزضي بجامع أَن کُ واجدٍِ حَقٌ
امن یَتوَقَفُ سُفُوطهُ عَلی إِسقاطه
آ پکائیفما نکیٹرخ کےعلادەس بگناہمعاف
ہو جاگیں گے اس یی انسائوں کے جووقی کے
مل خر درک گیا کہ ارات دہ
نیک اعمال انسانوں کے تقو یک اکفاروکییں بن _
اکی سے یس الد کےمفو تی معاف ہوں ۓے۔
تریس تی کےعم میں انسا نکاجوییئقن سے دہ تا
ے نخواہ ا کنل جان سے ہو یا عزت دآبرو
سے۔ائ لیےکمہاان یں قدرٹشیترک بی ےکہان
نیاوی کن نے سے دای گے
ساقطاکرنے ہی ےساقطاہوں گے-
علام ور اون اورز یادددان ہے ۔فرماتے ہہیں:
أرَادَ بالدَیْنِ هُنّا مَا یَتَعَلیْ بِدِمُتِه مِنْ
خُغوق الْسِْمِينَ, إِذْ لَیْسَ الدَائِنْ
أَحَقٌ بِالْوَعِیدِ وَالْطَلبَة مِنه مِنَ
الْجَانی وَالْغَاصِب وَالْخَایِنِ وَالسَارِق. ١
دین ( فرش )ےآ پک مراوسلانوں(ای
طر غی رسلھوں) کے تو ہیںء جو اس کے
ڈسے ہیں۔ اس لیےککیٹرخ داد دع یکا اوراں
سے مطالبہکا انان نیس ہے تا تق کہ
ایک اتل خائن اور چورے۔
کہ وو بشرں مسلمگحلد اسائع ءا جزء الال کش لے ٢
گی شوکائیء نل الاوطار:ے ء ۲۵۳
یل لئ تا ری : ھ رق فان ءے راے ۳
۳۸ جھادکك انحکام
خر تعبدرائڈدبکن مس وو گی ایک ددایت م۲ ل 3ین کیا مان ت کالفظآیا
ہے جھزیادہڈٹ اأعتی ے۔ ددرسول الش فی کاارشاذشلکرتے ہیں:
الفثنق کبھن الله رکف الوب ال کےراتت می ہوناتماممگناہو ںا کفار وین جاتا
کلہا إِلّا اْشَانَة وَالَْائة نی الصَّلاۃ سے سوائے آمانت کے۔ امانت نماز یہ آمانت
والْشانة فی الوم و َالشائنة فی روزےمیںاوراما تگفنگودیں _ان میں سب ے
انحویٹ 'واش ذَلِك الودائع_ے شمد یددہامانتنی ہیں چلی کے ای جال ہیں۔
ال سے بی بات پالئل دا ےک دی پرددسروں کےمقوق بہو ںو چہارے
پپیلے اسے ان کے اداکمر نے یل رکرنی چا ہیے۔ نی ں نظ راندازکر کے ہار میں شرکلت
رس موئل شا گان سائیت ں گر
اعلام نےےفرد کے موق اورر یاس تک سیاکی ضروریات دوڈو لک ابہت ری
ےس ای نے منقاصد چہاداوراضاٹی وی کےدیٹیان ہے ا لنوازن قا تھمکیا 20
اورریاستدول ی پابندہیںكا یتو از نکو ٹر ای اورا ےلان نی د نات
ا رواوالطبراٹی اٹم اتاج (نت می یشرح الیاٹع الضصخو لمت وی:۴:٠۰٣)
۰ك
مچرور پر چجہاد فی کیں سے
منانین کےچھونے معذزرات
سور تو میں م انی نکا اکردار بہت نیل سے بیان ہواے۔ خائص طود پر
از ے سے می اع کے م٠ پا ا یا لا نے ا لوان نے تما وک آیادک نی
ہوئی۔ چمادکا نم دیاجاتا ےون سے نٹ ٹیشیر بے ہیں۔ ابی کے اشن ےکانام
وس ان( کی درز اذ پرجاناہواو سی ںک ھاکھا قد :لو لسْ نک
گت !تا مغ (٣۴)(اگ رہ رلئل سیت و1 0 وت ا
سےلد ما جنگ پر جانا یں جات ۔اگرا کا ارادہ ہوتا تو جنگ سے چیہ جوتیاری
کرلی چا بے ووضرورکرتے دن الل تھا کی شی بی زی کہ دہاش پاک مقصد میں
2 9 - 9 0 و اکہ(عوڑتولہ بچوں اور معفورو ںکیطر یگ
گھروں میس ٹیٹھے رہیں۔ ٣١( )اس ل ےک وہ جنگ میس ش یک ہو ےبھ یتو فساددی
چیلاتے۔(ے۴) ا نکاحال یی ےکمسلمافو ںکی من کم رای سے انی تحلیف ہولی
ہےاوسلما ن یلست سےدوچارہوں یئ کو یگز ند جو نی مناتے ہیں اورابقی
ہوشیارئی پرنازکرتے ہی ںک ہکم ال میبت سےتفوظار سے۔(*۵۰))انشدکی راہ اپنامال
انا اور جہاد پرشر کنا یش نالپندہوتا ہے اوداگ یی اید ینای پڑ ےک وخت اگواری
کےساتقحددتنے ہیں۔(۵۳) اود کےنلنص بنرے ایق مت مردو رک یک یکماگی ا سک راہ
ٹیس لان ہیں کون پل نکر ہیں۔(د )مد مکی بھی ان کے دربن عالی ے۔
با معذورپرجھادفر ض نھیں ھے
وَقَلُوْا لاَنَنفْژؤا فی الڑ (۸۱)(او رک ہی سخ تک ری میس تکو)۔
ب۔اورا ا للویت کے بھونے عذدات ےآ ری 2 ا گن 02 اورا ںکا
نفاقی ظاہر ہنا ے۔ بی لے بہانے اکا وفت را جاتے ہیں ج بب ول ایما نکی
دوات یرم ہواورائش کے دین کے لیے جان وما لکیقر با یکاحجذ یرد یڑ چکا ہو-
تی معورین
بی ایک تقیققت ےک انسان کے ساخ جیقی عذداتبھی ہوتے ہیں ۔ یں
نر اندا زگی ںگیا جاکتا۔ چناں چفرآن یر نے جہاں مناأقین فی کک نے
عذدات بیان کیے ہیں ء دی ںیقی معذدوری نکابھی کرک اہ او رہہ ےک ہاگرد چہادٹںش
شریکنہہو ںآ کو یج کی ے۔ارشادے:
[021 5 0)2 وَلّا عَلی الْمَزُٰی (جہادیں شیک نہ ہوںآو )کوکی مر نیس ے
ےم گا وہ ےھ فقو : تٹوں راورم لقٌول اور ا( ۳۲
عَرَعإِا تَسَخُا يلهوَرَ 20 لی 20 'کیردہ الللد اور ال کے رسول کے سماتھ
لغش ون سبئل* اللہ فو نوا یکریں کوکاروں پرکوئی اعتزاش نہیں
رحیۂٌ۹۲,200) اورائشد بڑ اما فکر نے او رکف رما والا ہے۔
عد استطاعت ےزمہداری سا قط ہوعالٰی ے
رس ا َيي رن ند سد ال شر یکیو
ہوسکتنا اس پر ہا دفرخ یں ہے ۔ اس سے بے اصول متنط بہوتا ےکی یھی
حرش ری تکاآ دی ای وق ملف ہوتاے ج بک ہا لپ مکواضجام دی ےکی اس یں
اسنا عرت وؤں اأراسظا خعت ہو رووا ںکَاطلَلفیہ+وگا- عل زضي ا یآ یہت
کے جن کت ہیں:
معذورپرجھادفرض نھیںھے 7
ال صن فی سط الف َن آیتائلہعالہی ال ےلیمعذعرین ےی ذسداری
اللَڈرِبْن فک مَنْ عَجَر عَنْ شی ساقط ہوجائی ہے۔ ہاج کی یز ےیل کے
تفظا نہ اداکر نے سے ھا جز سےا سے ووسا قط ہوجاتۓگا-
1رت ضایف نے وی نکی یں جک یی اج
دوس ال رکھاجاے۔ددس رکا کہا لککا تاوان اد نج ییذکیاجائۓ سعن یف مات ہیں :
بی بات لکل الہ غشا الک ق۸٣ یک یکئی ہے۔اڈر یھی کو
ا ںىطات ظ /
حرر کی اتا ءال تکاس ا وت ارز ل از ہو ۓے
جہن
اڈ لا !فعض اِلٗا عتی القادر خَله جہادارأنھس پرزئش ہے جو اک قدرت اورطاتت
فمَن لا قٛذ لَه لا جهَاد عَلبه رکتا ہو جس کے اندد ا لکی طات نیش ہے ا پہ
ھا یں ے۔
ا لک وج جات ہی ںکہ جماد کے من ہیں ایق پر یتو تصر فک ناج
تفھ کو یقت تی حاصیأئیں ہے اس کے لے ال حر فکرنےکاسوال میڈیٹس پیدا
بہیتا۔ای لے ا بن لگگڑے ا بانج ین پچمرنے سےمھنوں یر ناتواں عم ٹیش ہکم زوراور
جہاد کے اخراجبات برداش تک نے کے موقف میں شوہ ان یں ےکی پر جہادفض
خر ارد گیا علامکاس الف لات ہیں: چے اوگورت پریھی جہادذ یی ے۔ا ال
لیے سان طود پروہاس کے لیس ہیں۔ ت٠
ف ےکی ایک او دج راب درتارٹش ے:
(ولا بد) لفرضیته (من) قید آخر وھ جہادکی فرقیت کے لے ایک اود شرط می
(الستطاعة)ۓ استطاعتعۂر ورک ے_
لا ق ری ءا لیا مع لا حکام القرآن: جلد ۳ء ج۸۶ ۱۴۳
گے کا سای ء اف الصنا کے ۱٣۷ گہ داع رم درا ٣۰۵۸۷:
۴'۴۴۳
مرورین ان ںن؟
سور تو ہکی زیر بح ثآیت (۹۱) مس چہاد سے معذرورن اف رادکا کر ے وہ
دک وو سا رر
ا- ضعناء ۲ می ۳- باوار
آ یت مل ضعناء اور ری کےالفا طط ۓ ہیں رضعذاء رت فک اورمتی
مرلیٹ کی ہے۔امام را زی وی ہنتف اورم ریئش میں فر قکیا سے تعیف وو سے
مخضیال طر نون سام ہواوراں یںکو یھ یئفنش یاعیب نہہوئما نگم زوراورناتواں
ہواور اویل حص نہ نے کے جیسے بوڑ ھے اور رسیرہافرا اکور اور یف وہ
تس کی ہے و 07 7" زور اور (اظ مو اور جمادکی مشفقت نہ برداشت
کر کے۔ چناں امام راز ضیف کے ذ بل می سککیتت ہیں :
ومن خْلِق فی أصلِ الْفِطرۃ ضَعِيغًا نجیفماله جفطیطور شف اوزیںہو_
می بات علام علاءال بن خاز ا چیا ے:
معذورپرجھادفرض نھیںمے
ومن خْلِقَ فی ال الخلقة ضَعِيفًا تجیفاگ جوپدأئیطور ضیف اوڑیںہو_
علامہابوحیان ان نے اش کی ضعنفا میں شا رکیا ےجس کے اندر
یی طور پرخو فک یکیغیت اور اس قدنضنف و باتواٹی ہوکہ چہاد میں شرکت اس کے
ےکن نو کے ہیں:
ومن خْلِق فی أصلِ البلیَة شدید اللخافة ج سک جسانی ساخت بی مم شر یرخوف,
والض ول بخیٹ لا پمینۂ الاڈ - ضف او ناقواٰ ال جاۓ :شس سےکہاں
کے لیے چھائنکن نہ
۔ۓ. رازییء انی راک : جلد ۸ء تز ء٦ بے ۱١
مہ خخانزن :لباب الاو یل لی معانی لت بل ۳ر ۶ےا
'ء ابوضیان؛النرالی:۵ ۸ے
معذورپرجھادفرض نھیںھے ا
میتی ےعلق امام را زی یف ر 0 9)
ا سنویت کے ووتمام افر ادءرادیں ہومرنشکی سے جہادکی طات ند رت ہوں۔ے
فرق اس ےک مایا ےل یش رآن رن ضعفاادرم ری یکا ا نک الک ذک رکیا سے لہ
و ران یل ایک جلہ ہا ے معذور بی یں نابنا ۴۷د شی
ایک ساتذ ذکر ہے کس ساو پر کے با نکرددفر کی تا یں ہوی۔ارشادے:
نیس علی ای رج ولا عکی اندھ پر ےہ نلگڑے برجم اور
الاخوج حرج لا علی الَزفں نحری پراود جیٹس اداہراس کے صولکی
عو جو مَن ُطع النهَوَرَسُوْلَه يُلْخِلَهُ اطع تکرۓ) اس َء لت تی میں کن
جن وق ون تنا الکنٹڑد وشن مر ےکا جن کے نی رواں ہو ںکی اورجھ
کول بت)722) لات 2د وؤوکمسنا زیلپ متاز
اں تکازن ایک تضیاقت سےررق رن یر نےحق یت کے
عادا تکاذکرکیاے ان شیل بہرعال فر قچھی ہے۔علاممائ ن دا لی ”حالف جسمالی
عذرات کے سمل می کت ہی ںکہ ان می سکی ٹیٹی ہوٹی سے۔ لیک اگ رمایاں ے اور
دوڑ چھوپ اورسوار یکااستمال کن انیس تو خذرقائل اختاررے مان مو یک
کےساتج دی دوڑ زگ سک اورسوار یک رسکما ہوقو نزیس ہے۔ الما ہی سے جیسے نا بنا تو
مزور و پنعذرٹش سے۔ تی معا 72 کے رر یرم نوا وجب
0/9
کیو ںکہ چیاداسل کے سا توبھی ہوسا سے تہ
مرلیش دوط رع کے و تے ہیں :ایک ود نکا مرش دای او رفعل تا ہے۔
ا یناہ لو ےلگڑے اوراپا ای سآ تے ہیں۔ ووسرے وو مرییٹُش مجن کے مر 1
ری رازیی :الس اکب جلد ۸ :ء٦ اب ے ۲اء نز ملاحظہہہو از نآفْ :۳م ٣ ے١
لگ اکن رام :۹/۱۳
م۴۳"( معذورپرجھادفرض نھیں ھے
وی 0 افرظاق ہوئی ہے ےر یر ینا ای وٹ اود نظ جس سے چا چ رن
اور ترک تکرنا دشوارہو۔ ال یت کے ام راخ ش کا علا جع ہوسا ہے۔ وقتکمز رنے کے
ساقع یپ مچھی ہوجاتے ہہیں۔آ کل نپ دق جیے اھ راخ بھی قائل علا نع بجھے جاتے
ہں۔ا نکا اقم بی ےل جب مل تم ہوجاۓ اورکحت بھال ہوجائ ےت وححت مندانمان
متصو رکال
ای عدم استطاعت
کا ضوورت ھ2 ے 0 استطاع گی ضروری ہے۔ الڈدتال یکا وا
ارخادے:
وا عل ال کا ببلونق ما ہمان پگ جما ننس بج جا پر کے
ُنْيِقُوقَت(۶۱ہ:۹) یےاپنے پا انیل رکھتے۔
ال کے یل می مفس خازن کچ ہیں :
یعنی الفقراء العاجزین عن أہبة ا سی سےھراددہ اوک ہیں جو جنگ اور چہاوکا سازو
سامانکرنے س عابمز ہوں ہی جوکھانے پٹ ےکا
سامالنء سوارگیء بنھیار اود سامان سر نہ باتے
الراحلة والسلا وٌكةا النشسز لاڈ
پوس تی وع 8-0
العاجز عن نفقة الغزو معذوری برداشت ئگ ر کے وومجزورے-
ال کا مطلب بی کہ ججہاداشں وش تفر ہوتا سے ج بک ہآ دی کے ال
زا الراورواری لوا ز مات ہولں-| سی یس ائل وعیال او رن نافِاد یکا لی
ذمدارلآ دی ےا نکا نان ولف یی شا لن ند لاوس تو مارکا 79 00
“7۸0۸0
الغزو والجہاد فلا یجدون الزاد
لا علا نظہیو ءرشیددرضائأفرالمنار:۵۸۲۸۱۰
جم یازن مع اخ وب :نف رص ۴ ے١۔ امن قرا :۱۳ء ۱٠۰۹
معذورپرجھادفرض نھیںھے 0
۴۶ 2,7 گی پٹ کےچھواز لے سۓ کت پائغ:
اکر چہادکے یییقر یبکا سفرکرنا پڈ وش رط بی ہ ےک ہآ دن کے پا زاوراہ
ہواورج بتک ووکھ سے اہر سےہگھروالوں کے لق کا ظا ہواور جنگ کے لیے اسہ
بہوںئر 20.7" یس میں ما مقر 2 جا سےسوا ری اض ۵020.ە) لان "
مسافت اتی ے اس م لتص ریش جائےتوسوارییککائی اعت رہوگا۔ مل
اکرکول ا کےا خاات اکنا اںکا ا مرکردے
2 ہوجا گا یں میق ف مین نہ ہو ھآدٹی ہیور ھا جا تگا۔ ججباد
یں شرکت ا کے لے لازم زقرا یا ےگی۔چناں جڑقی عذ رات یی کے ذ یل یل یی
بات ان الفاظا من کا ئا ے:
ولا می الَيَْ اِذًا مَا اك لِکَخہلَهُمْ ارنان لوگوں پرکوئی تر ہ ےک دہ ج بآ پ کے
لت لا اج مآ انگ لیو تو لو ہناخ ےآ ےکآ پان کے یسرم ذرم
6٤وھھ کیو دی 31 طر سے کے کر 49 آپ اك پاٹ مہا
ا ا ما و و سی
لیے سواری را پھ مکی ںک رتمک نکر )ووانس حال ٹل
ٌ قوؤّیں ا یۃ:۹۴)
دایں ہوئۓےک۔ا نکی میں ام کم مش1 ضو بہاردی
ی سک دقر کر ن ےکی استطاعت یں رکھت_
اںکا مطاب ےى ے اگ رعکومت بباد کےلوازمات پرےردے مطلو
ساز وس مان ف ران مکردے او رای کے اتخراجات رواش تکمر ےآ مالی عدرم استطاعح تکا
عم ہوجاۓےگااوزشنلوگو ںکوچھادکا عم ہوان کے لیے جہاد پرلکنالاز قرار پا ےگا۔
صلاحیت
جنگ کے لے ےفون جنگ سے واقفیت لازی ے۔ رسول الل صلی نے
اس ڑ یامیت دی ے۔آپ نے تیراندانزیی کٹ سواریی او رتمشی زی یئ اوراں ٢
0 سب رن
۲ معذورپرجھادفرض نھیںھے
می جارکی ر کن کی ت خیب دی اود اکیدفرماگی۔لل
ان و نک ابق پ کے دورمپارک ہے تھا جنگ زیادہ تیرہ شحل
اختیارکرچگی تا بس کے فو کی تر بیت ناگز یر ہے۔ ایک 7 ہبیت یا فنۃفو گی ہی
مماز جک پرانافذتل اضجامد ےکا ے۔فقہاء 2 صلاح تا زمر اردیڑاے۔
چال ملتہ نی کی اش پو ماب روا زین ؟
(وشرط لوج وب الْدوَة عَلی الاج) چہادکےوجوب کے لیے شرط ےک خھیار پریشن
أَيٴ وَعلی الْقتَالِ جنگ پر قددت ماکلہ-
27 بشؤ نکر ےکدہ حا جنگ پ4( بے فاد٥) ماراجات ۓگا اگ رفا
ہہو جا ۓگاتواں پر چھاف ئیں ےت
منرورین کے ےرت کاجواز
قرآن ید نے معذورین کے باارے می فرمایاککددہ جہاد رنہ جائی ںتوکوئی
حر کی ہے۔ ال کے میا بی ہی ںکردہکنا گار نقرار پائیں گے یادہ قائل امت نہ
ہوں گےاورا نکیکرفت نہ ہوگی۔ بای کعر جک رخصت ہے یالو لکہاجان ۓےکہ جباد
عدم شرک تکی ایی اجازت ے۔ ا کا مطلب پیل ےکہ جبہادیش شرکت ان
کے نییمتوح ےبد اشن ش رین ہن أائگناؤگرنریں مک یا اب ے
تمرم ہوں ہے بل ہیی ورچُل مھا ون ہو سک ہو ں ٹوا رواب کے رد خی
ہویں گے۔اما مرا ز اف مات ہیں :
ندمت 1 مطلب یی ے معذوروں کے لیے ججہاد پرننا
ےا سکیفصیل رم ک یناب صحمت دض اوراسلائ یتلیما یش یھی جا بے
لہ ان عاہد بن :راتا گی ال درا :۹ء ٥۰۵
گے جوالہ انی ضص ۲۰۷
معذورپرجھادفرض نھیںھے ے٢
مم ہے خظڈر ناکرا خیاگی سے چچہادشا نشیک 6وہ
اق اق تک حد کک میاہ دی نکیا مددکر ےگا ان کےساز وسامان
کی طاخق تکمر ےگا اشک رکی تعدادشش اضا کا با حث ہہوگا اوروہ
مماہدین پر بد جیٹس بے گا تو ا لکی خدمت عند انشرمتبول
ہی ےگ
بھی بات او رفص رین ن بھی ای ہےسعلاممالوحیانا ران ککیشیوت میں
فرماتے ہی ںک عفر تجردبن جھمورئّ کے پیریی سن کتھا۔ ا نکا انار کے کی او خداتزس
افرادمش شار ہوتا تھا۔ ولگ میں سب سے؟ کے تھے رسول الاپ پلیہ نے فرمایا:
ال تی نے ت ہیں مع ورقرارد یا ے(خ مکیوں اس قدر:نکلیف برداش تکررے ہو)
آھویں نع سکیا اخدای ام تو اپنے ای نگ کے اتا ی4ب ہواججت مل چاو ںگا-
جفرتکبداللب نأ مکتومابینا تھے جنگ اعد یل شریک ہوئے۔درخواس تک کیم
نس عطاکیاجائے۔ناں چگم اعد ٹس لیا۔ جب دہہات زی ہو یاقوددسرے باتھ و ے
تھا لیا جب دویجی زی ہوکیا و9 رکوس ےکا اکر پکڑےرہے(اورکرنے تدیا)۔ ٹ
عدم ریت پرافسوں
تہادییں عد م شرکت کر نےق مزر ہکا ےکن اں کا مطلب یڈ
ے 2.2 رگ ال بات پشسرت اورراح تو ںرے کہا نکیا جان ناوراک راہکی
آزا انشوں سے و تفونار ا_| ال کےایما نکاتقاضابہ ےلہاے بیاصا دا ن گی کہ
دہ ایک بڑےکارتاب ہجرد مر ہا۔ اسے بیجف بب تاب کرد پاپ وک وس ا گل ہہوۓ اور
وومورورو ہے ہیں ہوا تو چمادکی سعادت سے ہہہر ور ہوتتاء الد کے و مگ نکاراہ مال
ل رازی: |كْ لے جلر ۸ء77 ء٦اگلے ۱۲
گے الوضیان ۷ا من رالھیط :۸2/۵ نیز ملاظ وق رٹجی ءالپائئ لا نکام الرآن:جللد ”ءجزء۸ بل ۱٣١
۸ معذورپرجھادفرض نھیںھے
0 رتا اور جا نکی پا زی لگا ا۔ غرزو) نوک می ںپتف ہنلیص اٹل ایما ن تم یک نو کے
اں لی ےکہ ان کے پا ال لیے سفر کے لیے سوار نی نی انمہوں نے رسول
الس ٹل سے سواریکی درخواس تکی۔آ پ نے مذرت فرمادی۔ ال وقت ا نکیا جھ
کیفی تاج اور جو ایک مو نکی کیذیت ہوپی ای ددق رآن نے ان الفاظ مل بیان
گیے:
تولوا کلم تےنض من القشج وہ (آپ کے پاس سے) اس عال مم وائیں
تال تَِدُوْامَايْنْفْعُوْنَہ ہو کا نک یآنگھں ےم کےآنسوپہررسے
(اتقۃ:۹۲) تھےلد ہا کےاخراجات ئل پارے ہیں۔
عدیث می ںآ ا ےکہااں طرع کے حیگی مطذوربی نکو چہاد میں ش کیک نہ
ہونے کے باوجوداایشدتھالی (ا نکی نیت اود ج ہکا ) اج وو اب ضرورعطا مر ےگا
حضرت ں7 کی ردایت ےکرسول الس ای مد تک ے وائینل ہو ےت مد بب
کقری بک کرفرم اک نیش دولو بھی بی سک مس مچکچھی گئےہ جھدادییبھ یکم
نے مکی اورمچ بھ تم نےکیاوہتہارےسا ورے۔ سحا کرام ھ2 شی اوہ
ہمارےہا تق ھکس ہوک ٹیں جب ٥ھ بھاکا یئ ہیں؟ آپ ۓغ ایا: بیددلیک یں
جمنکو یق ی بعزدنے جنگ می ش کیک ”نے روک دیا۔ے
!؛ وتترخوای
جولویں چادیثر یک ٹہہول ا نکا عمذرای وت مر ہکا جے کو ہالداور
رسول کے ساتق ھت رخوان یکا شھوت دی چناں چا یآ یت ز یر بث (الت ب::۹۱) کے1 خم
یس اش رطاکاذک ران الفاظ شل ے:
مل بفاری :ناب الجہادہ باب من عیسہ العز ین الو سکم تاب الا مار ء باب تو ا بن عب ہگن
رارق ااوداد :کاب الجہاد پاب الرخصع نٴ افو ون الوزر-
معذورپرجھادفرض نھیںھے نگنا
إِذّا تَضَخُوا يہ وَرَسُؤلِه* ما عَی ج بکہ دہ تر خواہہہوںل ابڈداورال کے رسول کے۔
الْعْسنْيْیَهِنسَبٍیل کوکاروں پرکوئی از امیس ہے
ا رق اس کالفظ1 یا سے ۔ کی کے سا تج تج خواہی اوھ اٹ کی جومنہ
صورتیں اختیاری جاگں وە سب ۶-7 یس داقحل ہیں ال لحاظ سے اداوررسولی کے
ساتھ خی رخواب یکا دائرہ بہت لٹ ہے۔سوالل می ہ ےکس میدال جنگ می گے لی راپنے
مظام پررتے ہو افلداوراں کےرسول کے سات دکیا خی خوائی ہ وت ہے؟ علاء نے
اےوا عکرن ےک کوکش ٤ے
علامہ اور جصاح لضف کے ہی ںک مرو ری نکا عد ا شرط کے سساتھ
7 بل تول ہوگااوددہ تن ستا نٹ گی ہوں بے لوہ الیراورا اس کےرسول کے ترخاہ
ہویں۔اس کے رخلاف جن چہارمی خر یک نہ9 میدان جنگ رر جاے
اور یر ینہ یں موجودلوگو ںکومسلرانوں کےخلاف پرا شک رتا رہےء الع کے اندرفساد
پھیاائے٤ وہ قائل نذمت تی عذزا بشہر ےگا۔ ال اور رسول ےل کر و
خر خوای کے اندر بھی وافل ےکم سلمافو کو جہادکی تزخییب دی جائۓ ایل اس کے
لے ماد ہکیاجائے ان کےتعاتقا تکوئہتر بنان ےک یکو کی جا اود الیےے اقدامات
کی جائگیں :جن سے ان کے دی نکوفائتدہ ہف سای اس کےاندراغلائص پایا جا اور
ال کے اعمالیر یا کاری ے پاک ہوں۔الشتعایٰ ےا خریس اصولی بات فرماگی ے:
راع الٰخی زین سیل جن اوگکارہیں ان پرکوٹاعترائیں۔ل
امام را زکف مات ڈی ںکہمعرورین کے میرالن ججہاد سے جچیے رہ جا ےکا
جوا زا شرط کے سا ےکبدہایشداوراس کے رسول کے سا تدع وت رخواجیکادرویے
اختیارک یں۔(جہاد کے سیا میں )ا سکامطلب بی ےک دوش مس افوا ہیں بھیلانے
نک جصاض اجکام القرآن: ۱۸۷۹۸۳
سس معذورپرجھادفرض نھیںھے
سے ات را زک یہ فتنوضسادن پٹ رکائیں :میاہد بین کے ساتق خی رخوا یکا متا ملک میں ء ان
کے ایا مو رودرست کی ہمہ ری ن کی بک ان کے ال وعیا لکی نروعاف تک خر :7
پچچایں ۔ بی سمارکی چ زبس جہادں اعاجت کےعم می ںآ کی ہیں۔ لح
الام نے اد کے جوالی منقاصد نین کیے ہیں ا نکیل کے لیے وداپنے
بات والوں سے ختجدوجہداورجان دا لگ یق بای یا مطال تا ےا یچس فردیا
گردہ پر چھاوڈرن ہوجائے ال سے ا کا گا مان اد تیلے ہا ےکرنا اس کےز دک
یمان کے منائی اورنفا کی علاصت ہے۔ بد یاست سے فداریی کےبھی ہصق ہے۔
اس کے سا تھا ے انان ایی می زورف ناو زی گور وں اھ ھی ریا رعایت 3
ہے اکس ےی پا لک استطاعت سے زیادہ و ویش ڈالا ے۔ چہاوکی اور لی مکو
کین کے لا ال پہلوے؟ ھی داقفیت ضمروریی ے۔
لک رازگیءانخیی راکیب : جلد ۸ء ج۶ا لے ۱۲
۱
ا لے ذکوت امام رروری دے
چہارے چپ اسلام ىّٰ وکوت ضمرورگی کے مت اک س وم سے چہادکیا جائے
سے علوم ہوک اسلا مکیا ہے؟ دہکیا چاہتا ہے؟ ا کی جنگ یا با کیاجزیاد ے؟ اوروہ
مکیویں جن ککرد ہا ہے؟ اس کے بی راسملائی د یاصت کے ےکی کلک کے خلا یوار
اٹھانےکاجوایں ہے۔ا کی دیل الل تا یکا یقا ٹون ےک یھی ناخ مان اورخلطکار
قوم پراا سکاخذراب اس وت نا زل ہوا ہے جب ال ہکا رسول اس پردحل نقنی دی رر
و 7 اکردتا سے اورد تن ک٤ ایر دا 7 ہونے کے بحعداے روکرو ےد
الدتعال یکا یقا و نٹ رن می رم شتعررموا ٰ پھ ان ہواے۔ایک و ارغادے:
وََا کا معلبِفی حفی بتک رش وا ۸۸( بعذ ابی دتتے جبک کک ول
(الاء۱ء:۵ا) نبییھیں۔
ایک اودم وق پفرا ا:
وِمَا اَفْلَکُنا من قَزیَ الا لھا ہر ےکی قک ہلا کی سکیاگراں وقت جب
مُنْیِرزؤْنَہ ریغ وَهَا گنا سا کے پاس ڈرانے وا لاححت کے لیے
ُلہنین(۱ء:۰۹۰۲۰۸٣) یجے۔اورہھم ظا لیس ہیں۔
سور اس مس ارشادے:
ودنا کا رك مك الزی حٹی ترارب تو ںکوبلاکنی سکرتاج بک کک۔انک
عق ے أڑھَا رشولا بلوا عَلخ مکزیشضق مم سول :یچ جوآئیں مارآ
۳" جھادسے پھلے دعوتِ اسلام ضروریھے
ایجتا : وَمما گنا مفلیی الْھڑی الا پڑکرسناے ہم بستوںکوبلاکہی ںکیاکرےگمر
َاَشْلَا عو ن( ۴۵۹:۳۰ وت ج بکدان کلک ا ہوں-
رسول ال سی مکوروم دفایس یا جن مالک بھی جن کک رکی پڑیہ سے
آپ نے ایس اسسلا مکی با قاعدہ ذگوت دکیءاس کے لیے تطومط کیہ بچھران سے جنک
ہوئی حخرتک داش ہکن عیائل" گیا روایت ے:
ما قائل زشولع اللہ صلی اللۂ علیہ ول اللہ این ن ےکی قوم سے جن کی کی
وَسَلُمَ قَوْمًا حَق يَدْعُوَمُم ج بک ککہاے وت ندگی-
ایک دوس ری ردایت کے الفاظ ڈیں:
ما قائن یشون اللہ صپلی اللہ غلہ ول ارات ن ےس قوم سےبھی بنککیں
وَعلع فڑتا قع إلا تَحائگ کیگراسی وت ج بک۔ئیں ذگوت دگی-
فروہ بن مسیک الرادی" با نکمرتے ہی ںکہ ٹیس نے رسول اریم سے
عف کی بھی ری قوم کے ولک اسلا مکی طرف شی ل قد کر میں ایس ساتحھ نےکرکیاان
لوگوں سے جواسلام سے روگرداٹ یکر یں جن کک۷روں؟ آ پ نے فرما یا ہا اجب مل
والیں ہونے لگات وآ پ نے تل بکمیااورفرمایا:
کا قارِلُم حقی تذخٰوَہم الی افلضلاجمٹے ان سے جنگ نکروج بک ک کت آئیں اسلا مکی
زوتوو-
نض روایات سے معلوم بہوتا ےکہ جنک ےس پپلے الا مکی وکوت ویتا
مد اص :ا / ۴۸۳١۔ داری :کاب الیر ء باب لی الدگۃ ا ی الاسلا مل القتال- بعد یٹ
طرائی ا بویلی اور مت درک حاکم شی لبج یآ کی ہے نل الاوطار:ے / ۲٢٢
منداص :| / ۹۰ ۳ور یٹ ۂ م۲۱۰۷
رواہ ام والودادالتر یی وصتہ۔ نیل الاوطار:ے/ ۲۷۰۴ء اس موضوع سےتحلق روایات کے
لیےملاحظہہو۔ زی : نصب الرا ینار اعاد یٹ الہدای الہداے: ٣ /۵۸۷۱
خ
٭) ہپ
جھادسےپھلے دعوتِاسلا مضروریھے ٥۳
ضرور یکڑیں ہے ححضرت عبدائشد می ن گر ان فرماتے ہیں >2 الد صأپایننم نے
ب/صطلن پرا اتک میا سا نکو پیلے سےا لکی اطلا نی ںی
ا اود وف رماتے ہیں:
وّفي ھا الحَدیث جوا 2 َلَی ج نکغفارتک اسلا مکی دعو تک گی ہے ان پہ
الکفار الذينَ بَلعَنْهُم الدعوٰۃَ من - اف اطلارع کے بح دی تم و کاے۔
نذا ر بالْإغارَة ئ
کا مطلب بر ےک ین صظ نیکواسلا مکی دفکوت دیی جا پاش اس
ےوائثف ےے۔
نوصطلق کے بارے میں روایات سےمعلوم ہوتا ےک ودمسلرانوں کے
خلاف جنگ تار یکررے تھے رسول الہ ات کو سکاللم ہوات ھپ نے ا اتک
ان یتم لکردیا۔ با قدامر یاست ےتحفظا کے للیےیتھا۔
ما دو یف ر نکی ہیی یں مسا ےکن کت ون
ایک میک نگ سے پیا نذاہرعال یش ضرددی ہے بیامام مالک دی رکا
سک ےاکان کادازے۔
وؤاضصلک وت کے لیے انا کی مطلق ضرور تال ہے۔ بپ
پل ےھ یکم زوربکمہ ایل چس
جر ملا ڑے کن وم سے جنگ ہو اکرا سےاسلا مکی وقر تا دی
54 ےلات اوت دنا لانم ہے۔اگمراا ںکک و تک 2 ےآوواجب یں گ
الب پندیددہے۔ بی ملک ے۔ یتخرت :ا ون بھرکی ری ملیث جن سمں
امام شاٹقیء اف رء انا لیڑراورتپورکی راۓے ے۔اعادیٹ یت ےا کا٣ مہو
2 ہخاری :تا باصن باب ن من کن الحرب رقیقا سلم :تاب الجہادہ باب جوازالاغار عفرا
کہ نووی پشر حسم ز۷ہ زم ۲ا ہس٣۳
لات جھادسے پھلے دعوتِاسلام ضروریھے
ےنات میں ہو اصطلح سے تعلق روابی بھی ہے۔(ییی وہ پپیے اسلام ے واتف
جے )نل
علامشوکاث ن بھی فتتہا کے مسا ل کک ات ابی فصمیل ٹن کی ےاورآ خی
صل کورا 7 و ار
علا مان ہا کے نیالات سے بث کٗرتے ہوت لیت ہی ںکہ جہادکی
شرط بالا اق بی ےکش توم سے جہادہو پیل اسے اسلا مکی وت دک جائے۔ ا کی
ول الد تعالیٰ کا ول وَما گنا لبڈ حقی تحت رش ول ے۔ البتراں ٹں
اختلاف ےکک قوم سےایک سےزائدبار جنگ کیا ہرم رتبا سے اسلا مک دگوت دی
جاے گی ۱ ہیں؟ پت حرت نے ہرمرت ضکو تکو واج بر اردیإ ےاواینف نے اس
باتک تحبتراددیا ےلم ہربارشوت یکا جائۓ ینف نےکہا ےک ید اجب سے
ار گے
ا کا مطاب یہ ےکا ام ری تو ہا ک خر جب تریب انفاقی ےجیک
سے پل اسلا مکی وت لاب دی جا ۓگی ۔البتدال یش اختلاف ےکچ سقو مکک
الا مکا پغام ایک عبت کا ہے ال ے ج بگگ جنگ وہ ہرم رتا کے ساۓے
الا مکا یک :اض وی ے ١ ائیں؟
فقہاءااف کے ہاں اں موضوع پر خاص یتفصیل ے بح ٹلتقی ہے۔ ایام
کاساث کے ہیں:
نگ می ؤین پر اکرنے سے پیل ید یکنا ہوگاکراسلا مکا پیام ا کک
لہ وو :شرں سک ءجلد ٦2ء ٣ار ۳٣
گے شوکا یل الاوطار:ےء ۲٢٢
لہ ابن رشدہ بدا یۃ اد وڈرا ا مقتصد :سر ۳۳م
جھادسے پھلےدعوتِ اسلام ضروریھے ۵۵
پا سے پانییں؟اک یٹس با ےو پپیلے دہ باپپانا ہوگا۔اسلا مکی فکوت سے پیل جک
از گی
علاماءکن اما کے ہیں اک۲س وم سے جنگ ہوا سےمعلوم ہونا چابےک مہ
جنگ لوٹ مار یا ا نکواور ان کے پال چو ںکوقلام 2 9× سب ہے
( لہ اعلا عبت اید کے لیے ہے) ال کا ذ رجہ ذکوت کی ہے۔ ا 5ے سےا
الام ان کے لیے قائل قبول ہوجاۓ اور جن کک نوبت ہی ےئن اشک
دنق کاو کرد یناضروری ےت
ایک مستلہ بی تھا کے سساتے د ہا ےک ہاگ ری اقو مکی طرف سے اسلائی
ریاست پراچانک کان بیشہؤق وکیا صورت می بی اسلا مکی وت دینے کے بعد
تی ان م خلا ف ےتیک ررداگی دیتھ زار ےکی ال کے لغ یھی ا سیکا جوا ے؟
کا0س وت و کا ارت کی ان
ہے۔ چنا مچےائن ہہا ماد پرکی بت ىی کےذ بل می سککت ہیں:
اگ یتوم سےا بات کا اندلیشہ+ وک دگوت دی اودا ںکا یی تن ان
جووش تصرف ہہوگاء اس میل دہ تیاری ار کےر یاصت پرملکرد ےکآ تو فگوت دبے خر
جھیااس کےخلا فکارردائی ہق ے_ -
علامہابن عابد بی ن بھی اختقصار کے مات می با گیا ہے کی غیراسلائی
راس ت کا مماصرہ ہو وملرے پے سے اسلا مکی دگوت دی چا ہے ۔اگرا کک دوت
یی ھی تو ایا اکرنامندوب اور ند یدہ ہوگااوراگر دکوت کا ںگی جا اجب ہوگاء
شر ےک ہ١س ےکوئی ضررنہ یچ( مطلب یک ووئی مل میں ریاس تکوضرر 6ی ےکا
لا کاسائیءبدا لص ے۸۸٣۱
لہ ان اٰہمام :من القد یر ۲۹۵م
گے عالہسالنق
امت جھادسے پھلے دعوتِ اسلامضروریھے
خنطرہ ہوتو خی زکوت 920ھمي) کی ماق ہے )اس کے بحدعلا مد این جا مکی
ا
جنگ سے پیل وو تکی دوضصو رتس ہ وق ہیں :ایک کش تو مکودکوت دی
جا ؛ ایک خاصس وقت کک ا لکاردل دمیکھاجاۓ ا لکاعفی روشل ساس ےآ نے پھ
27 بج جاے۔ دوس کی صورت بہکمردوفٰوں ططر فک فو یل ایک دوسرے کے
الا لکھٹیی ہہوں اوداسی عال شس اسلائی فو کی طرف ےر لق مال فک اسلا مکی
فشگوت دئی جا ۔ بر ناک تر بن عالات ٹیل اسلا مکی دگوت ہوگی ۔ دوٰوں بی صورتیں
موق اختارکی لق ہیں او ال بااختیاج یکائیں-
نو مو ںکو جنگ سے پیل شوت دئیگئء ان کےسا نین صو رج ں ری
گنی آ1 یرکدہاسلا مق لکرشیش۔ان کے موق اور ےدار یال وی ہوں کی
دبصرےسلمانو ںکی ہیں۔ان می سکوئی فذرقی نہ ہوگا۔ تال عرب سے بی کہا جا ا تھا
کردا اج تک کے مد بین جا ہیں ۔ا نکا شا ہا جمبین یل ہوگا۔ ہاج بین یی رح
ان سے معاب کیا جات ۓےگا یا ناگروواپنے علا تے ای ٹل دنا تو ایس اا نکی
کت تن ہو ےکی اود ما نیت یش ا نکا حصنہہہوگا۔ دوس بی صورت بک ہاگ راسلام
قول نکر یتو اسلائی اق ارلی مکرمش او ربز باداکم میں .تس رب صورت کہاگ رووان
دوطٹوں پاتو ںکوررکرد تۓے ماع لک لہ
3 ٰك اورسحا ںک ینف دوسریی"کتابو ںکی ردایت ہے۔ سلیمان مجن
بر یرہ اۓ وال وف ت ال ا ا ہیں کہ رسول الل ہی کو گر
بت تو مر کک تق یکی اورمسلمائوں کے سا جج تج رخوابی او رھاائی کا رو اغتیار
رن کت اکیدفرماتے ء جنگ میس انیس اخلاتی عدودکا پابندر نے اعم دنت ء اس
ہل ابکؾ عاب بن +رد اتا ریگی ار :۴ے ۲۰۸۰۳۲۰
جھادسے پھلے دعوتِ اسلام ضروریھے
کے بعدرارشادہوتا:
وَإذّا لیت عَدْوَكَ مِنَ الْشَرِكن
فاذغۂغ إِلی قلاثِ جال “و جِلالِ-
فَأَْنِنٌ مَا اَجَابٔوكَ فَاقْبَل مِعْم, وَكُفٌ
عَثہم. ثُمٌ اذہُم پل اِسلام. فِنْ
نے فَاقْيَل مِلہُم. وَكُفٗ عَہُم.
عہُمْ إِل للتْحَؤُلِ مِن دَارِمم إِلی
دار الْمَاجِرِينَ. وَأَخْبزَمُم أَتيُم إِنْ
َعَلوا ذَلِكَ فَلَہْم مَا لِلْمہَاجرین.
َعَلَِم ا عَلی اَاجِرِينَء فَإِنْ أُبؤا
أنْ یَتَحَولوا باہا. فَأَخْبِزمُم أَيُمْ
یوون کاغرابِ الْسْلِمِینَ. بَجْري
عَلَهُم حُکُم الله الَدِي بَجْري عَلی
اللُوْمِيینَ, وَلّا يَکُون لَہُمْ نی الْعَبيمَة
والْقیءِ كُئة إِلا ان
الْلِبینَ. قإن هُم آبؤا فَسَليم
الْجِزَة فَإِنْ هُم أَجَابُوكَ فَاقْبَل
مہم وَكُف عَلہُم. فَإِنْ هُم آبؤا
ثُمٌ اذ
یُجَامِڈُوا مَع
ے۵
جب تہارا سامنا مشرک ڈھنوں سے ہوتو پکڑیں تین
پاتو ںکی وت دو۔ان یل ےجس با تکوشھی وہاپے
لیے پیندرک میم ا تو لکرلواور جنگ ے پازآ جا
( پیل )اس اسلا مکی دگدت دد۔ اگمر وہ اے اختیار
ریس توم ا ےےل مکراو اوران بے ہل ےباز
رو پگ راس با تکی فقوت دوک وہ اپنے علاتۓے سے
,0:0 ا ا
2 تک جائیلں و ان کے وج ی تقوقی یں کا
ہاج ین کے ہیں اور وی ذمہ دار یاں بہو ںگا جھ
ماج ی نکی ہیں۔ اگ ردوججثرت کے لے مارتہہوں
تو ای بتا کا نکی حیشیت اع راب سی نکی وی
جن پر اللد کے امام جارکی ہوں گے ج تام
مسلمانوں پر جاریی ہو ہیں لی نخخیمت دورگی
یش ا نکاکوئی حصہ نہ ہوگاء الا ےک وہمسلرافوں کے
ساتھھ جہاد یش یک ہوں۔ اگروو ال سے انار
کرد ںو ان سے تجز بیکا مطالبرکر و ۔ گر ود اس کے
نیے یا ہو جا می تو ا ےقو لکرلو اوران سے جنگ
9 ۶ وو لو مادہنہ
نہوںتو ا ش تا ٹی سے نصرت طل بکرواور ان _ے
جلگ کرو
رت اعم رک نے پیل تھا۔ جن یکاتلق ال لکتا ٹب انی رب مش کین
60 07 ۱9ر ا کا
زا لکتاب سےبھی لیا جاسکتا سے اورسشرک اور بت پرست اقوام گی امام
ما صسلم تاب الجہادوالسیر ؛ باب تام رالامام الام ای الو ث اح ابوداد تاب الجہادہ باب لی
کا رک و 6ق با ا لس ارقال۔
۸ جھادسے پھلے دعوتِ اسلام ضروری ھے
اوزا۴یک یہت ےا یا نکی رم یبای راے ے۔وہ کت ہی نکی اے
مر تب سے کی اد 7 ہکتی ے۔ اما شاف نک اض رت
اع يکتاب اور یں سےلمیاجاسکتا ہے چا ےا نکاتتلتعرب سے ہو یائم ے۔اام
اض ات ہیں کش کن رب ٹہ اس کیا ا ےگا :ان کےعااد دک سز
1 9 ا
ال کش یل وکویتء جز ہاور چہادگی جو جب یمان ہوئی ےئن پرعلا کا
انفخائ ے۔ٹ
فقہ ماگ یک یکتاب' شر اص فی سکہاکیا کہ جہاد سے پیے اسلائی فو
فر من لفکواسلامکی دو تد ےکی ء چا سےا سے ول اہ سی کا پنام| نال
یق ہا :اکپ راۓے یہ ےکہاسلا مکی وت ای صورت میں دی جاۓے 1 مر
رسول الند مکی ا مل بل مکی دکوت| ا تک نیوگی ہو۔ذکوت 29 لی نال ف خر
سے جن کرو ںحکرد ےو اسلائ یور جوا یکا 272ئ0
وواسلا قبو لک ےو اتی یمان شیں ر ےگا فکو ت کا اکا کرد ے19 ان عاارنہ
کا مطالہہہہوگا۔ال کے لیے دہ تیارہوجانےتو جن کیل ہوگی۔ جز کے ل بھی دہ تیارنہ
1اک سرت شا ان ےش کی جا ےگ_ .
دوراؤ لک صورت حال کے یی ٹین ملا ن کہا ےکآ ن اسلام سےکوات
اہج زءالتاپیکشر ش۳۵
لہ اسلائی ر یاست مس ذی کی حیشیت اود جز یک تخل کے لے ملاحظہہوہراقم ک کاب غی رسلموں
ےلعاقات اوران کےنخوثی بش زمیوں ک تقو قب ۲۵۰۲۴۲۱۵
ا الددد یرہ الشرح اص لی اقرب السا لک ح حاشیہ ااصادگی: ۲م دے ٢ نٹ یتفصیلات کے لیے
لا جنظہہوء این ق را ضي:٣ ۳ء ۲۹ ٣م
جھادسے پھلےدعوتِاسلام ضروری مے ۹
وات یں ے۔ وومشرقی سے مغر ب کک پچ یلا ہوا ہے۔ ا کا پیغام اود اس کے
منقاصد جنگ معلوم ومحروف ہیں۔ ری ذقوت دنن ای کےپ مم مفی ہے۔امام ارب نمی
ای کے قائل ہیں ۔فرماتے ہی ںکہاسلا مکی وت سب بی لوگوںک ک تع ھی اورعام
ہی ہے مر ےعم میں ا بکوکی اس رےاظام سے ناواقف ہو اس لیے جنگ
سے لے وت دبناابتقداءِ اسلام شی ستوضرورکی تھا اب کیل ہا۔
اس کے ساتھ وہ بھی کے ہی ںک اکم میہ ما نلیا جا ۓےکعدوم اود فار ںکا
ہعوں ے1 ا اوک ہیں جن کک دو ت می ںی او دکوت د ناضروری ہہوگاء
اں 02 0.7 7 ۔اگ ری قو وو تچ 7 او ازس فو وکوت وبنا
بہرعال سب اور ند یردے۔ لے
ساتو سی صدکی کے مرو فک فقیہ علامہ اکن اہمائم سےنزدیک و اسلا مکا
تارف دن پان پر ہےمنان بی لکہا اس اکا کی وت سار دنا سک گی
ہے۔دنیایش ای یعما تک اورافرادجھی ہیں ضن ہیں ا سکاشحوریکھیں ہے۔اس لیے ىہ
جکھنا چا ےمہان اتک ا انا ۶ 0 2-0
فکیتد یناداجب نہ وگاء بللہ ا تباب کے نم میں ہوا ٹہ
ام ا کے بان نے با تت از ضتے یداد ادا زج ل٣ تر کے
یں : ا لایر یاصست سے ری بک ر مامت [|1۹ھ و
لیے الام گیل کے :ریب کےلوگ اس سے ادا ٹیس ہیں مان جولوک دور
گر یاستوں میں ہیں ء(ا نکا اسلام سے واقف ہونا ضرورییئیں ہے )اس لیے انکھیں
وت دی بوگی۔ بر اسلام اور چہاد کے پارے میں شلوک وشیا ت کٹ مکھرن کا ڑا
ا ا نقداء!خ: ٣۹/۱۳
ےہ این الہمامء القد :۴۲۹/۵
8 جھادسے پھلے دعوتِاسلام ضروری ھے
وروی لا
ان آفصیلات سے یہ ات تطعیت کے سا تح سان لی ےکا سلائی ر یاصت
کے ےی ضرودبی ےک ری خی راسلائی ر یاست سے جنگ سے پیل اسے اسلا مکی ذکوت
دے۔اسس کےلپقی رس کےخلاف نوک اقدامج یں ہے۔ ہاں اگ راسلا ید یاست پر
کوئی خی اسلا گار یاست تل آ ور ہہ ماس ک تل کا شدبراند یش ہولو ا سے اپنے وفا کا
گن ضرورحما اکلہوگا۔
ربراپانکملک تکورسول الد کے مرکا تی بکی نوعیت
ابآ ےہ اس سوال پرنورکیا جا ےک کی خی راسلائی مل ککو وت اسلا مکا
مطل بگیاے؟ یل ہے ےک لوم حرف رمعلو مکی جا ۓگ ا کہا سلام یا
تنسش ےکن تو کوا ارک ےکی ان ود نشین سے ا انی کر ےک اتی
ا 00 یل بیدی جاتی ےک روگ ل٢ی الل علیہ ےلم انت
براہالنعما لن ککو جو مکا تیب ارسال فرماۓ ان سے مکی حابت تا ہے۔ یوہاں الن
ات ےون ہے نے یی سج زف ات پہلکی طر فتوچرو(انا میں ظر
ہے۔دد یکول انڈ یسل ال علیپلم نس وفت بی مکا تیب ارسال فرماے ء یااسلائی
ون کو ے پرا ,0 اسنگل مو ہی 92-0 کےسربراہ
کھت پ نے ای یقت میں لوط روانفرموائے۔ اسلائیار یاصت کے وجودمیں
آ نے کے بحدراسلا سیر تنعار کیل تھاء بہا کاو تارف ہو چک تھا۔ بہتک یتو یں
اورقیائل رب اسلا کو این کے تے۔ ای فیادپران ےت ات ور
جوم پفصیل سےاسلام سے وا فیس میس دوآسمانی سےا سے بک یں
کے این رم الاری ۲۰۹۶۹۰ گے رسول ال س ڈیہ کے وی مکاحیب پررام نے اوران یرت
(ضص۲۸۱۔۳۴۰۸) میس اس پہلو ے ےی قد نفصیل ے اظمارنیا لکیاے۔
جھادسے پھلے دعوتِ اسلام ضروریھے ا٦
تھی یاصتکاو ود لات خو دای س لات کےتفار کا بہت پڑازرجہ
ہوا ے۔اں رک لیےطوبیل وو یش لکی ضرورت نیس ہوئی ام یا اورمض رپ یکو ںا
وجرراورا کا ا م لوت خووظا ہرکرتا ہے ےوہ جھبور یت اور ماىردا نی کے : ہدار یں
اودا یکل ہیاد پرا کا إرانظام قائم سے ۔ککیونزم اورایں 0
عماکک اوران کے زظا لوت یا کی حاستا ہے۔ چ وی یم ماک
ےکی پاکیوضن- ما کن ککیونز می وحوت رتے یں لوان کے تی پوری ر باصست
ہولی ہے۔ائئیں ابق بات مچھانے کے لیے اس طر ولا لکی ضرورت می جن لآ لی
ش اط کسی ایےنظریہ کے سلملہ میں درکار ہوٹی و کے تی ےکوی اتاد یا
ریاہتئہو-
خورطلب ام ریہ ےکا وقت دنیائٹش ساٹھ ))٦٦( کے قر یب سل ما نک
ہیں ۔کیاان شس ےکی ای ک کی شیقی فی می اسلائیر یا تکہاحجاسکا ہے؟کیادہاں
الام اط رر ارگ و سارک ےکا سے دج کر سام کے رتتنگ رائۓ قانمکی
ما[ گے؟ کان می ےکی ملک ورریکب کسی غی رس ملک پراسلا مکی
زا اوز ایت انگل نۓے شش یی ے؟وا تعربید ےک تہادکا ےکن ماکان
چہاد کے لے ور الام ےو ری وٹ دعائی ائںوسرئ سے
یا سلاٹی ریاست میں جچہاوکییں سے
چہادکانمکق فرداود ریاست ددفوں سے ہے۔ ایک ملما نکی خی راسلائی
راس تکا شہکی ہو اس کے ا اما لک !یں ہار ود اسلائی ر یاس تکا باشندہ ےو اں
کے اکم جداڈیں۔ ای طط رح اسلا ید بیاس تکا محاعلہ پ فی راسسلائی در بیاست کے ساتھ
یکسا کی ہوگاء رہ ان سےتعاقا تک نوکیت پ رح وگ ان کے اکا بھی ایک
دو م۔ 20 0
ولا نکی خی اسلائی ر یاس تکا شہرکی ےاودوہاں اسے وین کے اظہارو
اعلاع اورکوت بے کے موا تح حا امس ہیں تو ا سکی ذمہدارکی ےک الد کےدبین پرقا مَ
رےاورذکوت ون اف انا مد تاررہے۔اس راو یس جومشکلات بی ل1 یں ای لفبرو
بات 7/9 7 ۶۹۰۰ھ 0 2 بی موجودن ہو ںو
چہاں موا ہوں دہا ں بجر تکرجاے کسی خی راسلائی مک شس رت ہو ئے چم اکوئی
ہوا زم ےا
انتا لی کےرسواوںکاضویرٹل
اتال ی کے رسول جن توموں میں مبحوث ہو ۓ ووکفر ونشرک میں مت ان
اہ ججریتاس وت ازم ق راد پائیٰہے؟ کب ا کا جوازر ہنا ہے؟ اورموجودہ ین الاقوائی عالات ٹل
نجثرت کےکمیاامکا نات ہیں؟ ا سکیا دضاحت ال سے پیل ہوچی ہے۔
غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں ھے سو
اراتا کی ہدای تک ال لگھیں۔۔دداس سے بے خیاز ہوک را تی خودساخحتدراہوں پر
یل ری یں باپ دادا سر ے اورت رگ ردایات ان کے ری ے کا ورج رکھت یھ
ان سے وہنا یل چا وریاگیں۔ ا نو موں می ایل کے رسولوں نے اس کے وین پرشس
رگم لکیااوداسں کے اکا مکی شر پاپند کا ال سے بدراہمائ یلق ہ ےکرک
خی اسلائی ما حول یا خی راسلائی ملک می ایک صاحب ایما نکارد کیا 4وناچا ہے؟اوراے
کی نگ یکزارنی چا ے؟
ق رن یشیش ال کےسولو ںکی جارںن سس یک اخضارے اود ینیل
سے بیان ہوگی ہے بیتار انی کہا کے رسولوں نے ا ال کےو نکی دگوت دی
تق کہ تیتھوڑ ےلوگ الن پرا یمان لا ادرا نکاساتددیا۔ بر رات ارطپہنے اودا کی
اتا میں اکنشیت نے عخالقت رو حکردیی وفت کے ساتھ بیخالشت مد بد سے شد بدز
ہوی :1 ئی۔ یں ہر طر ں٘ کی اذاججیں د یکم اوران نم تم کے پہاڑتوڑے گے۔
ائزیں سی دی کی روہ دصن نٹ یٹک افیارک رٹیل :ورشتجں لک بدرکردیاجاۓے گت
حضرتشحیب ےآہاگیا:
2 کت عیب وَالی ائزغوا ہیں اور جولوکتہارے ساتھایمان لاے
سرت پچ بجوہ)
و و عو وو و مار ے مین میں لوٹ آ مب لن ےکہا:
سس میسن اوسویے سو
2-28 بھم(ا ےل لک تا پر نالپنددیکررے ہوں-
ضرتاوماعل السا مک ڈوتیآوحراوراخلاّٰ لیک جو روش سا ےآیاوەیھا:
قتا ان جات قعۃ ال آن قَالڑا ا سک تو کا جواب مس بی تھاکہراھوں نےکھا:
آخر ڑا ال لوط ششن قززیگر اکر لوط کےگھروالو ںکواپق تی سے کال دو۔ ہے
أكاش يَکعؤَروْنَہ(فل٥٥) لی بہت پاک باز نے ہیں۔
۷ غیراسلامی ریاست میں جھادنھیں ھے
بیصسورتت حال ال کے دوسرےرسولوں کے ساتھوبھی شی ںآ گی۔ جناں چیک
وی اندا زم سکہاگیاے:
وقال از گقڑوا ڈیر ہ زاکوں نےکفرک راواختارکی نھوں نے نے
٦و ےچ یکو صر کروی ںی پر ۔رڑعولأوال سے کہا کہم لنق دبا ہیں ایی سے
لت“ فاؤتی الَيْہمْ رَبُهُم لَفْلِكُی ران کے رب نے الن پر وگی ناز لک کہم ضرور
اللہ (ابرائیم :۴۳) خظالو ںکو ہلا کک ریس گے
بیع اوقات ال کےرسولوں کل کےمنصمو ےٹےبھی تیازہ*ئے :یں ججرت
مھ یکر ی پٹئی رق ران یی تحخرت ابرا ڈیم علی السا مکی :رتا بطورخائص ذکرموجود
ہے۔(الصافات:8۹) * نتوموں نے الد کے رسولوں 1 ذکوتکو الک لھک رادیا اور یں
ہلا 7 کےدرپے ہو گے ان پرالٹکاعذا بآ یااوروەتا کرد ینم ۔اشد ےل
اوران کےس ایی اں سے تفوظا ر ہے ایک ہل انڈد کے رسولوں کی خخالفت اذا کے
اضجاممکاذکرچنلنظوں مل بیان ہواے:
وَلَقَل ازسَلما من قثْلِت شا ال ہرتےت سے پل کت ی صسول ا نکتوموں کے
قؤپخ فآ ہف باليإلٰت فَانحَكمنا پا یج دہان کے پا دلال سےساتھ بی
من الَلْنَ اَجْرمُؤا “وَكَانَ عَقّا عَلَیِکا (لین اھوں نے ا نک یکن یبکردی )تو ہم نے
تَضْرُ الو مِیزنَہ انلوگیں سے گر تے اننام لیا (اورائل ایمان
(الرم:غ۴) کامددگی )ہم پوتقی تھاکمائل ایما نک مدرکریں۔
9 712/۷ رسولی خدااور اس کے مانۓ والو ںکو ای توم کے
درمیانع رت بے تو چہادکا ام دیاگیااورضہال کا وی شبوت ہی ےچ راقھوں نے
چہادکیا۔اسل کے بین میں میں ححخرت موی کی بیرت سے نائ سطود پردعفمالی حاصسل
ہی جب
غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں ھے ٢۵
مخت می یی ہی سور دنماٹی
رت موی کی کو تیآ حیدکیفرکون نے خا لکیا ایا ےاقزارے ٹل
کر ےک یکویشش ہے۔ چناں جرنخرت موی کے ہزات دجن کے بعد اس نے اپنے
در ہار یں اوراعیان سلطنت سے اپنے انل خحدثکااظہارکیا:
قال لِلَبَلًا عَوْلَة ان ھا لچژ فگون نے ان سرداروں سے جو اس کے اطراف
عَلِیْۂُہ ای آن پفر چک یش تھے کہ اکہ بے ققک مر خوب جال والا جادگر
آزضُگُھ 7 ماد از وقہ ہے۔بیاپنے جادوکےزور تی اپقی زین سے
(مشمرا,ۂ: )۳۵۳۰۳۴ ن“ثال دبناچابتاے۔بتائتھہاریکیاراۓ ے؟
فرون کے ود بار ہیں اورا ںک وم کے سرداروں نے ا ںکی :تاس کی او رہ اک موی
اورا نک توم1 پ کےاورآپ کے ممبودوں کےخلاف ہیں اورک شی فساد بر پاکرنا جات
ہیں۔ یں ا ںکا موقح دینا اوران سےصعرفیفط رکرنانڑی نا دای ہوگی ۔ ا نکر مندگی کے
جواب میں فرکون ن کہا ہگھجرانے اود پریان ون ےکی با ناس :ما نکیل ب یکا
خماسیگردبس کے اورایی لس راٹھانے ندیں گے ہمارے لیے پیش ہیں سے:
قال سَمُقَٹِل أَبمَائِھُھ َنَسْتي فرگوین ن کہ اک چم ان کےپیوں کا لکرس نے
ِمَاءهُم'وَإِتَاقَوْقَهُمْ فھزؤََہ اورا نکی عورتو ںکوزندہورگحیں گے .میں ان پر
(/اف:ك٢) اقتزاراورققتحائل ے-۔
۱ اس سے ٹج ف رکون یی کردا ھا لوں' معلوم ہوتا ےچ ےراب اے مر 7
زوراورقؤت سے جاریی رک کا ٹھمایا۔
سا الع شر گی شروںع میس مہ کہا ۳ اگ نحخرت موی او رنظضرت پاروكٔ
جادوگ ہیں اورايے چادو سے زورےآ پکوائل مصرے کال باہرک اور پگادوا یلت
اور پٹریرەطر و ںکوتم اکنا جاتے ہیں (۔:۷۳) لین جلد تی ان جادوگروں پر ہے
تقیقتگو لگ یک رجف ت موی سا جرئ یکرت بس دکھا رےہ بللہ انتا کی طرف
٦ غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں ھے
سے جخزات ٹنیس رما رے ہیں۔ وہ آپ پیگل ۷ ص پرفرکو نٹٹل
سآ گیااورائڑال ات پچ رکا فکرمش کر نے اورسوٹ پر چچڑھا ےکی وی دی ران ان
کے ہا ات می سا7 ۵007 کی(ط:۹۵- ۱ے )کہاجا تا ےکس ولی دی ے کاردا )ای دے
رو ہوا_
فرون نے حضرت موی کی کو تکوتب گی دین اورفسادنی الات لک یکوش نل قرار
دےرائیں ا رن کاارادوکیااورکیا:
ذزوق فی مُوسی وَلبغ رک ای بج پھوڑد مو کنل کر ڈالوں۔ وہ اپ ر بپکو
اأتحاگ ان ؤُمزِل دنگ آ ان هی (ددےلے)پارے۔ مھ ڈرےککیں وقہارا
الازض الْقَمَاؤهہ (لی سس دزن نہ بل دے از شن مل فسادنہبرپاکرورے۔
21 کن نف رکون اوراس کے دد ہار یو ںکواس ناروااقدام ے باز رک
یش کی اوراس کےاضجام برےآ گادکیا۔(اٴن:۲۸)
اںطرب رت وی یکیو تکوفرکون نے اپنے د ناد نہب ابق ردایات
اوراپے اقترار کے ای کٹ تو رکیا۔ یی بات اپ یتو مک مچھائی توم ن بھی اس
سے انا قکیا اود ال کا ساتھ دیا۔ منواسا ا پراں 1 22 وزیادل جاریاری۔-
خرت موی نے الل تی کےگم ےفرکون کے سا ئن مطالہرکھا ا ام۱ یل پرچھ
راب ڈھار پاے ا ےت مککرےاورنواس امن لکول ےکا لکر نے جان ےکا اجازت
رے۔ححفرت وی کو ال تال ی نے ج ہدایت دگ ال ںکاذکران الفاظ می لآ ا ے:
71
قأيه عو لا رش وکا رك فَازلی اے سوک اود ہاردن !تم دوٹوں فرکون کے پا جا
مَکَتَاىئیق إِن رآ یل اوَلا تُعَلْبْلُمْ دی اوراہو دک تھہارے رب کے فرتادہ ہیں۔ ہمارے
جنْلٰك با شن رَيِك* وَالمُلم کی ساتقھہنوا اش لکو دواورا نکوخزاب شردد۔ ہم
َس ال الْھُلٰیہ ترے پا تر ے بک اطرف فان نے/1 ے
(ط:2٢) ہیں ملا ہے اپ ج بدا ی تک مرو یکرے۔
غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں مھے ے٦
فروین نے حعرت موی یکو ا سکی اجازت نددگی۔حخرت موا الٹرداعدکی
نلدگی ادراطاع تکی جوذشوت دےر سے تھے دوبڑی ایل انام گہیعبآان کمیاروٹن
فرخون ا ںقنکست زردے سکاء ال وج سےتودف رون ام کےٹنض تی کٹ ع اف ایی
رت موی پرایاانلار ہے تھے۔ ال نے انس بکتشدداو نم وزیادلی کانشانہ بنایا۔
حفرت ؤلانے ا طول دوش دائ ادخ شش کے ماحول میس بی اسر اتیل
کوارڈ اہی ٥ق استوارکرنے اورائس سے استتعاج تکی ہدا یت فرمائی تو مکا وصلہ
بڑھایااوركہ اک فرحو نکی عکومت اوراس کے افیقر ار سے ہراساں ہون ےک یکوکی ضرورت
نہیں یآ جع ےک لم ہویکتا سے تہہاری مظلو بھی ہمیٹننشس رہ ےکی۔ رید نگ
گزرما لیومپووسو
قال مُوْلی لِقَوْيهِ اسْکَحِیْنُوا اللہ مین اپ وم ےکم اکہرانڈر ےد اگواودیر
ور وی شر کرو بے نک زین الکی ے- وہ اپ بنرول
لا ھن جچبادج ٭ وَالْعافت مم سے ب چاتا ےا کاوارث بنادیتاے اور
ِلَنكَفلیَفه(۶۸۷كف:۲۸) (پر)اضام تتیوں کے لیے ہے۔
فرکون 11 تن ادرجودوتقندد پرآپ نے وم ےکی اک۔وەاللد پراخاداو روک کا
مظاہر: وا کا ین دیما نکا قاضاے:
وَقال مُوںی کی ان فُنْنھ اکن -سمک ان کہا: اے می روم کےلوگوا اکم الد پر
پأللہ فَعَلَيه توگوا اِن كُنْثُمم ایھانع لاۓ ہداس پنتوٹل او رھ روس رکھو گر
فُنْلنقہ(یاں:۸۳) تمرفاں پردارہو-
ان کے تج می قو مال یی رف مت جہوگی:
تقو عَل لن توگلک رکال كکَأا میں ھوں ن کہاک ہم نے الشدجی پر کیا
فِنْتةً لُلْقُوْمِ الشلبلیہ وَنّاً ہے۔اے ہمارے رب !میں الوم ےکم و
رَخَيك من الْقُوم لکیہ تم مکا نشاض رنہ بنااورا لمت ےکا فقوم سے
(اہإں: )۸۰۸۵ اتدے۔
۸ غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں ھے
نضرت موی او رتخرت پارؤ و 7 ہو اک متواسرا نی کے سے ند مکانات
خحصژ ںکرریں جن ٹیس دہ نماز باجماعح تکا اہتما مکریں اوردہ ہیی تو مکا ھرگز ہیں
(یس ے۸ )ان مکانا کی حیقیت مساجدی اگیا۔بیان کڈرازمفدل یم ڑی۔ی
سےآیو ںبکصرنے اوڑضنشرہونے سے بچایا اسکناتھا۔ با خرو دمحلا اج بک حقرت
موی الیک خائ منص و بے ک تحت اب یو کو نے رحصرے ےہ بقل زمر سے ہ٭ اک
کباجا تا ہے کے پا ص2 سےابناحصاال پر مارااورسندردوتصول مل
تیم ہوکیاحفرت موق ابق اقوم کے سا تح سندر ارک گئے۔فرعون اوراں اقم
ےآ پک نا ت بکیا۔دددرمیان ہی یس ت ےک سمندر کے ووتوں ٤ ٹل 7
ان۶۸ قی ہو گے _(ابقر7: +۵ اشرارے۷۰-۵)
تعفر ت موی ج بتک نر شش ر ہے ا و مکی اصلا دنز جیت کے لیے جو
اقراائعانع مین سھے۔ انیس الد تعالی کی عبات ءال کے اکا مکی اطاععت اور
ال کےو گن پننا تقر حن ےک یکو گ7 15 اورجچب مم ہواپ ریو کو ن گرم ےکی
گے لان مات فرخونع ول رسے ہونےفرکون سے جہہادکافیملینی سکیااوراس کے لیے
کسی شض کی فوی او ری تیار یکا و نی می ںی متا ا کیا دجہ ینگ کہ ایک
خی راسلائی ملک ٹیل اس کےموائح اورعالا یں تے اس لیے و+ اس کے مک بھی
نمیں تے۔
بعد کے ادوا رٹیل بنواسرا کین الد ےم سےہنگھی ںکہیں_ا نکاذکرق رن
یس ہے۔ گی ں نیک 1 زاقو کی حیثیت یڑ یک میں ۔
رسول ا لٹ دای کا ا سوہ سنہ
بجی صصورتحالی رسول الل سای کےسات شی لآ کی ۔ بعشت کے بعد پجلہ
یس یرہ( ۱۳ سال رہے۔ال مرت می لآ پکواورآپ کے اصحا بکذخت تر بن حالات
غیراسلامی ریاست میں جھادنھیں ھے 1۹
ھوھ84 پڑاطنزھ لی مق وت یل ٠ زہنی اذیت.قیروبند زدوکو 20 08و۸0
معاشرگی مقالطہ سب چک ہی لآ یا ہیقت الات ےآ سے ریرحت رس الف
سے دوبا رش نکی خرف ران ادص ال یی کل ٦٢ھ" ۱ 2
چم دردافر اداورپا لی سےعددکی ددخواس تک رک بڑ یی بس اوقات ب۔مدوعا ضل 0
اں ری مت لآ ہوا ا کےا اتیو ںا شا یٰ نے لن ستوارکرےے ہو 37
پمضبڑھی سے قائم رن ہکاروقوت ارک رنہ ای اخلاقی اختیارکرنےء بریک کے
سائجٹشسن سلوں 70 نے مفووورگزر ےکام لیے بر وشبات اور ا خنقام تکا
وت دن اورجلد بازکی ے اتا زکرے نایم وق نکی جائی رتی۔ا ویو
رت قراردیاگیا۔ ہا لص رف ایک ھالہی لکیاجار پاے:
فاضیز إِ وَغْلَ الله عَق ول رَدتَخلَنَكَ کی صبرکروہ بے ترک ال رکا وع ا ے اورو ولک
ال لائوؤوہ (۸ر٣:۷۰) جشیأیس رت ہیں مکز ہکان یاتیں۔
می۲ لت رو ےآ خ یٹک ای رد ےت یت ہوی ری سول اش سالیم
اورپ کےا تو ںکویکواراٹھاے اور چا 7 اجھئس د امیا رت کے بحدمد یع
شش جب ایک زاداسلای یاستہقائ وو ہادکی ا جازت ان الفاط مس دکئی:
اق لع يتاوَ باکغہ لوا ٭ دہ لوک جن سے جن کک جاددی ہے نہیں کی
وا اللةگل تَخْرمۂ ریہ نک اجازت د گنی اس لی ےک ان عم ہوا
(:۹) ہے اورالڈدا نکی مد پرقدرت رگتاے-
استکااس پراتفاقی ےک ججبادکی اشن اجازتجثرت کے بعد یھی حافطا
این رف رماتے ہیں:
أؤك ما شر الْجہاد بَخذ الْبجْم بریدہثرت وق کے بعد لی ہار چھاوٹروں
النَبَوتُةَ إل ا كِينَةِ ابَفَاقًا ہوا۔ال پر ب٤ااقّالٛے۔
ان تر البارگی:٦۸ ۱۲١
٭ ےا غیراسلامی ریاست میں جھاد نھیں ھے
غامد توق کابھال ہ-نےضں: لے و ارجایڈکاے
سب کرات اق اراود ہا قاعد سک رئیا ظا می ضرورت ہے۔ بید یاست بیکوعا 22
سے یی سللمان ای کی راسسلا ھی قد ار ےش ت زندکی اگمزاررہے تے۔ائیں سای
اتزارارتمعا 447 اگیا۔دو ری وہب ےکرک یلیر یاست کے اندرگواراٹھاث ےکا
لازی نت خانہتگی اورضادکیشکل می ظاہ رہوگا۔ ا سکی لپبیٹ یل صرف سای اورفی
قوت جی نیہ کشر یآ باد جآ ت ۓےگیء نات خوں ریز وی٠ بےگناواومحصوم
ار ادمارےچا اأ گے۔عامانسالی قرںق مال ہیں ے اوران عرودو وی پاندگانہ
ہوک ےگی؛ش نکی پامند یکا اسلام عالتی جنگ می سپھ عم دا ہے۔ بیفساد لی الال
ہے۔_ایں ےکوی اصلی مقدرعا اس یں سا۔
ا٤ا
پ7.
چم چ کے م وضو پردوا بر لصا شف
١ الجہادئی الاسلام
چہاد کے موضوع پراردو میں می فصل اور جائم ع تصنیف مولانا سید الوالٰ
مودودن کی لجہادٹی الاسلام سے۔ اس میں چہارکے متصد اس نے وا ین لا
ا طر ترک یکئی ےک اسلام کا پوداظامسیاستز یپ ٹہ گیا ہے۔ ا سض
ول سے انتا فکیاحاسکتا ےلان ای کے اوجودا ںی میٹ ے انکارکیں
کیا جا کتا۔ال کے ایک جاب میں بتایاگمیا ےکہ جنگ کے مقاصداود مابعد یک کے
رولوں ٹیل عرب جاہلیت کےفی مزب تپائل اوررم وایرا نجیھی مزب توموں 2
دیمیان جو رک فرقیننیں ہے۔ ال کے مقابلہمش اسلام نے قوائی نر جنگ می جھ
اصلاحا تکیں ا نکا یل سے تذکرہ ہے۔ ایک با بکاعنوان بے جنگ دجسرے
راہب ہیں۔ اس یل ہندوصتہ بببودیبتء اودرمت او رت کی تلیسا تکا رے
ہے۔اسی یس اسلام کے نویل ری وضاح ت بھی ہوگئی ہے میا ہب کے نقاہی مطال ہکا
ایک مدہنمونہ ہے ۔آ خرکی باب نک تیب جد ید کےعنواان سے ہے ہیس سے
جنگ میس مغرپی اقوا مکی خوش اور ےےاصول وا تا تکی ردکنی ٹس سائےا لی ے۔
یناب ے ۹۲ء ی ٹمپلی بارداراصتقین اض مگڑھ سے شائع وی ۱۹2۴ء
٢ےا غیر الاب ریا سنین چکدتھیںعے
میس مصن کی نظ شا بی کے بدا سکی دفسربی انشاععتہنل بیسآ کی یم ولا نا نے فرما اہ
ا الین بیس ک رص می ںچگی حالات ٹس بڑیاتبد بی 1 گئی سے ہم سب جات
یں 7 ھھ ی۶۶ ۶۶۹۶“ ۷ت“ ایلا؟ جم یات پیک
ابق رآ ن وعد بی فک یتفحلیما تک فقتہامکرام نے اپنے دور کے عالات ٹیل جونش کی
ہے نے یل نظ ر رکھکر فق کی عجدیی کناٹ الجہاد مرج بکرنا فقماء حص رکا کام
کہ رس وک
تاب رکز یککتیہاسلائی پاش رز :ٹی دی ۲۵ سے شال ہودجی ہے۔ ا کا
پلایڈ لن ۹۹۵ اءیس شائ ہوا بی مر ےی ا رہے۔
مصوانامودود گی نے ماد کے ضوں نمیم لن اورایپننٗ دوس رب یتصنیذات
میں بھی بس کی ہے ولا نا کے وط رک رک کے کے لے الن س بکوسا ے رکھنا ہہوگا۔
م<ۓ
٢-فا جہاد
چہارے ضوع کی کی مب ےج ے0 تاب علامہ ایسٹ القرضاوی
04 اسة مقار نةلأژحکامة و فلسفتەف ضوءالقرآن والسنةٗ ے۔ ہیا
مضشوع پرایک داءۃ العارف ے۔ اں یں فرع ؛حزیث اوزفہ اکسا ی 1 رك
یس جہاد کےتلف پہلووں پنفصیل کے ات اناہارضیا لک یاگیاے۔ جہاد کے شرائیاء
چہاداورق]الء جہادادرار اب +دفا گی اوراقدائی جہادمس و جنگ ءائل ذمہ کےتقو تی جز کا
عم ۔وارالسلام اوروا اھر ب یر یں کے اکام موجودہ حالا تاودگم ہادءانررون ملک
تال کاحم :یلما نک کے درمیان جنگ جہاؤمی پگ رکی اوردورح اض کےتقا تھے چہاد پر
مرب کے اعتزاضات جیے بہت سے وضو حوات زیر ٹآ گے ہیں ان ٹیل اسلائی
س7 0 7ے ری من 0ا
ا حاق کو مشوغ 7۲ اٹھائے ہیں لو بہت بیشئ وط رے
7 0 0/0 0
ہے لیکن می بات ٹٹے ےکر بھی مصنف اق قکی چہربات سے انفاقی ضرورینئیں
ہے۔ اس سے انختلا فکیگٹوالئش ہہرعال رہتی ہے۔ا تا بکانظر انی شددوایڈمیشن
مار *ا۰ ۱ء یش دوجلدوں می مکتبت وعب قاہرہ سے شا ہواہے۔ دوفوں جلروں کے
صفیا تک یتحداد ۷٣٦ا ے_
ےا
کنابیات
ات اک 702 بات کے پچ سوتوں کے نام اورآ بات سے
ززنے نین دوہ ےراشا کےا لی شع کون ران اان ای و
تین طاعح تکی خی لیس دئیکئی ہے۔ یہاں مضو کےلاظط سےا سک ینیل دی جاری
ےہ اکم راجحت می ںآ سالی ہو۔الابت عد بی ٹکیج نکابویں کے جوا لےکتب واہوا بکی
صراحت کہا ادن تا ان ا و 0م بھی ائی۔
رن یر : منز لکن الش
١۔ آ وی ہاب الد ین الی رور الیفر ادگء روں العا لی تفر القرآن املیم دا
الشالیءادارۃالطباعۃ لیر کے جس
۴۔ بین جز یرہ اپوتفرج بن جر پر الطبر ىی ء جامح البیان ف نف رالرآنء دارالعرفۃ بیروت٠
لبنان ۱۹2۸ء( ئع ترم)_
۳- اق مک اإوالقر اء تماد ال رن انناج و 7آن ام وارا رود جروت
لہنان ۱۹۹۹ء
۴۳ الوحیان ان دی شھ بن لوسف نگ ینوک الا :سی ال رناعی ءالع ال یبای لیر
۵ بفوی ۷ایگ این من سودالف راہ معالم القز یم فی ان )۔
-۱۹۸۸ بیینادئیءافو ارات یل واسرارالتتاو یل داراککس المعلمے علبنان -٦
ان جا لین ہسیوٹی فی الین :دا رالمحر وت ملبنان ۱۹۸۳ء۔
۸- نازن علاء الد ینعی بن ئھ بن ابرائیم البفد ادکی لباب الماویل فی معانی نز ل٠
کتابیات ۵ےا
دارالکتب| یت ءاہنان ۱۹۹۵ء۔
۹ رازی بتھرالد بنیئھ ین گر مفا جح الغیب(اتقی کی )ءداراککب نیت ولبنان۱۹۹۰۰ء-
-١ رشیدررضا ہتخیر القرآ ن اریم ( تی امنار )دارالمنار :لع ۱۳۷۵ھ-
۱- نشی ءابواقا سم جار ڈیو بعر اککشاف گن عفان لق یل ہی مصنی ابا یاھلی
مص ۱۹-۳ء۔
۳- قرٹیء اہو بدایڈرشھ بن ات الا صارکی ءا ام لا حکام القرآن دارانکنب امصکیتۃ ہروتء
لبنان بُخ۱۹۸۸ء_
اکا التران
۳۱- ائن الم ی ءا وش نک بداڈدالاشمیٹی ال گی ءاحکام القرآن دا لمح رت ملجنان مع جدید۔
0 6 -- ٥ -۳
یزںتٹگ
۵ این ماجہء ااوعبدایڈیشھ بن یز ید جن عپدانڈدالفزہ یی لکن این ماجہ-
٦ الودادہسلیمان بین اشحثأمعا نی من ا ی داوَد-
ے۱- اتد ء الو بدا ات بر یھ ب نل الشیما نی الڑعجی ءالسند-
۸- بفاری ہ اووھبدایڈشرشر بین اس اشیل ء الا اچ السندرمن احادیث رسول الس
وسند دایامہ-
۹۔ تتقی ءابوبکر این نین بن لی ءاسن اکب کی
٣۔ ترنری ای یھب نکی جائ الترذیی۔
۱۔ خیب لجریزی رو الماع۔
۳- زی ء جال الد من اش رحعبداللر ای بنصب الرای یت اعادیٹ الہدایۃ ىالہدایۃء
داراککب کی لبنان ۱۹۹۷ء
۳- مم بن تاج اش ری السا بوری ءت یت
۴٣۔ نال ءابوقبدالرش٠ن اص بن شیب لی رض ن الضسالی -
٦ےا گتابیات
تو حر مث
۵- ابن تہ لفافطہ اھب نکی بین جرالہسقلانی, ہن لباری شر جع الفاریء مکی تما یہہ
بروت ۱۹۹۲ء
-٦ خنطالی ءابوسلیمان ات ب نرہ تلم أسنن ءالط ای علب ۵۱۷۰ ۱۳بر ۱۹۳۳ء
ك- شوکالی ,ھب نکی بن مھ ہنی الا وطارشرح “کن الا خبارہمط یی شمصعلی ابا پلی ارہ
مراے۱۹ء-
(۸- شجھ ناصرالد بین بک ن تو ح می الالہاٰی لصل الا حاد یٹ الضعیوہ واللوضوے _
-(٥۹ طایلی ری ہم را الغا جع شر من کو :مصاع دارالشک رب روت ۱۹۹۲ء
-٠ فپووی ءگی الد ین ابو زکر یا سی بشرں سلم+داراککتب اکر ء بیروت ۱۹۹۵ء-
فہ وی اور کلام
۳۱۔ ای جج یق ادن ابوالعاں امھ ب نگپرایم بن ع بدالسلام بن عمبدرا وڈ فیبریء التا وی
رارالہبۓء رو ت لزان ۹۸ ۱۳ھ-
-٣۴ ورد یر اواب رکات اتد بن مھ بن اہ الش رب الصفخریلی اقرب السا تک ال ہب امام
الک دارالعارف :۱۳۹۲۷ و/ ۲ے۱۹ء-
٣ہ اب رخّدء ااوالوی رش بین اص بی نشم بن امھ الظرگھیء برای ا - وا ۃ ا مقتص ہشقن و
نین ٹج علی حھمعوضش, تج عادل ار عبرالودودءدارالگتب ١ تء بروتء لمنانء
۳۷۲ھْ۱۹۹۰ء۔
۴۳ ابن عا ہدنب این بن عمر ین عبدالح یھ بین ال شی علیہ راتا ری الدد ارہ
دا رالکنب اتکی علہنان ۱۹۹۲ء-
۵- اہن قدرامہ اہش برا جن ات جن ام بای ن قدامہء اعم بوخ جج راتا ہر ۰۹۴ء۔
-۹٣ ابع الام ء مھ کاو یئ 2 القد ےء - اگبریٰ الامر یی صصي
۵ھ۔
ے ۳ آفتاز انی ءسعداللد بن شر النقاصدہ عال الکتب. ببروت ۱۹۸۹ء۔
کتابیات رت
۸۔ مکی ہج ین اص بن ال وی یی الات اتی ا مسوماہ داراککنپ علیہ یروت
۳ء ۔-
۹ صاوگی باغتۃ الما ایک (اق رب السا ایک لی الش رح الص نل لقطب سید اجرالدردی4-
٭۰۔ تق رضاوکیء اوسف ال رضاوکی۔ فقہالجہاد: دراست منفا رط لا جکام رللسفیر نی ضوء الظرآن
والنی" شخ شالث :کت وحبہ ۔قاہر:۲۰۱۰ء-
-١ کاسالیٰءعلاء الد بین الوبگر ین مسحود بن امم الکاساٹی ء بدائعح الصنا کی تزجیب اش رائحء
وارالفکر بب روت ملہنازن ۱۹۹۷ء-
انس مرخیا لی ء بر ان الد بین اوا نی بنا یکر الہدا یش رح البدایت( حضرالقدوری)
کرت وتا رن نکر
۳- ابع ایر عزال دی وشن گی بن مھ الج رگیء اسد الفا بت ٹی مرف الصھا یت دارالشعب
القاہ ۹۰۰8 ۱۳س/ ۰ے۱۹ء۔
؟۴۔ ان تر الیافظ امم نکی ب نت ال ستقاا می ء الا صا بی ثی تھیزا اصحا ہہ ءادارۃالطبا الیم پا
النقاہ رو ہممصم_
۵- اب نی گپرالہر ااوگر لپسف بن ع برای بن شم القرھی الماگگیء الاستتحاب ڈیا اساء الاصجاب
برعاشیالاصابۃ-
۲٦ ایی م الوز یۃءزادالعاد نیٴ عدی تر التبادەدارعا م الفوائللنٹر والتو زی ال یاضلی۔
۹و/۲۰۱۸ء-
لقت
سے ۲ اہن اخ ءالنہا یت فی خر جب الیعد بیثہ داراحیاءالتراٹ العر بی بروت۔-
۸۔ این مشظورہ مان المرب
۹۔ اصفبا ٰء اوالقائم سن بن مر بن فقل اراغپء فروات نی خریب القرآنء
می ری ص ۱۳۲۳۔۔-
*۵- فیوزآ ادگیء مال دی یش القا موس الیط دارالفکگر ہی روتلبنان ۱۹۹۵ء۔
ےا کتابیات
مصن کی وہ مطبوععات ششک نکاحوال ہکتاب مُ لآ اے
-١ می سلموں ےتعاتقات اوران کےتقوقی
بے تقیقات اسلائی کے نی ماف
۳۔ انفاقی یعتل الشر ناش رم رکز یککتراسلائی پاش زی د ی-۲۵
٣ صححت دمرس اوراسلا لعل ات
۵- دورحاضرییش اسلام کےگمی تا ضے
۷٦ سیل رب۔وگوت ال الل رکا راس